جسم۔ بلا اختصار – Body |

جسم۔ بلا اختصار – Body

منجانب میری بیکر ایڈی



سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں:



عقل اور بدن کی اصطلاح کا لفظی مطلب خدا اور انسان ہے، کیونکہ انسان عقل کا اظہار ہے اور عقل کا مظہر عقل کا اوتار ہے۔ اس لئے انسان خدا کا جسم ہے اورایک خدا کے علاوہ اور کوئی نہیں۔ اس لئے جسم ہم آہنگ اور ابدی زندگی کے قانون کی حکمرانی اور قابو میں ہمیشہ تک رہتے ہوئے روحانی خیالات کا مجموعہ ہے۔ کامل جسم کا یہ فہم جسم کے عقیدے کو بچانے والا ہے اور کسی بھی یا ہر غلطی کو ٹھیک کرنے والا قانون ہے۔

جب جدید مفکرین نے چند ذہنی قوانین کا ادراک کرنا شروع کیا اور انہیں جسم کی شفا کے لئے لاگو کرنا شروع کیا تو یہ بہت اچھی بات محسوس کی گئی۔ یہ ذہنی تعلیم یہ تھی کہ انسان اپنے جسم کا خود خالق یا بنانے والا ہے، کہ وہ اپنے جسم کو خود اپنے خیالات کے وسیلہ تشکیل دیتا ہے، کہ وہ اپنے جسم کو اپنے خیالات کے وسیلہ بدل سکتا ہے، اور اسی بنا پر، اگر اْس نے اپنی غلط سوچ یا جہالت کے باعث بیمار جسم تشکیل دے دیا ہے، تو وہ درست سوچ کے وسیلہ اچھا جسم بھی تشکیل دے سکتا ہے ، کہ اپنی جہالت اور غیر ہم آہنگ سوچ کے وسیلہ وہ خدا کے اظہار کو روک سکتا ہے، اور اپنی سچی اور ہم آہنگ سوچ کے وسیلہ وہ خدا کو ظہور میں لا سکتا ہے۔

بیشک، یہ ادویات کے پرانے نظام کی نسبت بڑا جدید نظام ہے، لیکن یہ اْس کو زیادہ دیر تک مطمئن نہیں کر سکتا جو ساری سچائی کی خواہش رکھتا ہے اور سچائی کے علاوہ کچھ نہیں چاہتا۔ یہ جسم کو مخالفت اور لڑائی جھگڑے والی قوتوں کے لئے میدان جنگ بنا دیتا ہے، غلط سوچ کو نیچا کرتا ہے، صحیح سوچ کو تعمیر کرتا ہے؛ غلط سوچ سے بیماری پیدا کرواتا ہے، صحیح سوچ سے بیماری دور کرتا اور صحت یابی لاتا ہے، کیونکہ یہ تعلیم صرف ذاتی ذہنیت کی حالت کو تبدیل کرنے سے تعلق رکھتی ہے نہ کہ ہستی کی غیر متغیر حالت ، غیر متغیرہر جا موجود عقل سےتعلق رکھتی ہے۔ یہ پرانے طریقہ کار سے بہتر ہے، لیکن یہ ایک کٹھن طریقہ ہے جو اچھائی اور برائی کے مابین متواتر جنگ کا راستہ ہے، جو مشکل کام اور مشکوک نتائج کا راستہ ہے، کیونکہ یہ ایک کی بجائے دو طاقتوں سے تعلق رکھتا ہے۔

عملی طور پر تمام مابعد الطبعیاتی معلمین اتفاق کرتے ہیں کہ صرف ایک ہی حضوری ہے، اس لئے ایک ہی طاقت ہے، لیکن اگلے مرحلے میں وہ اس سے انکار کرتے ہیں، یعنی یہ کہ اس ایک طاقت کا مطلب ہے ایک سر گرمی۔ ہر جا موجود کا مطلب ہے خدا کی مکمل موجودگی، یعنی خدا ہر جگہ موجود ہے، ہر وقت موجود ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ خدا اور اْس کی سرگرمی سبھی یہیں ہے، پوشیدہ نہیں بلکہ نمودار، بے شکل نہیں بلکہ تشکیل شْدہ۔اس لئے یہ سمجھنا چاہئے کہ تشکیل شْدہ اتنا ہی کامل ہے جتنا بے شکل،آشکار اتنا ہی کامل ہے جتنا غیر آشکار، کیونکہ صرف ایک غیر متغیر خالق، ایک ہی سر گرمی، ایک ہی طاقت، ایک ہی کامل عقل ہے جو خود کا کامل مادا مہیا کرتی ہے، یہ منطقی طور پر سمجھتی ہے کہ سبھی تشکیل غیر متغیر اور ہمیشہ کے لئے کامل ہے۔

جسم خدا کا متجسد، خدا کی تخلیق اور تشکیل ہے۔ یہ خدا ہی ہے جو خود میں آتا ہے اور خود ہی آتا ہے، اور انسانی عقائد، آراء اور ذہنی نظریات خدا کو ظاہر نہیں کرتے، نہ ہی وہ اس ظہور کو پوشیدہ رکھتے یا روکتے ہیں۔ انسان کچھ خلق نہیں کرتا۔ وہ صرف اسے دیکھتا ہے جو ابدی ہے، اور اپنی تربیت کے مطابق اسے اچھا یا برا کہتا ہے۔

پولوس ہمیں بتاتا ہے کہ ہم خود سے متعلق کچھ بھی سوچنے کی اہلیت رکھتے ہیں، لیکن ہماری اہلیت خدا کی طرف سے ہے۔ہماری سوچنے کی لیاقت خدا کی جانب سے ہے اور ہمارے خیالات اور آراء کو تشکیل دینے کی صلاحیت ہماری جہالت ، ہماری عقیدے کی ثنویت ہے، لیکن ہماری خدا کو سمجھنے کی طاقت یا لیاقت خدا کے ساتھ ہی ہے۔ پھر اس بنیاد پر ہم دیکھتے ہیں کہ انسان کے غلط یا مسترد عقائد اور آراء اور غلط تشریحات کہیں بھی خدا کے مادے میں یا جسم میں حالات کو تخلیق یا پیدا نہیں کرتے۔غلط سوچ، جو حقیقتاً ذہنی افراتفری اور الجھن ہے، اْس میں تخلیق کی قوت نہیں ہے۔ یہ بیماری کے حالات پیدا نہیں کرتی۔ غلط سوچ خود، ذہنی الجھن اور افراتفری خود ایک حالت ہے، کیونکہ حالت پوری طرح اور مکمل طور پر ذاتی ذہنیت سے تعلق رکھتی ہے۔

مادے کی کوئی حالت نہیں ہے کیونکہ مادا خدا ہے۔ حالت کوئی ٹھوس چیز نہیں ہے جسے جسم میں بدی یا ایک جہالت کے رویے پر یقین کے وسیلہ سے تخلیق کیا گیا ہو۔ کالج کی عام کلاس میں یہ تعریف پیش کی گئی ہے: حالت سچائی کا وہ تصور ہے جو محدود اور عارضی ہوتا ہے۔یہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جسے محدود تصور نے تخلیق کیا ہو، بلکہ یہ خود محدود تصور ہے۔اس کی کہیں کوئی جگہ نہیں ہے ماسوائے افراتفری اور الجھن کے دائرے میں، یعنی آراء اور نتائج کا وہ مقام جس کی بنیاد جھوٹ کے احاطے پر ہو۔

غیر ہم آہنگ عقیدہ غیر ہم آہنگ حالت پیدا نہیں کرتا۔ اصل کمی ایمان کی کمی ہے۔ اصل بیماری ایمان کی بیماری ہے۔ اسی لئے جسم انسان کی تبدیلی انسانی سوچ کی تبدیلی دکھائی دیتی ہے۔ سادہ طور پر اس کا مطلب عقائد کی بیماری اور عیب دور ہٹ جاتے ہیں اور ہماری سوچ درست ہوتی اور سچائی کے سامنے حقیقی ٹھہرائی جاتی ہے، تاکہ ہمارے اولین مقصد پر ذہنی افراتفری اور الجھن کے بادل نہ چھا جائیں، اور ہم جسم کو ویسا ہی دیکھتے ہیں جیسا خدا اسے دیکھتا ہے اور جیسا کہ یہ ابدی طور پر ہے۔پھر یہ ہیکل ہمارے سامنے اس کی خوبصورتی اور جلال کے ساتھ، بغیر ہاتھوں سے تعمیر ہوئے کھڑی ہوتی ہے۔ہماری جہالت جو کام کرتی ہے وہ ہماری بصیرت یا چیزوں سے متعلق نظریات پر اثر انداز ہوتی ہے۔یہ ایسی کسی چیز کو تبدیل نہیں کرتی جو خدا نے خلق کی ہے۔

ہم کسی مادے کو ہماری ذاتی سوچ کے ذریعے تبدیل کرنے کا ذمہ نہیں لیتے۔ ہم صرف اپنی سوچ اور بصیرت کے درجے کے مطابق دیکھتے ہیں۔ والٹ وائٹمین نے کہا، ’’دنیا اْس شخص کے لئے ناہموار اور خستہ ہے جو خود ناہموار اور خستہ ہے‘‘، جس کا ذہنی دائرہ تاریک ہے۔ اگر کسی شخص کے خیالات جہالت اور تنگ نظری پر مبنی ہیں، تو اس سے اْس کی بصیرت دھند کے بادلوں میں تبدیل ہو جاتی ہے۔جب وہ ان بادلوں میں سے دیکھتا ہے تواْسے یہ دنیا، جسم ،اور تمام تر چیزیں تحریف شْدہ، بے اعتدال اور غلط نظر آتی ہیں۔

اگر آب و ہوا تاریک اور گھنی ہو تو ہم دیکھتے ضرور ہیں مگر بہت دھْندلا اور اْس کی کاملیت کاادراک نہیں کر پاتے۔ انسان اپنی ذہنی کوشش سے خدا کو ظہور میں نہیں لا تا اور نہ ہی اپنی غلط سوچ کے باعث خدا کا ظہور روک سکتا ہے۔ خدا ہے اور خدا ظاہر ہوتا ہے، اور کوئی تنگ نظر ذاتی سوچ کی قوت یا ذہنی کوشش خدا کے کام میں خلل یا رکاوٹ نہیں بنتی یا خدا کی تخلیق کی کاملیت کومسخ یا بگاڑتی نہیں۔ 

وہ واحد چیز جو میری سوچ پر انحصار کرتی ہے، وہ واحد چیز جو اس سے متاثر ہوتی ہے، وہ واحد چیز جو اِس پر منحصر ہے، وہ میری بصیرت ، میرا احساس ہے۔ ہوسکتا ہے کہ میں جسم کی سچائی سے ناآشنا ہوں، لیکن یہ خود جسم میں کوئی تبدیلی نہیں لاتا۔ یہ اب پورا اور مکمل ہے، اس لئے نہیں کہ میں ایسا سوچتا ہوں، بلکہ اس لئے کہ یہ خدا کا ظہور ہے۔ خدا کے ساتھ، خدا کی مانند، سوچنا جسم کی کاملیت دکھاتا ہے، لیکن جسم اتنا ہی کامل اب ہے جتنا میرے جاننے سے قبل کامل تھا۔ خدا کا مادااپنی کاملیت نہیں چھوڑتا محض اس لئے نہیں کہ میں اس کی کاملیت سے ناآشنا ہوں، نہ ہی یہ اس لئے کامل بنتا ہے کیونکہ میں سچائی سے واقف ہوں۔ اس کی کاملیت میری بصیرت کے درجے پر منحصر نہیں ہے۔ یہ ابدی طور پر کامل ہے کیونکہ یہ ابدی طور پر ویسی ہی ہے جیسا خدا ہے اور کہیں بھی اسے کوئی اور چیز بنانے والی کوئی قوت موجود نہیں ہے۔ اگر ہم اس کی جانب ذہنی دھْند، آراء، شکوک، خدشات، الجھن کے ساتھ دیکھتے ہیں تو ہم اس کی کاملیت کا ادراک نہیں کر سکتے، مگر اس سے جسم میں مزید کوئی تبدیلی نہیں آتی جیسے دھْند میں سے سورج کو دیکھنے سے سورج کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ 

ایسے بہت سے خیالات نے کہ زمین ہموار ہے زمین کو ہموار نہیں بنا یا، ہے نہ؟ یہ بس ایسی ہی رہی جیسی یہ تھی، اور صرف ایک چیز جو تبدیل ہوئی یا جو تبدیل ہو سکتی تھی، وہ اس سے متعلق انسان کے خیالات تھے۔ یقینا، جب تک وہ اس مقام پر نہیں پہنچا وہ اسی جہالت کو سچائی تصور کرتا رہا۔

ہم اکثر سوچ کے ذریعے جسم کے روحانی ہونے کے بارے میں سنتے ہیں۔یہ تعلیم جسم کو جسمانی یا مادی تسلیم کرتی ہے اور ذہنی کوشش کے وسیلہ مادے کو روح میں تبدیل کرنے کا عزم رکھتی ہے۔الٰہی سائنس، ہر جا موجود کی بنیاد پر، یہ تعلیم دیتی ہے کہ چونکہ صرف ایک ہی مادا ہے اور وہ مادا روح ہے، اس لئے کوئی مادی جسم نہیں ہے ۔جسم اب روح ہے۔ ’’اگر خدا ہی گھر نہ بنائے تو بنانے والے کی محنت عبث ہے۔‘‘ جب تک آپ اپنی ذہنی کوشش سے اپنے جسم کو روحانی بنانے یا جسم کو شفا دینے کی کوشش کرتے رہیں گے تب تک آپ صحت یابی تخلیق کرنے میں بے جا محنت کرتے رہیں گے، کیونکہ آپ ایسا کام کرنے میں خدا کے حصے کا کام سر انجام دینے کی کوشش کر رہے ہیں جو پہلے سے ہو چکا ہے۔ 

ہم کامل بنائی گئی کائنات میں رہتے ہیں۔ نہ صرف ہمارا جسم، بلکہ وہ سب کچھ جوبنایا گیا ہے ظاہری طور پر خدا کا جسم ہے اور اب کامل ہے۔ یہ ماننا کہ لامتناہی مادا کسی شخص کی جہالت پر مبنی ذہنی سرگرمی سے بد وضع کردیا گیا ہے، اور اسی سر گرمی کے وسیلہ اسے آزاد اور کامل بنایا جائے گا، اس کا مطلب ایک نہیں بلکہ دو قوتوں پر بھروسہ کرنا ہے۔ جسم میں کوئی حالت نہیں ہے۔ جسم میں کچھ بھی دوبارہ خلق ہونے یا ٹھیک ہونے یا شفا پانے والا نہیں ہے۔ تم سیدھے کھڑے ہو جاؤ اور خداوند کی نجات دیکھو۔آپ کے بولے گئے لفظ کو کاملیت کے اظہار کی ضرورت نہیں، کیونکہ کاملیت دیکھی اور اندیکھی ، بنائی گئی اور غیر تشکیل شْدہ ابدی حالت ہے، لیکن اسے آپ کے آشکار کی ضرورت ہے، کیونکہ کسی شخص کا آشکار ہونااور وسیع ہونا اور گہرا ہونا تب تک ہے جب تک وہ اس کاملیت کو سمجھتا ہے۔خدا کو ظہور میں لانے سے متعلق سوچنا بند کریں۔ خدا ابھی ظاہر ہے۔ خدا کا جلال اور کاملیت ہر جگہ اْس شخص کے لئے موجود ہے جس کے پاس یہ دیکھنے کے لئے آنکھیں ہیں۔

ہمیں جو کرنے کی ضرورت ہے، اور یہ ہمیں مصروف بھی رکھے گا، کہ ہم ایمانداری سے اور مسلسل خدا کی موجودگی کی حقیقت کو تسلیم کرنے میں ہماری سوچ کی تربیت کریں، اسے راست فیصلوں کا فیصلہ کرنے کی تربیت دیں، کہ خدا او ر صرف خدا کو دیکھیں، کہ خدا اور صرف خدا کو سوچیں۔ ہر جا موجود کو قبول کرنے کے بعد، اس پر قائم رہیں خواہ ظاہری حالت کچھ بھی دکھائی دیتی ہو۔خود کو سمجھاتے ہوئے ظاہری صورتوں یا علامات پر کبھی مت جائیں۔ اپنی توجہ کا مرکز عضو یا کاموں کو نہ بنائیں۔ لامحدود مادا، قوت ، ذہانت اور سر گرمی اپنی جگہ پر ہیں اور انہیں آپ کے مشوروں کی ضرورت نہیں۔ کامل جسم کو اپنے خیالات میں تیار کرنے کی کوشش ہر گز نہ کریں۔ جسم سے متعلق سوچنا بند یا اپنے نقطہ نظر سے اسے کامل تصور کرنے کی کوشش کرنا بند کریں۔جسم سے متعلق ہمارا سب سے بڑا نظریہ اس سے کم تر ہے جو جسم اصل میں ہے۔ ذہنی طور پر اسے بے مقصد جوڑنا بند کریں۔ اسے آزاد کریں اور جانے دیں۔ بس یہ جان لیں کہ یہ خدا کا جسم ہے اور کہ خدا اس لمحہ میں اور ہر لمحے اسے تشکیل دے رہا ہے یا اپنے کلام، اپنے الٰہی خیال کے مطابق اسے تیار کررہا ہے۔ یسوع نے لعذر کو خدا کا لازوال اظہار تصور کیا۔ خدا کا وہ لازوال اور کامل اظہار آپ ہیں۔