ایک محبت کرنے والا خدا دنیا میں اتنی بدی کی اجازت کیسے دے سکتا ہے؟ |

ایک محبت کرنے والا خدا دنیا میں اتنی بدی کی اجازت کیسے دے سکتا ہے؟


ایک بہترسوال یہ ہے: ’’کس قسم کا خدا دنیا میں اتنی بدی کی اجازت دے گا؟‘‘ ایک ظالم خدا یا غلطی کرنے والا؟ یقیناً ایک انسان کا تخلیق کار خدا۔ میری ایڈی بیکر خدا کیلئے سات مترادف الفاظ مہیا کرتی ہے جو اس ’’آسمان پر بہت بڑے آدمی‘‘ کے تصور کی غلط فہمی کے خیال پر جانے میں مدد دیتے ہیں: سوچ، اصول، روح، جان، زندگی، سچائی اور محبت۔ یہ سب واحد شکل میں مہیا کئے گئے ہیں اور یہ لامحدود ہیں جیسے کہ خدا واحد اور لا محدود ہے۔ 

جیسا کہ، ریاضی کے اصول میں غلطی کی کوئی گنجائش نہیں اسی طرح بدی کی بھی کوئی گنجائش نہیں۔ کسی غلطی کے لئے کیا آپ اصول کو موردِ الزام ٹھہرائیں گے؟ اس سوال پر صرف شدہ وقت کہ اصول نے غلطی کی اجازت کیوں دی وقت کا ضیاع ہے! تصحیح کرنے کے لئے اصول کو لاگو کرنے کی بجائے جتنازیادہ وقت آپ غلطی کرنے میں لگائیں گے اتنی ہی زیادہ یہ غلطی سر زد ہوگی! خدا کی شریعت کے برعکس جب گناہ اور دنیاوی بیماری کو غیر قانونی شمار کیا جاتا ہے تو ہم اس پر قابو پا سکتے ہیں۔ 

کرسچن سائنس کیا ہے؟

کرسچن سائنس کی درسی کتاب ’سائنس اور صحت صحیفوں کی کنجی کے ساتھ‘ میں میری بیکر ایڈی کے الفاظ میں ، ہم یہ پڑھتے ہیں: ’’کرسچن سائنس کی اصطلاح مصنف کی جانب سے الٰہی شفا کے سائنسی نظام کو تجویز کرنے کیلئے متعارف کی گئی تھی۔

یہ مکاشفہ دو حصوں پر مبنی ہے:

1۔ ذہنی شفا کی الٰہی سائنس کی دریافت ، بذریعہ صحیفوں کے روحانی فہم اور تسلی دینے والے کی تعلیم کے وسیلہ، جیسا کہ مالک کی جانب سے وعدہ کیا گیا ۔ 

2۔ موجودہ اظہار کی بدولت، اس بات کا ثبوت کہ یسوع کے نام نہاد معجزات اب ختم ہونے والی تقدیر ازل سے خصوصاً کوئی تعلق نہیں رکھتے تھے، بلکہ یہ ہمیشہ سے نافذ الٰہی اصول کو بیان کرتے تھے۔ اس اصول کا نفاذ سائنسی ترتیب کی ابدیت اور شخصی تسلسل کی طرف اشارہ دیتا ہے۔

’’کرسچن سائنس محض اسی کی تعلیم دیتی ہے جو روحانی اور الٰہی ہے نہ کہ جو انسانی ہے۔ کرسچن سائنس اچوک اور الٰہی ہے؛ چیزوں سے متعلق انسانی فہم غلط ہوتا ہے کیونکہ یہ انسانی ہے۔‘‘

اگرچہ ایسا استعمال ہوتا ہے، کرسچن سائنس کوئی جماعت یا پیروکاروں کا گروہ نہیں ہے، اور نہ ہی مسیح کے پہلے چرچ، بوسٹن ایم اے میں سائنسدان کے نام جیسا کوئی تجارتی نشان ہے۔ 

’’کرسچن سائنس کا خدا عالمگیر ، ابدی اور الٰہی محبت ہے جو بدلتا نہیں اور بدی، بیماری نہ ہی موت کا موجب بنتاہے۔‘‘ جیسے کہ ہم اسے سمجھتے ہیں، کرسچن سائنس میں کائنات کا اصول(روحانی) شامل ہے ، اور اسی لئے اس کا نفاذ کہیں سے بھی، کوئی بھی کر سکتا ہے جو یسوع مسیح کی تعلیم میں یکساں ہے، جو تمام اسرائیلیوں میں سے بڑا ایمان رکھنے والے رومی صوبے دار کی حواصلہ افزائی کرتا ہے، اور جو، اچھے سامری کی تمثیل میں، خود کار راستباز کاہن اور لاوی سے کہیں زیادہ ایک کمتر سامری کا اظہار کرتا ہے۔

’’خدا آدمیوں کا طرفدار نہیں۔‘‘اعمال

آپ آزاد کیوں ہیں؟

مسز ایڈی نے واضح کیا کہ کرسچن سائنس الٰہی ہے نہ کہ انسانی۔ اس لئے اسے انسانی تنظیم کے طور پر پابند نہیں کیا جاسکتا۔ اس نے چرچ کے لئے شفائیہ گاڑی ہونے ، نہ کہ کاروباری گاڑی ہونے کا تصور پیش کیا۔ اس نے یہ پہچانا کہ ایک طاقتور، مرکزی تنظیم الہام کا گلا گھونٹ دیتی ہے اور اس لئے یہ شفائیہ ہونی چاہئے۔ ہم نے بھی اس حقیقت کو جانا۔ ہماری آزادی نے ایک قوت حیات کی ترغیب دی ، اگر ہم بوسٹن تنظیم کا ایک ذیلی چرچ بن کر رہتے تو یہ ممکن نہ ہوتا۔ 

کیا سائنٹولو جی کرسچن سائنس کی مانند ہے؟

دونوں ناموں میں واحد مماثلت سائنس ہی ہے۔ ذیل میں چند کارگر امتیازات ہیں

1 ۔ کرسچن سائنس کی دریافت اور قیام میری بیکر ایڈی نے کیا تھا؛ سائنٹولوجی کا قیام ایل رون ہبرڈ نے کیاتھا۔

2 ۔ مسز ایڈی نے مکاشفہ کی بدولت کرسچن سائنس تک پہنچ حاصل کی اور اسے انسانی نہیں بلکہ الہامی قرار دیا۔ اس نے دعویٰ کیا کہ بائبل اس مکاشفہ کا بنیادی حوالہ ہے؛ مسٹر ہبرڈاپنی فہم اور سوجھ بوجھ سے ڈایانیٹکس تک پہنچا، جو مشقوں اور خیالات کا ایک سیٹ ہے: وہ کسی خاص مذہبی تاثر کا دعویٰ نہیں کرتا۔

3 ۔ مسز ایڈی نے طلبہ کے لئے درسی کتاب ’سائنس اور صحت صحیفوں کی کنجی کے ساتھ‘ کے مطالعہ کے ساتھ ساتھ بائبل کے مطالعہ کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا؛ مسٹر ہبرڈ نے بائبل کے حوالے سے ایسی کسی بات پر زور نہیں دیا۔

4 ۔ مسز ایڈی نے یسوع مسیح کی بیداغ پیدائش، زندگی، شفا اور تعلیم، دکھ اور آخر میں جی اٹھنے کو اعلیٰ مقام بخشا اور بدرجہ غائت خط میں اور روح میں کرسچن سائنس کی مشق کے ہر پہلو کو متاثر کیا خصوصاً درسی کتاب کے دوسرے باب’’کفارہ اور یوخرست‘‘پر غور کریں؛ مسٹر ہبرڈ؟ ہم ایمانداری سے قبول کرتے ہیں کہ ہم اس بارے کچھ نہیں جانتے، لیکن اس کے ہلکے سے ثبوت کی سرسری سی جھلک سائینٹولوجی کی ویب سائٹوں میں نظر آتی ہے۔ 

طبی مدد حاصل کرنے سے متعلق آپ کا نقطہ نظر کیا ہے؟

کھانے اور سونے کے علاوہ طبی مدد لینے میں کوئی گناہ نہیں۔ اہم نقطہ یہ ہے کہ ہم جو کچھ بھی کرتے ہیں اس میں خدا کو نہایت اعلیٰ تسلیم کرنے کی بھرپور کوشش کریں۔ہمارا یقین ہے، خصوصاً بچوں سے متعلقہ معاملات میں، کہ اگر کرسچن سائنس کے معالجے میں بہت ناگوار جسمانی مسئلہ حل نہ ہو، تو طبی ماہر سے مدد لینا عقلمندی ہوگی۔

کرسچن سائنس کے معالجے میں، پہلا مرحلہ خوف کی حاجت رواکرناہے نہ ایمان کو آزمانا ہے۔ ہمارا خدا ایک محبت بھرا خدا ہے، وہ ہمیں یتیم کبھی نہیں چھوڑتا، اور اس میں ڈاکٹر کا دفتر یا ہسپتال بھی شامل ہیں۔

اگر طب اس قدر اعلیٰ درجے کی ہے تو کرسچن سائنس کیوں استعمال کی جائے؟

ہماری ویب سائٹ میں ترتیب دی گئی گواہیوں کو دیکھیں۔ طب کی طرف سے ’’لاعلاج‘‘ قرار دیئے جانے کے باوجود کرسچن سائنس کے معالجے نے شفا فراہم کی۔ کرسچن سائنس اس سے کہیں زیادہ موثر اور مکمل ہے کیونکہ یہ نہ صرف علامات کو تلف کرتی ہے بلکہ کسی بھی معاملے سے متعلقہ پوچھیدہ خدشات کو بھی رفع کرتی ہے۔ کرسچن سائنس کی شفا ’’اعمانوئیل یا ’خدا ہمارے ساتھ ہے‘ کی نشانی ہے، جو ایک الٰہی تاثر ہے‘‘ (سائنس اور صحت)، اور اس طرح یہ صریح ہے۔

تاہم، اگر آپ کسی سے کرسچن سائنس کے معالجے سے متعلق پوچھ رہے ہیں تو کسی چیز کو فرض نہ کریں۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ جس سے آپ پوچھ رہے ہیں آپ اس کے اخلاقی وقار پر بھروسہ کرسکتے ہیں۔ مسز ایڈی نہایت پر زور انداز میں یہ نقطہ واضح کرتی ہیں: ’’کسی چیچک زدہ ڈاکٹر سے علاج کروانا قدرے بہتر ہے بجائے کہ آپ کسی ایسے شخص سے ذہنی علاج کروائیں جو الٰہی سائنس کی ضروریات کی نافرمانی کرتا ہو۔‘‘ (سائنس اور صحت)

کوئی تنظیم ایسی فرمانبرداری کی تصدیق نہیں کر سکتی۔

کیا خود کو بیمار ظاہر نہ کرنا بے وقوفی نہیں جبکہ دلائل واضح کرتے ہوں کہ آپ بیمار ہیں؟

جی ہاں، یہ بیوقوفی ہے، اور خطرناک بھی ہے کہ جب آپ بیمار ہوں اور ظاہر کریں کہ آپ بیمار نہیں ہیں۔ مگر کرسچن سائنس کی درست مشق دکھاوے سے کہیں بڑھ کر ہے۔ یہ ایک غیر متغیر اصول پرمسئلے کے حل ہونے تک قائم رہنا ہے، جیسے کہ ایک ریاضی دان کسی اصول پر ڈٹا رہتا ہے جب وہ جانتا ہے کہ یہی سچ ہے۔ایک ریاضی دان یہ قبول کرنے سے نہیں ڈرتا کہ اس نے ابھی مسئلے کا حل نہیں نکالا، اسی طرح ایک کرسچن سائنسدان کو بھی ،یوں کہئے کہ، ’’جھوٹ سے متعلق سچ بولنے‘‘ سے نہیں ڈرنا چاہئے۔ 

مسز ایڈی نے کہا، ’’اگر آپ کہیں کہ، ’میں بیمارہوں‘ تو آپ قصور وار ہونے کی التجا کرتے ہیں۔‘‘ لیکن وہ کسی شخص کے اندر خیالات کے ساتھ ذہنی جنگ کا حوالہ دے رہی تھیں، نہ کہ مبصرین کی دنیا میں عملی مشق کا حوالہ دے رہی تھیں جو شاید کرسچن سائنس کے کاموں سے متعلق ناواقف ہوں۔ آپ کے لئے فکر مند رہنے والی روح کے ساتھ کچھ غلط چل رہا ہو تو اس سے انکار کرنا خوف کو بڑھاوا دیتا ہے، اور یہ کوئی سائنس نہیں ہے کیونکہ یہ محبت نہیں ہے!

کرسچن سائنس میں جب مجھے کو مسئلہ در پیش ہو تو کیا مجھے شرمندگی محسوس کرنی چاہئے یا ڈکٹر کے پاس جانا چاہئے؟

’’کرسچن سائنس کا دل ،جان اور بنیادی حصہ محبت ہے۔ ‘‘سائنس اور صحت

کرسچن سائنس کاصرف حرامی پن ہی آپ کو شرمندگی کا احساس دلائے گا۔ شرمندگی دلانا جھوٹے نبیوں کا ایک وسیلہ تھا جس سے وہ افراد کو قابو میں کرتے ہیں۔ مذہبی تنظیمیں لوگوں کے ایمان کو قابو میں کرتی ہیں تاکہ اپنے ایمانی نظام کا خاص طور پر جواز پیش کر سکیں۔ تھامس جیفرسن کیساتھ ہمیں ’’خدا کے مذبح کے سامنے ہر انسان کے دماغ پر ہر قسم کے ظلم کیلئے ابدی دشمنی کی قسم کھانی‘‘ چاہئے۔ 

کسی بھی کرسچن سائنسدان کے لئے ڈاکٹر کے پاس جانے یا دوا لینے یا کسی بھی قسم کے مسئلے کے لئے شرمندگی سے دوچار رہنا مکروہ ہے۔ محض انسانی مرضی ہی ایسا بگاڑ پیدا کر سکتی ہے۔ کرسچن سائنس کوئی ایمانی نظام نہیں ہے۔ کوئی بھی ادارہ یا شخص جو کسی اور پراسے زبردستی لاگو کرنے کی کوشش کرتا ہے وہ کائنات کے قوانین سے کھلواڑ کررہا ہے۔ 

’’انسانی حقوق پر حملہ تب ہوتا ہے جب الٰہی ترتیب اس میں مداخلت کرتی ہے، اور اس جرم کی بدولت ذہنی مخل الٰہی سزا کا موجب بنتا ہے۔‘‘سائنس اور صحت

کرسچن سائنس کو دیگر ذہنی طریقہ جات سے کیا چیز منفرد رکھتی ہے؟ 

کتب خانے اپنی مدد آپ سے متعلق کتابوں سے بھرے پڑے ہیں جو فکری وسائل کو قارئین کے تجربات کے فروغ کے لئے استعمال کرتی ہیں۔ بیشک، وہ کسی حد تک کار آمد ہوتی ہیں اور خود اعتمادی کو فروغ دیتی ہیں، وگرنہ انہیں پذیرائی نہیں ملے گی۔ تاہم درست کرسچن سائنس کی مشق میں اس کے اثر کا ہر مظہر ایک فرد کو واحد ذہانت،خدا کی قربت اور محبت کا مضبوط فہم دیتا ہے۔ اور یہ اس شخص کو اس ذہانت کے لئے مزید آزاد ، کمتر نہیں، اورخداکے لئے مزید مقروض بنا دیتا ہے۔ 

وضا حت کے لئے، اگر آپ کو بھیڑ والے علاقے میں پارکنگ کے لئے جگہ چاہئے، فہم کے بہت سے نظام تصور اور مثبت انتظار کی تکنیک مہیا کرتے ہیں۔ جب معجزاتی طور پر ایک کامل جگہ سامنے آتی ہے، تو آپ اپنی قابلیت سے خوش ہو جاتے ہیں۔ درست کرسچن سائنس میں آپ اپنے مقصد پر سوال اٹھائیں گے کہ کیا یہ خود غرضی یا ضد تو نہیں ۔ صرف تب آپ اس فہم سے توقع کریں گے ، جو سب جانتا ہے ، کہ آپ کے لئے راستہ کھولے۔ اگر پارکنگ کے لئے جگہ مل جائے تو یہ اس کی محبت کا اعتراف اور اس کی حکمرانی کی شناخت ہے، ’’سب چیزیں مل کر خدا سے محبت رکھنے والوں کے لئے بھلائی پیدا کرتی ہیں۔‘‘ (مقدس پولوس)

غور کریں کہ پہلے معاملے میں، شاید آپ کو وہ مل جائے جو آپ چاہتے ہیں، لیکن ہو سکتا ہے کہ چند غیر متوقع حالات کی بدولت یہ آپ کے لئے بہترین نہ ہو۔ دوسرے معاملے میں، یوں کہا جائے کہ پتوا ر پر لامحدود ذہانت کے ساتھ، آپ کی ضرورت محض تبھی پوری کی جائے گی اگر یہ آپ کے لئے بہترین ہے تو۔ اس وجہ سے، یہ طرز عمل محفوظ ہے جب کہ پہلے معاملے میں آپ کو محض وہ میسر آتا ہے جو آپ چاہتے ہیں لیکن غیر متوقع چیزوں سے حفاظت نہیں ملتی۔

ہم اس درست کرسچن سائنس کے طرز عمل کو رستہ دکھانے والے، یسوع مسیح کے ساتھ مماثلت رکھتا ہوا دیکھتے ہیں۔ 

آپ کا چرچ الگ کیسے ہے؟

بہت سے لوگوں نے دریافت کیا ہے کہ پلین فیلڈ چرچ بوسٹن چرچ، متعلقہ چرچوں کی شاخ، سے مختلف کیسے ہے۔ اس مضمون کا مقصد مزید اہم امتیازات کو اْجاگر کرنا ہے۔

کرسچن سائنس کی مشق میں یہ امتیازات ان لوگوں کے لئے عمل کرنے کا پیغام ہوگا جو مسز ایڈی کی خالص سائنس کو پسند کرتے ہیں۔ان امتیازات کو درج کرنا موجودہ دور کے لوگوں کے لئے فائدہ مند ہے اور یہ آئندہ نسلوں کے لئے بھی مفید ہے۔ ’’گھسنے والی بدیاں‘‘ بوسٹن تنظیم میں گھس آئیں کیونکہ وہ بدی کے کاموں سے آگاہ اور ہوشیار نہیں تھے۔ اگر ہم ہوشیار نہیں رہیں گے تو بدی، غلطی، اور ’’انسانی خیال‘‘ دوبارہ گھس آئیں گے اور کرسچن سائنس کو تباہ کرنے کی کوشش کریں گے۔

1۔ ہم میری بیکر ایڈی کے جاری کردہ مینوئیل کے 88ویں شمارے، آخری شمارے کو استعمال کرتے ہیں۔

2۔ ہم خدا کو جوابدہ ہے بوسٹن میں بورڈ آف ڈائریکٹر کو نہیں۔ جو کچھ بھی ہم کرتے ہیں ہم سمجھتے ہیں کہ خدا اس کی منظوری دیتا ہے یا نہیں ، اور پھر اگر مسز ایڈی اس کی منظوری دے تو یہ کیا جاتا ہے۔ 

3۔ ہم ہمارے اپنے اسباق تحریر کرتے اور اپنا رسالہ شائع کرتے ہیں۔ اس کے لئے مستقل اثبات کی ضرورت ہے۔ 

4۔ ہم روزانہ دیکھتے ہیں، جیسے مسز ایڈی کے گھر کیا جاتا تھا۔ 

5۔ ہم ایک روحانی تنظیم کو برقرار رکھنے کی بھرپور تگ و دو کرتے ہیں۔ کام کرنے کے لئے سخت قوانین سازی نہیں کی جاتی۔ جب کسی کے پاس اچھا نظریہ ہو تا ہے تو فیصلے جلدی لے لئے جاتے ہیں۔ 

6۔ ابتدائی کارکنان کی تحریروں کا مطالعہ کرنے کے لئے یہاں یہ دستیاب ہیں۔ یہاں کوئی ’’غیر قانونی‘‘ادب نہیں، کوئی آپ کو کہنے والا نہیں کہ فلاں چیز پڑھیں یا فلاں نہ پڑھیں۔

7۔ بوسٹن تنظیم میں جماعتی ہدایات دس دن بعد ہوتی ہیں اور و ہ محض کاغذات میں۔ پلین فیلڈ چرچ میں ہدایات کا تبادلہ روبرو اور متواتر کیا جاتا ہے؛ یہ محض دس دن کے لئے نہیں ہوتا۔ 

8۔ ہم منفرد ہیں ۔ ہم صرف میری بیکر ایڈی کی قیادت کی پیروی کرتے ہیں۔ اسی پر ہماری توجہ مرکوز رہتی ہے۔ ہم امتیازات کی بات اس لئے کر رہے کیونکہ لوگوں نے ہم سے یہ پوچھا ہے۔

9۔ میری لینڈ سے: اس چرچ میں مجھے ذمہ داری کا بہت زیادہ احسا س ہوا جو دیگر چرچوں میں نہیں ملتا۔ وہاں محض اسباق کو پڑھنے اور ہر اتوار کو گرجا گھر جانا ہی اہم تھا؛ اور کوئی کام نہیں کیا جاتا تھا۔ لیکن یہاں ، ہم سے روزانہ کام کرنے کی توقع رکھی جاتی ہے۔ اسی لئے ہماری گواہیوں والی مجلس خاصی منفرد ہوتی ہے، کیونکہ جو کچھ ہم سیکھتے رہیں ہیں اور جس کی ہم مشق کرتے رہے ہیں اور اس کے نتائج کو ہم دوسروں کے ساتھ بانٹنے کے قابل ہوتے ہیں۔دوسرے چرچ میں، گواہیوں کی مجلس بالکل الْٹ ہوتی ہے کیونکہ کسی کے پاس کچھ بھی کہنے کو نہیں ہوتا کیونکہ کوئی بھی کچھ نہیں کررہا تھا۔ اور اس ذمہ داری کے ساتھ خدا کی قدرت کا بڑا احساس آتا ہے، کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ہمیشہ کچھ نہ کچھ کیا جاسکتا ہے، ہمیں یہاں بیٹھنا اور خواہ غلط ہی ہو اسے حاصل کر لینا ہے، ہم اس کے لئے کچھ نہ کچھ ضرور کر سکتے ہیں۔ 

10۔ جرمنی سے۔یہاں پلین فیلڈ چرچ میں محض یہ کہنے کہ ، ’’خدا محبت ہے‘‘، اور رجائیت پسندی کے رویے کے ساتھ ہر چیز پر بے جا تامل کرتے رہنے کی بجائے غلطی کو سامنے لایا جاتا ہے او ر پھر سچائی اور محبت کو اس میں سے ابھرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ یہاں ہمیں غلطی کو سامنے لانا، اس پر غور کرنا اور پھر اسے ٹھیک کرنا سکھایا جاتا ہے۔

11۔ کیلیفورنیا سے۔ ذیلی چرچوں میں ہمیشہ لطافت تھی، اور ہر چیزمحض خوشگوار اور اچھی تھی، لیکن پلین فیلڈ چرچ میں سب کچھ حقیقی ہے۔ آپ کو یہاں بہت ٹھوس سچائی ملے گی۔ وہاں موجود لطافت میں گناہوں کا انبار پوشیدہ ہوگا۔ ہم ایسی چیزوں کو ٹھیک کرنے کے لئے باہر لاتے ہیں۔ 

12۔ جارجیا سے۔ تنظیم میں، کوئی بھی ان اخلاقی تبدیلیوں سے متعلق بات نہیں کرتا تھا جو شفا سے تعلق رکھتی ہیں۔ کوئی بھی کسی کے خود غرض ہونے، یا متکبر ہونے یا اس قسم کی کوئی بات نہیں کرتا تھا۔ میں نے کبھی اس قسم کی کوئی بات نہیں سنی، کسی پیشہ ور معالج نے کسی ایسی چیز کا ذکر نہیں کیا جس پر مجھے خود کام کرنے کی ضرورت تھی۔ ہمیشہ یہی ہوتا تھا کہ، ’’محبت کو اس کا کام کرنے دیں۔‘‘ لیکن کچھ ایسی چیزیں ہیں جن کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ مسز ایڈی کرسچن سائنس کی اس شفا سے متعلق بات کرتی ہیں جو کردار سازی سے بھی تعلق رکھتی ہے، نہ کہ محض سکون پانے سے تعلق رکھتی ہے۔ اس لئے یہ سوچنا نہایت خطرناک ہے کہ ، ’’میں مسیحی سائنسدان ہوں اس لئے سب کچھ ٹھیک ہے‘‘، جبکہ کچھ بھی ٹھیک نہ ہو۔ 

13۔ کیلیفورنیا سے۔ میری ماں نے مجھے پلین فیلڈ کے بارے میں بتایا۔ انہوں نے مجھے پلین فیلڈ چرچ کے رسالے کی ایک کاپی دی، اور میں نے وہ پڑھنا شروع کی، اور میں نے دیکھا کہ اس میں کوئی شرمندگی والی چیز نہیں تھی۔ دوسرے چرچ میں مَیں ہمیشہ شرمندگی محسوس کرتا تھا، لیکن یہاں نہیں۔ 

14۔ پینسیلوینیا سے۔ اس چرچ میں حیوانی مقناطیسیت سے متعلق تعلیمات بہت واضح ہیں۔ اس سے قبل جس مواد کا میں نے مطالعہ کیا تھا وہ اس قدر واضح نہیں تھا، یہ بس بیچ راستے میں ہی تھا۔ یہاں آپ بیچ راستے میں نہیں رہتے اور یہ بہت اہم بات ہے۔ 

15۔ جرمنی سے۔ ایک پلین فیلڈ کے پیشہ ور معالج کے ساتھ کام کرتے ہوئے، مجھے ہمیشہ کوئی نہ کوئی کام کرنے اور اس پر غور کرنے کوکچھ نہ کچھ ملا۔آپ کو اس کے ساتھ وابستگی رہتی ہے، یہ ایک جماعت میں ہدایات کے تسلسل کی مانند ہے۔

16۔ جارجیا سے۔ پلین فیلڈ خدا کو پہلے نمبر پر رکھنے کی اہمیت پر زور دیتا ہے، خدا کو پہلا نمبر پر ہونے چاہئے۔ میں نے ہمیشہ صبح کے وقت پہلا کام سبق پڑھنے والا نہیں کیا، شاید میں کچھ عرصے بعد ایسا کروں گا، یا اس کا کچھ حصہ کروں گا۔ لیکن یہاں، پہلے نمبر پر خدا ہے؛ ہمیں اسے پہلے نمبر پر رکھنا چاہئے، ، پھر جو آپ سیکھ رہے ہیں اس کا عملی جوہر۔ آپ کے پورے دن میں یہ چھوٹی چھوٹی عملی چیزیں حقیقتاً زندگی تبدیل کرنے والی ہیں،یعنی اس سائنس کو اسی انداز سے عمل میں لانا جیسے اسے لانا چاہئے۔ 

17۔ ورجینیا سے۔اس چرچ سے متعلق ایک چیز بہت تازہ کاری ہے کہ ہر چیز کھلی اور ایمانداری سے حقیقی ہے، ہر کوئی بات بتا سکتا ہے، کوئی راز نہیں ہیں اور ہر کسی کی کہی ہوئی بات اور تجربات سے ہر کوئی فائدہ اٹھاتا ہے۔اس میں کوئی تکبر شامل نہیں ہوتا۔ آپ جانتے ہیں جب کوئی کسی چیز سے اکتا جاتا ہے، جب وہ اس سے متعلق بات کر سکتے ہیں اور دیکھ سکتے ہیں کہ یہ ایک غلطی تھی، تو یہ ان کا نہیں رہتا۔ 

18۔ نیو یارک سے۔ پلین فیلڈ چرچ مالیاتی اعتبار سے اپنے اخراجات کے انتظام کا خود ذمہ دار ہے۔ بوسٹن چرچ خود کو دیوالیہ کر رہا تھا، اور وہ یہ تسلیم بھی نہیں کرتے تھے کہ انہوں نے کچھ غلط کیا تھا۔