رالف بی سپینسر کی جانب سے |

رالف بی سپینسر کی جانب سے

انسان کیا ہے؟

آج کے ماہر طبعیات بیان کرتے ہیں کہ مادا، بشمول انسانی جسم، ایٹم دے بنا ہے اور ایٹم بڑے پیمانے پر پروٹونز، نیوٹرونز، الیکٹرونز اور خلا سے بنا ہے۔بہت سے ماہر طعبیات یہ بھی کہتے ہیں کہ پروٹونز، نیٹرونز اور الیکٹرونز کوئی مادی مواد نئیں رکھتے بلکہ صرف مقناطیسی قوت پر مشتمل ہیں۔

پچاس سال قبل موجدوں اور اْن کی ایجادات سے متعلق بات کرنے کا رجحان عام تھا۔ آج یہاں بڑی دریافتوں سے متعلق بات کرنے کا رجحان ہے، اگرچہ بہت سے لوگ یہ دیکھنے آ رہے ہیں کہ یہاں ایک ابدی اصول اور ایک لامتناہی ذہانت سب کے لئے میسر ہے۔

اگر اِس تہذیب کو قائم رہنا اور ترقی کرنی ہے، تو اِس کے لئے اْس ہستی کی واضح سمجھ حاصل کرنا ضروری ہوگا جسے انسان کہا جاتا ہے۔

دیباچہ

بلا شبہ دو ہزار سالہ تاریخ کی عظیم ترین دریافت 4فروری 1866 میں رونما ہوئی، جب نیو انگلینڈ کی ایک جزوی طور پر معزورخاتون نے خدا کی روح کو شفائیہ حضوری کے طور پر پہنچاننے کی بدولت شفا پائی تھی۔درد اور فالج سے اْس کی شفا یابی اْس کے دوستوں کے درمیان حیرانگی کا نہایت بڑا نمونہ بننے کا سبب بنی۔تب وہ بہت غیر واضح طور پر جانتی تھی کہ یہ کیسے مکمل ہوئی، مگر فوراً ہی اْس نے جو کچھ ہوا تھا اْسکی مکمل سمجھ پانے اور اِس سمجھ کو دوسروں تک پہنچانے کے لئے اپنی زندگی وقف کردی۔بعد ازیں اْس کا نام میری بیکر ایڈی ہوا، اور اْس کی حیران کن شفا مسیحت کے روحانی اصول کی دریافت ثابت ہوئی، جو محض بدن کو شفا نہیں دیتی بلکہ زندگی کی اونچی بنیادوں پر منظر اور زندگی کے اصلی مفہوم کو تبدیل کرتی ہے۔

آج دنیا اْن لوگوں کے جو مانتے ہیں کہ خدا نہیں ہے اور اْن لوگوں کے مابین تقسیم ہوچکی ہے جو مانتے ہیں کہ انہیں اْس کی عبادت چرچ سروس، عقیدے یا ایمان کی خاص شکل کی بدولت کرنی چاہئے۔مگر چند لوگ ایسے بھی ہیں جو مانتے ہیں کہ انہیں خدا کا روح اپنے دلوں اور ذہنوں، اْن کی روزمرہ کی زندگی میں رکھنا چاہئے۔ مسز ایڈی بعد والوں سے متاثر ہوئیں، اور اْنہوں نے اپنی زندگی کے باقی پینتالیس برس اِس میں اور دوسروں کو اِس شفائیہ اصول، جسے بڑی روح یا خدا یا جو ہماری مرضی ہو کہا جاتا ہے، کو دوسروں تک ممکنہ طور پر پہنچانے میں لگا دئیے۔

یہ چھوٹی سی کتاب متعدد حیرت انگیز شفا یابیوں میں سے کچھ کو اکٹھا کرتی ہے جسے وہ ایک خدا اور انسان کے ساتھ اس کے تعلقات کے بارے میں آگاہی کے ذریعے حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔ ایسی معجزانہ شفا یابی شاید ان لوگوں کے لئے بڑی کہانیوں کی طرح معلوم ہوسکتی ہے جنھوں نے ابھی تک اِس اصول کونہیں پایا ۔ اگرچہ مسز ایڈی نے بعد میں اپنی دریافت کو وسیع پیمانے پر بڑھانے کے لئے ایک چرچ قائم کیا ، لیکن وہ جانتی تھیں کہ چرچ کی ضرورت نہیں تھی ، بلکہ محض ایک موقع تھا ، بھوکے دل کے لئے خدا کو ڈھونڈنے کے لئے ، اور خدا کی چیزوں پر زیادہ سمجھداری کے ساتھ غور کرنے کا طریقہ سیکھنے کی ایک اور راہ تھا۔ اگر کافی لوگوں کو یہ دریافت کرنا پڑے تو مذہبی تجدید کا آغاز ہوگا۔ اس دریافت کی بنیادی روح نے یسوع ناصری پر مکمل طور پر حکومت کی ، اور اس نے قدیم زمانے کے انبیاء کو متاثر کیا ، اور ان عجیب کاموں کو انجام دینے میں ان کی مدد کی جو انسانی ذہن کے لئے سمجھنا مشکل تھے۔

سن 1940 ء کے جنگی برسوں کے دوران ، جب پوری دنیا میں روشنی ہورہی تھی ، مسز ایڈی کی بہت سی کلیسیاؤں نے اس شفا یابی اور تروتازہ روح کو کھو دیا جو اس وقت بہت مقبول تھی جب وہ طلباء کو شفا یابی ، تعلیم اور تربیت دینے میں سرگرم تھیں۔ جیسا کہ ایک بار ولیم ورڈز ورتھ نے لکھا تھا ، ’’دنیا ہمارے ساتھ بہت زیادہ ہے۔‘‘ پھر بھی ، بنیادی اصول ہر فرد کو دریافت ، ترقی اور دفاع کرنے کے لئے زندہ رہتا ہے ، خواہ یہ چرچ میں ہو یا چرچ کے بغیر۔

اس کتاب کا مصنف اور مرتب ، ایک ریٹائرڈ سول اور سیلز انجینئر اور کسی چرچ کا ممبر نہیں تھا ، جب اس نے پہلی بار میری بیکر ایڈی کی تحریروں کی تحقیقات کی تو اسے کافی حد تک شکیہ تھا اور اس کو یقین تھا کہ اس کے بہت سے بیانات مضحکہ خیز بکواس تھے۔ بعد میں ، ان ’’مضحکہ خیز‘‘ بیانات میں سے ایک واضح ، خود ایاں مفہوم کے ساتھ ،وہ مفہوم جو سطحی معنوں سے بلند ہے ، توجہ میں آیا اور وہ سادہ لیکن گہرے روحانی خیال اور اس کے دور رس اثرات کو دیکھ کر حیران رہ گیا۔ وہ جانتا تھا کہ اس نے خدا کی روح کو چھوا ہے اور یہی وہ جذبہ تھا جس نے مسز ایڈی کی تحریروں اور بائبل کی کتابوں کو بھی متاثر کیا تھا۔ تاہم ، مسز ایڈی کے بہت سے بیانات پر یقین کرنا ناممکن رہا ، پھر بھی نتیجتاًروحانی مفہوم عام طور پر سامنے آجاتے اور سمجھے جاتے۔ پس ، ہماری عام انسانی عقل خدا کی چیزوں کو نہیں سمجھتی ہے۔ مگر ہمارا پوشیدہ روحانی احساس سمجھتاہے۔

مصنف کو بہت کم سالوں سے گلبرٹ سی کارپینٹر ، سی ایس بی کے ساتھ قریبی تعلق رکھنے کا اعزاز حاصل ہوا ، جنھوں نے سن 1905 کے دوران ، نیو ہیمپشائر کے ، کونکورڈ میں اپنے پلیزننٹ ویو ہوم میں مسز ایڈی کے اسسٹنٹ سکریٹری کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ بیشمار لاعلاج نام نہاد کیسز کو شفا دیتے ہوئے مسٹر کارپینٹر نے مسز ایڈی کا گھر چھوڑنے کے بعد ، روحانی تندرستی کی مشق کے لئے پچاس سالوں سے زیادہ کا عرصہ وقف کیا ۔ مصنف اپنے گھر پر اکثر بلیئرڈ کھیلتا تھا۔ ان میں سے کچھ موقعوں پر مسٹر کارپینٹر اتنے بیمار ہوجاتے تھے کہ ایک شاٹ کھیلنے کے لئے بھی وہ شاید ہی ٹیبل کے گرد آ سکتے تھے۔ تاہم ، ان اوقات میں ، جیسے جیسے کھیل میں ترقی ہوئی، وہ اس قدر زور سے کھیلتے ، گویا کہ وہ بیس سال کے جوان ہوں ۔ مصنف پوری ذہنی فضا کو تبدیل محسوس کرسکتا تھا ، گویا اس عظیم مسیحی جنگجو نے پھر سے اپنا خدا ڈھونڈ لیا تھااور اس نے اپنی طاقت اور اپنی روحانی تندرستی کی تجدید کر لی تھی۔

یہ چھوٹی سی کتاب ان لوگوں کے لئے مرتب کی گئی ہے جو کچھ یقین دہانی کے خواہاں ہیں کہ ایک خدا ہے، اور جب ضرورت پڑے تو وہ ذہانت اور اعتماد کے ساتھ اس کی طرف رجوع کرسکتے ہیں۔

رالف بی سپینسر

سیکونک ، میساچوسٹس 1972

تعارف

خدا کے قریب رہنا شفا اور ہم آہنگی کا موجب بنتا ہے

پرانے اور نئے عہد نامہ دونوں میں متعدد بیانات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جو لوگ خدا کے قریب رہتے تھےوہ ترقی اور خوشحالی سے ہمکنار ہوتے تھے۔ جب وہ اس راستے سے الگ ہوئے تو وہ عام طور پر پریشانی میں مبتلا رہتے تھے ، کبھی کبھی شدید پریشانی میں بھی۔ یہ بات دور جدید میں بہت سارے لوگوں میں بھی حقیقت ہے۔ جو بھی اس حقیقت سے آشناہے وہ قدرتی طور پر خدا کے قریب رہنے کی کوشش کرتا ہے۔ پھر بھی ، نسبتا ًبہت کم لوگ جانتے ہیں کہ یہ کیسے کرنا ہے ، اورحتیٰ کہ بہت کم لوگ خدا کی فطرت کو جاننے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ یسوع ناصری نے کہا، ’’ جو کوئی خدا کی بادشاہی کو بچے کی طرح قبول نہ کرے وہ اْس میں ہر گز داخل نہ ہوگا۔‘‘اْس نے یہ بھی کہا، ’’خدا کی بادشاہی تمہارے درمیان ہے۔‘‘ یسوع کے بیان کے مطابق جو متی نے لکھا ہے ،یہ بادشاہی بلاشبہ کامل بہبود ، کامل ہم آہنگی کے معنی دیتی ہے ، ’’پس چاہئے کہ تم کامل ہو جیسا تمہارا آسمانی باپ کامل ہے۔‘‘ خدا کا انسان کو تحفہ کامل ہے نامکمل نہیں ، اور اس کی کامل بادشاہی کی خواہش اور تلاش کی جاسکتی ہے۔ اگر لوگوں کو یہ معلوم ہو تو وہ اس وقت تک ڈھونڈیں جب تک وہ ملے نہ، اور’’مناسب موسم‘‘ کا انتظار نہ کریں۔

ٹیون اِن سے متعلق سیکھنا ضروری ہے

اگر کسی کے پاس ریڈیو ہو ، اور وہ جانتا ہوکہ اچھا پروگرام نشر ہورہا ہے تو وہ ٹیوننگ کرکے پروگرام سن سکے گا۔ خدا ساری اچھائی کا روح، ہمیشہ موجود، اور ہمیشہ نشر ہونے والا ہے؛ مگر بہت کم لوگ ہی اْسے سْننے والے ہیں۔ ابراہیم نے سناکسی حد تک ، یعقوب ، موسی ، ایلیاہ ،دانی ایل اور دیگرنے بھی سنا۔ لیکن یسوع کے لئے ، اپنے آسمانی باپ کے ساتھ مل کر رہنا فطری تھا۔ جدید دور میں بہت سارے لوگوں نے بھی ٹیون اِن ہونا سیکھ لیا ہے ، حالانکہ یہ دوسروں کے لئے اس قدر الٰہی طور پر فطری نہیں ہے جیسے کہ یسوع کے لئے تھا۔ بہر حال ، کوئی بھی رسائی پا سکتا ہے ، اور کوئی اس حد تک کامیاب ہوسکتا ہے جس حد تک وہ پہلے ناممکن سمجھتا ہو۔

ابتدائی مسیحی کامیاب تھے

مریم بیکر ایڈی نے بلاشبہ یسوع کے زمانے سے اب تک کسی اور سے زیادہ اس فن میں کامیابی حاصل کی ، نہ صرف اپنے لئے بلکہ ہزاروں دیگر افراد کے لئے بھی۔ پھر بھی ، یہ شفا بخش اور روشن خیال روح صرف کسی فرد یا کسی کلیسیا تک محدودنہیں ، نہ ہی کسی مسلک یا مذہبی عقیدہ تک محدود ہے۔ اس نے کئی صدیوں میں نبیوں ، ابتدائی مسیحیوں اور دیگر ہزاروں افراد کو متحرک کیا۔ اس کے باوجود ، لوگوں کی بڑی اکثریت نے یہ ماننا جاری رکھا کہ اس روحانی تعلیم کو سمجھنا ممکن نہیں ہے اور نہ ہی اس پر عمل پیرا ہونا عملی ہے۔ لیکن بہت سارے علمائے کرام کی رائے ہے کہ ابتدائی مسیحی قریب تین سو سال تک کامیاب رہے۔ پھر فہم کی روشنی بظاہر ختم ہوگئی۔ ہمیں آج کے دن کامیاب کیوں نہیں ہونا چاہئے؟ کسی بھی کوشش میں ایک چھوٹی سی کامیابی مزید کامیابی کی طرف گامزن کرتی ہے۔

انسان کا الہی ورثہ

مسیحی صحائف کو صرف تاریخی حقائق ، اخلاقی فلسفہ اور مذہبی عقائد کے طور پر قبول کرنے کے قابل ہیں۔ تاہم ،صحائف کا سب سے قیمتی حصہ کچھ حد تک پوشیدہ ہے - یعنی وہ روحانی مفہوم جو خدا کے بارے میں آگاہی فراہم کرتا ہے ، اور جسے جتنا ممکن ہو سکے مصنفین بہتر مرتب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن روحانی چیزوں کو مادی فقرہ بندی کے ساتھ متعین کرنا آسان نہیں ہے۔ یہ تعجب کی بات نہیں ہے کہ ہزاروں سالوں سے بائبل اور دیگر روحانی تحریروں کو نہایت غلط فہمی میں مبتلاپاہاگیا اور انہیں سمجھ سے بالا تر پایاجاتا رہا ہےپھر بھی ، انسان کی بنیادی فطرت روح کی ہے ، وہ روھ جس کی ضرورت اْسے دریافت کرنے اور سمجھنے کے لئےہے ، تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ اپنے الہی ورثے میں سے حصہ لے سکے۔ایک پوری نسل تک ہمارے لوگ خدا اور خدا کی چیزوں سے بہت دور ہو چکےاور بھٹک چکے ہیں ، اور اس گندگی کو اپنائے ہوئے ہیں جو آج دنیا میں ہے۔ پھر بھی ، خدا کی حیرت انگیز چیزیں ہمیشہ دستیاب رہتی ہیں ، اور خاص کر ان لوگوں کے لئے جو ایمان لائیں اور تلاش کریں اوہ وہ پا بھی لیں ۔

’’ہر شفا بخش‘‘ کو سمجھنا ضروری ہے

یسوع کےزمانے میں ، خدا کے لئے ایک لفظ ’’ہر شفا بخش‘‘ تھا۔ یہ اصطلاح برطانیہ میں ڈریوڈس نے یسوع کے لئے استعمال کی تھی ، جو آنے والا مسیحا تھا ، اور یہ خدا کی اْس روح کے لئے استعمال ہوا تھا جسے وہ بغیر کسی پیمانے مہیا کرنے کو تھااور جو اْس نے مہیا کی تھی۔ پرانےعہد نامہ میں کچھ شفا یابیاں عظیم روحانی پیشواؤں سے منسوب ہیں ، جن میں موسیٰ ، ایلیاہ اور دانی ایل بھی شامل ہیں۔ یسوع کے زمانہ میں اْس کے وسیلہ ، اس کے شاگردوں اور ابتدائی مسیحیوں کے ذریعہ بہت سی شفا یابیاں ہوئیں تھیں۔ یسوع کی خدمت کے بعد ، شفا کا کام قریباً 300 عیسوی تک جاری رہا۔ اس کے بعد یہ قریباً بارہ سو سالوں تک نظروں سے اوجھل رہا، 1866 تک پھر سے واضح طور پر تسلیم نہ ہوا ، اور اس وقت تک سمجھ میں نہ آ سکا جب تک کہ مسز ایڈی کی تحریر 1875 میں آنا شروع نہ ہوئی۔

شفا بخشی کی دعا نئی بات نہیں

یوں ، دعا کے ذریعے شفا بخشنے کی طاقت نہ پچھلے ایک سو سالوں میں ، نہ ہی یسوع کے زمانے میں کوئی نئی بات تھی، بلکہ ہر دور میں موجود رہی ہے۔پْر اثر دعا کے بارے میں ایک بہتر فہم کی بہت ضرورت ہے۔ ایک تعریف ، جو مسز ایڈی اور سترہویں صدی کے فرانسیسی فرائیر نے بھی بیان کی تھی ، یہ ہے ،’’دعا خدا کی موجودگی کی مشق ہے۔‘‘ خدا کی روح ، جیسے ہی یہ قبول کرنے والے دل و دماغ کو چھوتی ہے ، خود بخود ہم آہنگی ، آزادی اور ذہانت کا ایک اعلی احساس پیدا کرتی ہے؛ اور جہاں روحانی ہم آہنگی غالب آتی ہے ، انسانیت کے شعور میں غیر ہم آہنگی اور بیماری کا خاتمہ ہوتا جاتا ہے؛اور جسم سوچ کی اِس تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے۔

مسز ایڈی کی شفا اور دریافت

میری بیکر ایڈی ، جب ایک چھوٹی سی لڑکی تھی ، اس نے شفا بخش ماحول پیدا کیا اور کبھی کبھار اپنے خاندان کے اراکین اور دیگر افراد کو جسمانی تندرستی دلائی۔ تاہم ، جیسا کہ اس نے کہا ہے ، اسے کبھی بھی ٹھیک نہیں سمجھا گیا جب تک 1866 میں پینتالیس سال کی عمر میں اس کی اپنی شفا نہ ہوئی ، جب تک کہ اس کا علاج کرنےو الے ڈاکٹر نے توقع کی کہ اس کا سر اور ریڑھ کی ہڈی کےشدید زخمی ہونے کے بعد کچھ گھنٹوں میں ہی اْس کی موت واقع ہو جائے گی ، جس کی وجہ سے وہ کئی گھنٹوں تک بے ہوش رہی تھی۔ مسز ایڈی نے اپنی درسی کتاب کے 1881 کےشمارے میں اس کی شفا یابی کی کہانی یوںسنائی۔میرا علاج کرنے والے ڈاکٹر اور سرجن نے میرے کیس کو جان لیوا قرار دیا اور اْس نے کہا کہ میں تین دن سے زیادہ زندہ نہیں رہ سکتی تھی۔ تیسرا دن سبت کا دن تھا۔ میرے پادرینے عبادت سے پہلے مجھ سے ملاقات کی، میرے ساتھ دعا کی اور مجھے الوداع کہا۔ میں نے دعا کے بعد فون کرنے کو کہا۔ اس نے مجھے یہ جواب دیتے ہوئے پوچھا کہ کیا میں اپنی چوٹ کی مہلک نوعیت کو جانتی ہوں ، اور یہ کہ میں مر رہی ہوں ، اور شایدآج کے دن میں زندہ نہ رہ سکوں۔ میں نے جواب دیا کہ میں یہ سب جانتی ہوں ، لیکن خدا پر اتنا اعتماد تھا کہ مجھے لگاوہ مجھے زندہ کرے گا۔ اْس کے جانے کے بعد ، میں نے تنہا رہنے کی درخواست کی۔ . . . میں نے بائبل کو مرقس کے تیسرے باب میں کھولا ، جہاں ہمارے مالک نے سبت کے دن سوکھے ہوئے ہاتھ کو شفا بخشی۔ جیسے ہی میں نے پڑھا ،میرے اندر تبدیلی آ گئی؛ میرے اعضاء جو غیر متحرک ، سرد اور بغیر احساس کے تھے اْن میں گرمی آگئی؛ اندرونی تکلیف ختم ہوگئی ، مجھ میں فوراً طاقت آ گئی ، اور میں اپنے بستر سے اٹھ کر اپنے پیروں پر بالکل ٹھیک کھڑی ہوگئی۔ پادری عبادت کے بعدآیا اور میں اْسے دروازے پر ملی، اور اس دن میرے اہل خانہ کے لئے کھاناتیار کیا۔ . . . میرا معالج حیرت زدہ رہ گیا جب وہ پیر کی دوپہر آیا اور مجھے گھر میں پایا۔ اْس نے کہا، ’یہ آپ کے ساتھ کیسے ہوا؟ کیا یہ اْس پرہیزی سے ہوا جو میں نے آپ کو بتائی تھی کہ جس سے یہ زاندار نتیجہ نکلا؟‘ میں نے جواب دیا، ’آئیے میں آپ کو دکھاتی ہوں،‘ پھر اپنے بستر کے ساتھ لگے میز کے پاس گئی، دراز کھولا، اور یہاں اْس نےاْن ادویات کا ہر حصہ دیکھا جو وہ مجھے دے کر گیا تھا۔ اْس نے خالی حیرت سے دیکھا اور بات جاری رکھی: ’اگر آپ مجھے بتا دیں کہ آپ نے خود کو کیسے صحتیاب کیا تو میں ادویات کو چھو ڑ دوں گا، اور کبھی دوائی کی تجویز نہیں دوں گا۔‘میں نے جواب دیا، ’فی الحال یہ میرے لئے ناممکن ہے، مگر مجھے امید ہے کہ میں مستقبل میں کبھی دنیا کو اِس کی وضاحت دوں گی۔‘ تین سال تک میں نے دن رات اس مسئلے کا حل ڈھونڈا، صحائف کو تلاش کیا، کچھ اور نہ پڑھا، حتیٰ کہ اخبار بھی نہیں، معاشرے سے دوری اختیار کی، میرا سارا وقت اور توانائیاں اِس اظہار کے لئے ایک اصول دریافت کرنے میں وقف کیں۔میں جانتی تھی کہ اِس کا اصول خدا تھا، اور مجھے لگا کہ یہ ابتدائی مسیحی شفا کے مطابق ہوا تھا، بدن پر ایک خاص قسم کے ذہنی عمل کےوسیلہ، ایک پاک، بلند ایمان کے وسیلہ؛ مگر میں اْس سائنس کو جاننا چاہتی تھی جو اِس پر حکمران تھی؛ اور خدا کی مدد سے اور کسی انسانی مدد کے بنا، میں نے یہ پا لیا، اور مجھے اْس چرواہے کا چلانا یاد آیا۔ ’ہمارے لئے ایک بچہ پیدا ہوا ہے،‘ ایک نئے خیال نے جنم لیا ہے، اور ’اْس کا نام ہے عجیب مشیر۔‘‘‘

صحیح رویہ اہم ہے

اس غیر معمولی علاج سے ، روحانی روشن خیالی کے ساتھ جو اگلے چند مہینوں کے دوران مسز ایڈی کے پاس آیا ، اس نے اس شفا یابی کے عظیم اثر کے بارے میں زیادہ سے زیادہ سمجھنے میں مدد کی جو ایک ناامید حالت کو صحت اور ہم آہنگی میں تبدیل کر سکتی ہے۔ وہ یہ سمجھنے لگی کہ جب فرد ، جب وہ اس عظیم روحانی حقیقت کی طرف راغب ہوتا ہے ، تو اسے اس بات کا احساس ہوجاتا ہے کہ اس کی زندگی خدا سے الگ نہیں ہے بلکہ ہمیشہ کے لئے اس کے ساتھ یکجا ہوجاتی ہے۔ مسز ایڈی نے کہا کہ بعد میں اس کے خیال پر یہ بات چھا گئی کہ یہ اس کے ذہن کا رویہ ہے جس نے اسے خدا کی شفا یابی کی موجودگی سے آگاہ کیا ، جیسےکہ غیرتربیت یافتہ موسیقار ہارمونک راگوں کو چھو رہا ہو۔

ابتدائی جانچ اور شفایابی

اس بیداری نے اسے دوسروں کو ٹھیک کرنے میں مدد فراہم کی ، ان میں سے بیشتر کا فوری طور پر علاج ہو گیا تھا ، اور انہوں نے پینتالیس سال تک اس شفائیہ خدمت کا کام جاری رکھا ، یہاں تک کہ وہ سن 1910 میں نواسی برس کی عمر میں گزر گئیں۔ اس عظیم خاتون کے ذریعہ انجام دیئے گئے سینکڑوں بقایا تندرستی شاید کبھی معلوم نہیں ہوسکتی ہیں کیونکہ پہلے دس سالوں میں ان کو ریکارڈ کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی تھی ، اور بعد کے برسوں میں صرف کبھی کبھار کوششیں کی گئیں۔ اس کے بعد کے سالوں میں دوسروں کو تعلیم دینے اور اس کے چرچ کی مختلف سرگرمیوں کو منظم کرنے کے لئے زیادہ سے زیادہ وقف کیے گئے تھے ، اس امید پر کہ یہ حیرت انگیز دریافت اور روحانی تفہیم پھر کھو نہیں جائے گی۔ اس کی صحتیابی کے بعد نو سال تک اس نے اپنی نصابی کتاب ، سائنس اور صحت آیات کی کنجی کے ساتھ کتاب نہیں لکھی۔ ان نو برسوں کے دوران ، اس نے اپنی رہائش پذیر ہر کمیونٹیز میں علاج معالجے کا بہت کام کیا ، اپنی دریافت کی زیادہ جانچ کی ، اور اس کے دل و دماغ کو زیادہ مکمل طور پر خدا کے ساتھ ضم کردیا۔ اس نے پایا کہ خدا کی حقیقی تفہیم ایک ساتھ ہی نہیں ، بلکہ روحانی نشوونما کے ساتھ ، اور بیداری کے ساتھ شعور کے بلند لہجے اور ایک خالص پیار کے ساتھ آتی ہے۔ خیال کی یہ اعلی خصوصیات ذہن کو خدا کی چیزوں کو حاصل کرنے اور ان کو سمجھنے کے لئے تیار کرتی ہیں۔

روح کی حقیقت بیان کرنا آسان نہیں ہے

ان نو برسوں کے دوران اس نے اپنی دریافت اور اس کے پیچھے اصول سے متعلق بہت بات کی ، لیکن سننے والوں کو اس کے معنی سمجھانے میں پوری طرح ناکام رہی۔ 1875 میں اس کی درسی کتاب کی اشاعت کے ساتھ ہی ، اس کا روحانی معنی مزید واضح طور پر سامنے آنا شروع ہو گیا ، اور بہت سارے قارئین اور سننے والے اِسےسمجھنے لگے۔ میتھیو میں ہم پڑھتے ہیں کہ کیسے یسوع نے ’’تمثیلوں میں لوگوں سے بات کی تھی؛ اور تمثیل کے بغیر ان سے کچھ نہیں کہا۔ ‘‘یسوع واضح طور پر مادی اصطلاحات کے ذریعے روحانی سچائی کو پہنچانے کی دشواری سے واقف تھا ۔ روحانی سچائی کی تفہیم پر مجبور نہیں کیا جاسکتا ، لیکن اِس پر فطرتاً آنا ہوگا۔ ابتدائی مسیحیوں کے یا دوسرے روحانی پیشواؤں کے، انبیاءکے ،یا یسوع کے بیانات پر غور کرتے وقت ، اس سے کوئی ایسی بات پر یقین کرنے کی کوشش کرنا بہت ہی اچھا ہوگا جو ہمارے شعور میں اندراج نہیں کرتا ہے جو حقیقی اور خود واضح ہے۔ لہذا ، جب ان کی حقیقت سامنے آتی ہے تو اس لمحے تک بہت سے بیانات کو ایک طرف رکھنا پڑتا ہے۔ اندھا عقیدہ مطلوبہ واضح فہم کا محض رکاوٹ ہے۔

ایک چیلنج

فروری 1872 میں ، مسز ایڈی کو متعدد ڈاکٹروں کے مشورے پر بلایا گیا کہ وہ ایک ایسی خاتون سے ملیں جو کھپت سے مرنے والی تھی۔ جب وہ پہنچی تو اس نے دیکھا کہ وہاں حاضری میں تین یا چار ڈاکٹر موجود ہیں ، انہوں نے مشاہدہ کیا ، جنہوں نے اس ساری طبی معلومات کو اس خاتون کو مرنے سے بچانے کی کوشش میں استعمال کیا تھا۔ جب انہیں پتہ چلا کہ اس کی بازیافت کی کوئی امید نہیں ہے تو ، انہوں نے’’اس عورت کی جانچ کرنے‘‘ کا فیصلہ کیا ، کیوں کہ انہوں نے کسی کے بارے میں سنا ہے جو اس کے ذریعہ ٹھیک ہو گیا تھا۔ مسز ایڈی کی بات اس وقت پہنچی جب اس کی بات پہنچی اور اس خاتون کو جلدی سے شفا بخشی۔ پھر اسے بتایا کہ وہ اٹھ سکتی ہے ، اور وہ اپنے لباس کی مدد کرے گی۔ اس کے بعد اس نے ڈاکٹروں سے کہا کہ وہ کمرہ چھوڑ دیں جبکہ اس نے خاتون کو کپڑے پہننے میں مدد دی ، جس کے بعد وہ بیٹھے کمرے میں ڈاکٹروں اور اس کے شوہر کے ساتھ مل گئے۔ ایک ڈاکٹر ، ایک بوڑھے تجربہ کار معالج ، نے اس کی گواہی دی اور کہا ، ’’آپ نے یہ کیسے کیا؟ آپ نے کیا کیا؟ ‘‘اس نے کہا ، ’’میں آپ کو نہیں بتا سکتا ، - یہ خدا تھا۔‘‘ اور اس نے کہا ، ’’آپ کتاب کیوں نہیں لکھتے ، اسے شائع کرتے اور اسے دنیا کو کیوں نہیں دیتے؟‘‘ جب وہ گھر واپس آئی تو اس نے اپنا بائبل کھولا ، اور اس کی نگاہ ان الفاظ پر پڑ گئی ، ’’اب جا کر انکے سامنے اسے تختی پر لکھ اور کتاب میں قلمبند کر تاکہ آئیندہ ابدالاباد رہے۔‘‘ (یسعیاہ 30:8)

ایک نیا منظر

اس کے فورا بعد ہی ، مسز ایڈی نے اپنی کتاب لکھنا شروع کی ، ایک ایسی کتاب جس میں لاکھوں لوگوں کو ایک نیا نظریہ ملنا مقصود تھا۔ زندگی کو دیکھنے کا یہ نیا طریقہ روحانی تندرستی کے ساتھ ہوتا ہے کیونکہ اس طرح کی شفا یابی ، جیسا کہ طبی علاج سے متضاد ہوتا ہے ، جسمانی طور پر تندرستی سے زیادہ کام کرتا ہے۔ وہ اس سوچ کو اعلٰی نقطہ نظر ، روحانی بیداری ، اور اس احساس کی طرف بڑھانا چاہتے ہیں کہ زندگی عام طور پر عام ، انسانی طرز کے تجربہ سے کہیں زیادہ خوبصورت اور قابل قدر ہے۔

کیا شفا بخش ہے؟

سوال اکثر پوچھا جاتا ہے ، ’’یہ کیا ہے جو شفا بخش ہے؟ کیا یہ ایمان ہے؟ کیا یہ تنویم ہے؟ کیا یہ التجا کی دعا ہے جس کا کسی نہ کسی طرح جواب دیا گیا ہے؟ ‘‘جواب تجویز کرنے کے لئے ، کسی کو ریڈیو پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ کیا ہے جو پروگرام لاتا ہے؟ اگر کوئی اسٹیشن نشر کررہا ہے ، اور کسی کے پاس ریڈیو ہے تو اسے صرف اس میں ترمیم کرنے کی ضرورت ہے۔ لہذا انسان کو اپنے پورے دل و دماغ سے خدا کے ساتھ ملنا سیکھنا چاہئے۔ نتائج حیرت زدہ کریں گے۔ قبل مسیح کے بیان کردہ دو بیانات اس سلسلے میں ایک طرح کی کلید ہیں۔ ’’خدا کی بادشاہی آپ کے اندر ہے‘‘ اور ’’جو بھی چھوٹے بچے کی طرح خدا کی بادشاہی قبول نہیں کرتا ہے ، وہ اس میں داخل نہیں ہوگا۔‘‘ دائود بادشاہ ، زبور 51 میں ، اس کے بارے میں اس طرح بولتا ہے ، ’’اے خدا ، میرے اندر ایک صاف دل پیدا کر۔ اور میرے اندر ایک صحیح روح کی تجدید کرو۔ ‘‘ساؤل ، مسیحیوں کو ستایا جانے والا ، جو پولوس بن گیا ، وہ عظیم مسیحی مبلغ اور شفا بخش تھا ، نے افسیوں کو لکھے اپنے خط میں کہا ، ’’اور اپنے مزاج کی تندی سے نیا بن جا‘‘۔ اور اس نے فلپیوں کو لکھا ، ’’تمہارا مزاج وہی ہو جیسا مسیح یسوع کا تھا۔‘‘ لہذا یہ ظاہر ہوگا کہ مسز ایڈی نے دریافت کیا کہ کس طرح محدود ، مادہ پرستی کے انسانی ذہن کو اس حد تک پھینک دیا جائے کہ انہیں خدا کی بادشاہی ہی اندر مل گئی۔ اس طرح ، اس نے اپنے اندر ’’صحیح روح‘‘ کی تجدید کی؛ اور پھر دوسروں کے مفاد کے لئے اس روحانی تفہیم کو عملی شکل دی۔

مسیح کی دوسری آمد؟

کیا یہ مسیح القدوس کی دوسری آمدنہیں تھی، جومکاشفہ کے دسویں اور بارہویں ابواب میں مقدس یوحنا کی پیش گوئی کے مطابق تھی؟ - روشن خیالی اور تندرستی کے لئے ، ایسے وقت میں جب کچھ ایسے تھے جو روحانی خطوط کے ساتھ آگے بڑھنے والے نظریہ کو سمجھنے کے لئے تیار تھے؟ یہ ہمارے عظیم شاعروں اور وزراء اور دوسرے عمدہ روحانی پیشواؤں کا دور تھا۔ یہ وہ وقت بھی تھا جب ہمارے لوگ خانہ جنگی سے محروم اور بدحال تھے ، ’’جلعاد میں بام‘‘ کے بھوکے تھے ، اور عملی ، شفا بخش فلسفہ کی ضرورت تھی۔ اور یہ فطری بات تھی کہ انیسویں صدی کے عظیم سائنسی دور کے آغاز میں اس طرح کے مسیحی پیغام کو سائنسی انداز کے ساتھ پیش کیا جانا چاہئے تھا۔ بہر حال ، یہ ناگزیر تھا کہ لوگوں کی بڑی اکثریت اس روحانی خیال کو قبول نہیں کرتی ہے ، چونکہ ’’مگر نفسانی آدمِی خُدا کے رُوح کی باتیں قُبُول نہِیں کرتا کِیُونکہ وہ اُس کے نزدِیک بے وُقُوفی کی باتیں ہیں اور نہ وہ اُنہِیں سَمَجھ سکتا ہے کِیُونکہ وہ رُوحانی طَور پر پرکھی جاتی ہیں،‘‘ جیسا کہ مقدس پولوس نے کرنتھیوں کی کلیسیا کو لکھا تھا۔( 1 کرنتھیوں 2)

درسی کتاب کی شفا

اس طرح ، روحانی فہم کے ذریعہ ، مسز ایڈی نے انسان کے بنیادی کمال کی جھلک دکھائی ، اور اس کے ذریعہ ایک باضابطہ ہجوم نے بہتر صحت کے ساتھ ساتھ اسی کمال کی ایک جھلک پائی جو ان کی زندگی کو بدل دے گی۔ سائنس اور صحت کے بعد کے ایڈیشن کی اشاعت میں ، مسز ایڈی نے ایک سو صفحات پر شفا یابی کی گواہی دی ، یہ سب محض کتاب پڑھنے اور غور و فکر کرنے سے ہوا۔ اس نے بہت ساری شفایابیوں کو شامل کیا ہوسکتا ہے جو اس نے اپنے آپ کو انجام دیا ، لیکن ظاہر ہے کہ اس کا انتخاب نہ کرنا ، تاکہ پڑھنے والے کو زیادہ حوصلہ مل سکے کہ وہ خدا کی شفا بخش قوت کو دوسری مدد کے بغیر سمجھنے میں کامیاب ہوجائے۔

اپنی نصابی کتاب کے ابتدائی ایڈیشن میں ، مسز ایڈی نے لکھا ، ’’اسی طرح کے سینکڑوں علاج میں نے کیے ہیں لیکن ان کی وجہ سے جوش و خروش ، نے ان کی افواہوں کو دبانے پر مجبور کیا۔ ۔۔۔ جب آپ اس طریقہ کار کے اصول کو سیکھیں گے اور اس کو عملی طور پر استعمال کریں گے تو آپ خود ہی ثابت کردیں گے کہ میں نے جو لکھا ہے وہ سچ ہے۔‘‘

تین خصوصیات کی ضرورت ہے

تاہم ، جب تک کہ کوئی فرد اپنے ساتھ غیرمعمولی طور پر ایماندارانہ ہونے پر بھی راضی نہ ہو ، اس موضوع کے ساتھ اپنے طرز عمل میں بھی عاجز اور بچہ دار اور دوسروں کے ساتھ اس کے رویے میں واقعتا ہمدرد ہوجائے ، اس کو شاید روحانی سائنس کی زندگی کا زیادہ حصہ ملنے کا امکان نہیں ہے۔ حق کی روح کو شفا بخش ہے ، جیسا کہ خدا دیتا ہے۔ جب کوئی اس روحانی خیال کی کھوج کرتا ہے تو ، تمام روحانی تحریروں کو ایک نیا معنی مل جاتا ہے۔ مثال کے طور پر نیا عہد نامہ ، جو بہت سارے لوگوں کے لئے صرف تاریخ اور اخلاقی فلسفہ ہے ، کھلنا شروع ہوتا ہے ، تاکہ غیر واضح راستے اپنے اصلی ، روحانی معنی کے ساتھ زندہ ہوں۔ پھر بھی ، کوئی بھی اس شعبے میں اتھارٹی ہونے کا دعویٰ نہیں کرسکتا۔ زندگی بھر ناکافی ہے جس میں خدا نامی لامحدود روح یا اصول کو اچھی طرح سے سمجھنے کے لئے۔ جب کسی کو کچھ سمجھنا شروع ہوجاتا ہے ، تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اتنا انسانی علم حاصل نہیں کر رہا ہے جتنا کہ وہ اس ذہانت اور محبت میں ڈھالنا سیکھ رہا ہے جس کا آغاز کبھی نہیں ہوا اور نہ ہی کبھی ختم ہوگا۔

ہزاروں شفا یابیوں کی تصدیق ہوئی

انیس سو تیس کے اوائل میں ابتدائی پچاس سالوں میں روحانی تندرستی کی ایک ایسی تالیف کی گئی تھی جب روحانی تندرستی سب سے زیادہ عام تھی۔ یہ صحتیابی مسز ایڈی کے چرچ کے ادوار میں شائع ہوئی تھی ، اور ہر ایک کی شفا یابی کی تصدیق تین یا زیادہ گواہوں نے کی ہے۔ کل 30،000 سے زیادہ تھا۔ ان کے علاوہ بلا شبہ ہزاروں اور بھی تھے جو کبھی شائع نہیں ہوئے تھے۔

خدا کی شفا کی طاقت کے اس طرح کے ثبوت بہت زیادہ ہیں۔ یہاں تک کہ اگر ہم فطرت کی شفا یابی ، ایمان کی شفا یابی اور تشخیص میں ممکنہ غلطیوں کے لئے بھی الاؤنسز دیتے ہیں ، تو بھی اس کے ثبوت بہت زیادہ ہیں۔ نیز ، جسمانی تندرستی کے علاوہ ، بہت سارے ہزاروں افراد اپنی پریشانیوں کو حل کرنے کے لئے ایک نیا راستہ ڈھونڈنے کے بعد ، ذہنی پریشانیوں اور ذاتی مشکلات سے پاک ہوگئے تھے۔ اپنے معالجے کے کام کے ساتھ ، مسز ایڈی نے لکھا: ’’جب میں نے سب سے واضح طور پر دیکھا ہے اور انتہائی سمجھداری سے محسوس کیا ہے کہ لامحدود کسی بیماری کو نہیں پہچانتا ہے ، اس نے مجھے خدا سے جدا نہیں کیا ہے ، لیکن اس نے مجھے اس کے ساتھ باندھ رکھا ہے تاکہ فوری طور پر مجھے قابل بنائے۔ ایسے کینسر کو ٹھیک کرنے کے لئے جس نے گگ رگ کا راستہ کھا لیا تھا۔ اسی روحانی حالت میں ، میں نے منتشر جوڑوں کو بدلنے اور مرنے والوں کو فوری صحت کے لئے بڑھاوا دیا ہے۔ لوگ اب زندگی گزار رہے ہیں جو ان بیماریوں کا علاج کر سکتے ہیں۔ یہاں میں اونچی بات سے میرا ثبوت ہے کہ یہاں اس موضوع پر جاری کردہ آراء درست ہیں۔ ۔۔۔لامحدود غیب کے کمال کا اعتراف ایک ایسی طاقت عطا کرتا ہے جو کچھ اور نہیں کرسکتا۔ ‘‘(اچھائی کااتحاد ، صفحہ سات)

بادشاہ کی شاہراہ

سائنس اور صحت کے باب کے نام سے ، ’’پھل‘‘ کہا جاتا ہے ، جس میں نصابی کتب کو پڑھنے سے ایک سو صفحات پر شفا بخشیاں ملتی ہیں ، جو اب تک موجود روح کے اس شفا بخش اثر و رسوخ کا ایک حوصلہ افزا اعتراف ہے جس کی وجہ سے مسز ایڈی کو سمجھنے کے قابل تھا۔ اگرچہ دوسروں نے اس قابل فہم تفہیم کے مترادف نہیں کیا ہے جو مسز ایڈی نے گذشتہ برسوں میں تیار کیا تھا ، لیکن ہر ایک جس نے لامحدود حیات اصول کی موجودگی اور طاقت کی واضح جھلک حاصل کی ہے وہ جانتا ہے کہ وہ ایک نئی سڑک پر ہے ، شاہ کی شاہراہ۔ اور یہ اس پر منحصر ہے کہ وہ اس شاہراہ پر عمل پیرا ہونے کا انتخاب کرتا ہے یا نہیں ، اور تمام تجاوزات سے اپنے راستے کا دفاع کرے گا۔

واضح ثبوتوں سے حوصلہ پیدا ہوتا ہے

متفرق تحریروں میں ، اپنی کتاب ، مسز ایڈی نے صحت کے مزید گواہوں کے ستر صفحات شامل کیے ہیں جو سائنس اور صحت کے مطالعہ اور مطالعہ کے نتیجے میں نکلے ہیں۔ چونکہ اس نے اپنی شائع شدہ تحریروں میں بہت ساری شفا یابیوں کو شامل نہیں کیا تھا جو اس نے خود کیا تھا ، لہذا ان میں سے کچھ قابل ذکر معالجے کو مختلف مستند ذرائع سے جمع کیا گیا ہے۔ وہ یہاں ان لوگوں کے لئے حوصلہ افزائی کے طور پر چھاپے گئے ہیں جو مسیحت یا کرسچن سائنس کی بنیاد پر سوالیہ نشان لگارہے ہیں ، یا خدا سے انسان کے رشتے پر سوال اٹھا رہے ہیں ، تاکہ ان کی پریشانیوں اور حدود سے نکلنے کا کوئی راستہ تلاش کیا جا سکے جن کی وجہ سے مادی وجود موجود ہے۔ انہیں. اس طرح کا محاسبہ بھی مریم بیکر ایڈی اور ان کے روحانی موقف کو خدا کے نمائندہ اور اس کی طاقت کو ٹھیک کرنے کی حیثیت سے ایک منصفانہ خراج تحسین پیش کرتا ہے۔ مسیحی ، اور نور کے متلاشی سبھی طالبات تیزی سے شکر گزار ہوجائیں گی کیونکہ انہیں معلوم ہوگا کہ کس طرح یہ عظیم عورت اپنی ذہنی ونڈو پین کو مادیت اور شخصیت پرستی سے اتنا واضح رکھتی ہے کہ حق اور محبت کی شفا بخش روشنی چمک سکتی ہے اور دوسروں کے دل و دماغ۔

دوسرے روحانی پیشوا

1910 میں مسز ایڈی کے انتقال کے بعد ، یہاں تک کہ دوسرے عمدہ ، روحانی پیشوا اور انجیلی بشارت کے مبلغین بھی رہے ہیں۔ یہاں تک کہ ہندوستان کے مہاتما گاندھی سیاسی رہنما ہونے کے علاوہ ایک عظیم روحانی پیشوا بھی تھے۔ ریاستہائے متحدہ کا فرانک بوک مین ایک سرشار مسیحی تھا جس نے بہت سارے ممالک میں بہت سارے لوگوں کی زندگیوں کو تبدیل کردیا۔ اس کی کہانی جزوی طور پر پیٹر ہاورڈ کی چھوٹی سی کتاب ، فرینک بوکمانس سیکریٹ (سن 1961 میں شائع) میں بتائی گئی ہے۔ اس نے مورال ریئرمنٹ کی بنیاد رکھی ، اور اس کے سادہ ، مسیحی طرز عمل نے کردار میں تبدیلی کے معجزے دکھائے۔

مسز ایڈی کا مزید منطقی نقطہ نظر

حالیہ برسوں میں ، مسیحی عقیدے کے متعدد فرقوں کے ممبران روحانی تندرستی کا مظاہرہ کر رہے ہیں ، پھر بھی یہ مسز ایڈی تھی ، جو کسی اور سے زیادہ نہیں ، جس نے خدا کی قدرت کو شفا بخشنے کے لئے وسیع پیمانے پر اس کا مظاہرہ کیا۔ سب سے اہم بات ، یہ مسز ایڈی اور صرف مسز ایڈی ہی تھیں جنھوں نے اس میں شامل اصول کے بارے میں ایک منطقی نقطہ نظر پیش کیا ، اور اس نے جاسوس کی نوعیت کا بھی تعین کیا جس نے مسیحی کو اس کے خوشگوار مارچ میں اکثر اس سے باہر جانے سے روک دیا۔ پرانے اور نئے میں؛ یا اس کی وجہ سے اس نے روحانی خیال کو ذاتی نوعیت کا بنا دیا جب تک کہ یہ بدلے میں گم نہ ہوجائے۔ مسز ایڈی نے مسیحی خیال کے بارے میں اپنے واضح احساس کو مستقل طور پر تجدید کیا۔ انہوں نے کتابیں اور مضامین بھی لکھے ، اور گرجا گھر قائم کیے تاکہ دوسروں کو بھی ایسی ہی دریافت کی جاسکے اور اس کا ادراک حاصل کیا جا سکے جس کا اطلاق ہر روز کی زندگی کے مسائل پر ہوسکتا ہے۔ اس نے اس دریافت ، اس کی نشوونما اور اس کے اطلاق ، کرسچن سائنس کا نام دیا ، اور بار بار اس کو الہی سائنس کے نام سے بات کی۔

زندگی کا ایک نیا طریقہ

واقعتا ًاس نے زندگی کے لئے ایک نئے نقطہ نظر کا افتتاح کیا ، اپنے اور اپنے ساتھی آدمی کے ساتھ معاملات کرنے کا ایک نیا طریقہ ، زندگی کے مسائل حل کرنے کا ایک نیا طریقہ ، یہاں تک کہ جب یسوع نے ’’راستہ ، سچائی اور زندگی‘‘ کا آغاز کیا تھا اور جو تھا مسیحت کے طور پر یا یہاں تک کہ ایک مذہب کے طور پر یسوع کی وزارت کے طویل عرصے تک ، لیکن راہ کے طور پر جانا نہیں جاتا ہے۔ مسز ایڈی نے بھی اسی طرح سے متاثر کن اور معالجے کے اصول کو زندگی کا ایک طریقہ سمجھا ، اور اس نے اپنی دریافت کے بعد تیرہ سال تک کسی چرچ کی خدمات حاصل نہیں کیں ، اور نہ ہی اس نے اپنی دریافت کے بعد اٹھائیس سال تک اپنے مدر چرچ کی تعمیر کی۔ پھر بھی ، شفا یابی کا کام حیرت انگیز حد تک چلا گیا۔

مسیح کی شناخت

روحانی تندرستی یا مسیح کی شفا یابی کو سمجھنے کے لئے ، ہمیں مسیح کے آئیڈیا کو سمجھنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ ایک ایسے فرد کو متحرک کرتا ہے جس نے اپنی سوچ اور خدا کی روح کے مطابق زندگی کو زیادہ تر تقویت بخشی ہے۔ شاید دعا کا اعلی ترین احساس دراصل خدا کی موجودگی کو محسوس کرنا ہے ، جو یقینا. مسیح روح کو قبول کرنا ہے۔ لفظ مسیح یونانی سے آیا ہے اور اس کا مطلب مسح کیا گیا ہے۔ لفظ مسیحا عبرانی زبان سے آیا ہے اور اس کا مطلب بھی مسح کیا گیا ہے۔ یہ لفظ محض تیل کی مسح پر مبنی نہیں بلکہ بنیادی طور پر خدا کی طرف سے مسح ہونے سے مراد ہے (ملاحظہ کریں یوحنا 2:27میں) ، اور موسیٰ کے زمانے سے اسی طرح استعمال ہوتا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا کی روح سے ہم آہنگ ہو ، اس جذبے کو اعلٰی نظم سے روشناس کرو ، جو حوصلہ افزائی اور شفا بخشتا ہے ، اور جو مردوں میں نیک خواہش کو فروغ دیتا ہے۔ یہ شعور کی ایک قسم ہے ، لیکن یہ جانوروں کے انسان کے لئے قدرتی نہیں ہے اور نہ ہی دانشور آدمی کے لئے ، جیسا کہ سینٹ پال نے کرنتھیوں کو لکھا تھا۔ مسیح کا شعور یسوع کا تھا ، تاہم ، مسیح کے جنسی تصور کی بجائے روحانی تصور تھا۔سبھی لوگوں کے لئے ، یہ ایک دریافت ہے ، اور یہ ایک اعلی اور اعلی ڈگری تک تیار ہوسکتا ہے۔

دوسری آمد کی پیشن گوئی

یہ مسیحی ہوش ، جو یسوع کے لئے قدرتی تھا ، ابتدائی مسیحیوں کے لئے کسی حد تک فطری ہوگیا۔ بعد میں ، روشنی باہر چلی گئی۔ پھر تاریک عہد کے اندھیرے ، بیمار مرضی ، سنسنی خیزی اور سیکڑوں سالوں سے جاری ظلم کی پیروی کی۔ عہد نامہ کے مطابق ، مسیحیوں اور مقدس یوحنا کے ذریعہ متعدد پیش گوئیاں کی گئیں کہ مسیح کی واپسی ہوگی ، اور سینٹ جان کے مطابق اس واپسی کے بعد ایک بار پھر ڈریگن اور درندے ہوں گے ، جن پر عمل کیا جاسکتا ہے۔ دجال کا مطلب ہے۔ بہت سے مسیحی اور بہت سے مسیحی اسکالرز کو یقین ہے کہ یہ دوسرا آنے پہلے ہی واقع ہوچکا ہے ، لیکن بیشتر مسیحیوں نے اسے سمجھا یا اس کا اعتراف نہیں کیا.

لہذا ، ہمیں "اوقات کی علامتوں" کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اگر دوسری آمد پہلے ہی واقع ہوچکی ہے تو ہمیں یہ توقع کرنی چاہئے کہ ایک بہت ساری روحانی تندرستی اس کے ساتھ آئی ہے ، شاید ناقابل علاج معبدوں کو بحال کردیا گیا تھا ، طوفانوں کا سلسلہ بند کردیا گیا تھا ، کہ کلام خدا کی تبلیغ اور تحریر کی گئی تھی۔ اور لکھا ہوا ، ضروری نہیں کہ 2000 سال پہلے کے محاورے کے انداز میں ، بلکہ اسلوب اور اس وقت کے محاورات میں۔ اس طرح کی تحریروں کو نئے عہد نامے کی نظریاتی تحریروں کے ساتھ بھی ، ماد ے سے اتفاق کرنا چاہئے۔ نیز ، ہمیں توقع کرنی چاہئے کہ پیشن گوئی کی اپنی کتاب میں ، سینٹ جان کی طرح پیشن گوئی کی کچھ تکمیل تلاش کریں۔ ہم شاید کچھ تکمیل کی توقع بھی کر سکتے ہیں جو عظیم اہرام کی پیش گوئیوں سے متفق ہے۔ یہ اہرام ، جو دوسروں سے بالکل مختلف ہے ، بہت حیرت انگیز ، بہت سے مختلف طریقوں سے ڈیزائن اور بنایا گیا ہے ، کہ آج کے بہت سے انجینئروں کو شبہ ہے کہ کیا آج کے علم کے ساتھ اس کی نقل تیار کی جا سکتی ہے۔ یہ یسوع سے 2600 سال قبل تعمیر ہوا تھا ، اور یہ خدا کی طرف انسانیت کی روحانی نشوونما اور ترقی کی پیش گوئی کرتا ہے۔ پیشن گوئی الفاظ میں نہیں بلکہ ساخت کے مطابق ہے ، اور مسیح موعود کے آنے کی پیش گوئی واضح طور پر ظاہر کی گئی ہے اور قطعی طور پر پوری ہوئی تھی ، یہاں تک کہ یسوع کے جی اٹھنے کے وقت سنتوں کے جی اٹھنے کی بھی عکاسی کرتی ہے۔ (متی 27 :52) یسوع کی مسیحی تقسیم کے بعد ، اہرام میں روشنی اور پیشرفت کے دور کی پیشن گوئی کی گئی ہے جو 1875 کے شروع ہونے والے دور تک ترقی کے ایک حتمی قدم پر پہنچے گی۔

جب ہم اس مدت کا تجزیہ کرتے ہیں تو ، 1875 سے لے کر آج تک ، ہم اسے سائنس ، ایجادات اور انجینئرنگ کا سب سے بڑا دور معلوم کرتے ہیں جو دنیا جانتی ہے۔ نیز ، یہ ایک ایسے دور کی نمائندگی کرتا ہے جب انسان ان کے تابع رہنے کی بجائے معاملہ اور مادی حالات پر کافی حد تک ، غالب ہو جاتا ہے۔ یہ 1844 میں ہی تھا کہ عظیم مائیکل فراڈے نے ، فلسفیانہ میگزین میں شائع ہونے والے ایک مقالے میں ، جسمانی اشیاء کی بے راہ روی پر ان کے اعتقاد کا فائدہ اٹھایا تھا۔ 1840 کے اسی دور میں کئی دیگر مشہور شخصیات نے بھی اسی طرح کے دعوے کیے۔ 1844 میں ، میری بیکر ایڈی ، جیسا کہ انہوں نے بعد کے برسوں میں لکھا ، ’’اس بات کا یقین کر لیا گیا کہ فانی دماغ نے تمام بیماری پیدا کردی ہے ، اور یہ کہ مختلف طبی نظریات کسی بھی معنی میں سائنسی نہیں ہیں۔‘‘

دوسری آمد کی شفا

اپنی پچانوے صفحوں پر مشتمل خودنوشت میں ، مسز ایڈی لکھتی ہیں ، ’’میری دریافت سے [بیس سال پہلے [سن 1866] میں ذہنی مقصد کے لئے تمام جسمانی اثرات کو ڈھونڈنے کی کوشش کر رہی تھی۔‘‘ جب 1866 میں اس کی موت ہوئی ، اس نے آقا کے اس بیان کو یاد کیا ، ’’راہ ، حق اور زندگی میں ہوں۔ کوئی میرے وسیلہ کے بغیر باپ کے پاس نہیں جاتا۔‘‘ اس یاد کے ساتھ روشنی اور خوش بختی کا ایک سیلاب آیا ، اور اس نے اپنے آپ کو شفا بخش پایا۔ اس کے فورا بعد ہی ، اس نے پایا کہ مسیح کی یہ روح اس سے دوسروں تک پائے گی ، اور اس نے انھیں ٹھیک کردیا ، عام طور پر فوری طور پر ، اس نے اپنے ابتدائی سولہ سالوں کے کام کے دوران کبھی بھی کوئی کیس نہیں کھویا۔ یہاں تک کہ اپاہج ، پیدائش سے ہی معل ؛ل ، مسیح کے روح سے مل گئے اور مکمل طور پر بحال ہوگئے۔ یہاں تک کہ متعدد ایسے تھے جو مردوں میں سے جی اُٹھے تھے۔

یسوع لوٹ کر آنے والا ہے؟

انجیلی بشارت کے گروہ ، جیسے کہ ، ڈاکٹر بلی ہارگس ، ڈاکٹر بلی گراہم ، ہربرٹ ڈبلیو آرمسٹرونگ اور دیگر انجیلی بشارت کے رہنما ، ابھی بھی آدمی ، یسوع کی واپسی کی صورت میں دوسری آمد کی توقع کر رہے ہیں۔ انہیں یقین ہے کہ وہ ذاتی طور پر مذہبی احیاء کی راہنمائی کرنے ، اور اس وقت کی سیاسی حکومتوں کی جگہ خدا کی حکومت قائم کرنے کے لئے واپس آئے گا۔ وہ یقین رکھتے ہیں کہ مسیح کی یہ واپسی ، یسوع کے فرد میں ، قریب قریب ہے۔ کیا وہ یسوع کی اس دوہری نوعیت کو الجھا نہیں رہے ہیں؟ یسوع ، مریم کے بیٹے کی حیثیت سے ، معمولی ، مادی چیزوں کی بات کرسکتے ہیں جیسے کوئی انسان بول سکتا ہے ، لیکن خدا کے بیٹے کی حیثیت سے ، وہ خدا سے مسیح کی طرح بات کرسکتا ہے۔ اس نے ایک بار کہا ، ’’ابراہیم سے پہلے میں تھا۔‘‘ حضرت ابراہیم یسوع سے 2000 سال پہلے زندہ رہے ، تو یہ ظاہر ہے کہ یسوع ابراہیم سے پہلے نہیں جیتا تھا۔ لیکن مسیح کی حیثیت سے ، وہ خدا کی طرح ابدی تھا ، اور اس نے یقینی طور پر خود کو ابدی مسیح کے طور پر پہچان لیا ، اتنا ، کہ کبھی کبھی وہ خود بھی خدا کی طرح دکھائی دیتا تھا۔ اگر اس نے اپنے مشن کو پورا کیا اور زندگی کے اعلی مقام پر ترقی کرتے ہوئے جسم سے فارغ التحصیل ہو تو ، اسے 2000 سال کے بعد کیوں نہ تو فرسودہ ، زمینی وجود کی طرف لوٹنا چاہئے؟

پیشن گوئی کی تکمیل عام طور پر مانی نہیں جاتی

لفظ مسیح اکثر یسوع کے مترادف کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ صحیح معنوں میں ، یہ مترادف نہیں بلکہ عنوان ہے۔ یسوع کے دن کے بہت سے لوگ وعدہ مسیحا کی توقع کر رہے تھے، کسی حد تک داؤد بادشاہ کے حکم کے بعد ، جو اسرائیل کے پاس اب تک کے بہترین روحانی اور دنیاوی رہنما تھے۔ اس وقت جب یسوع پیش گوئی کر رہا تھا ، یہودی لوگوں کی اکثریت اس سے واقف نہیں تھی ، اور اسے یقین نہیں تھا کہ نوجوان مبلغ وعدہ مسیحا تھا۔ پیشن گوئیاں پوری ہونے پر شاذ و نادر ہی سمجھی جاتی ہیں ، لیکن تکمیل کے بعد کہیں واضح ہوجاتی ہیں۔

نیز ، مسیحیوں کی بڑی اکثریت یہ نہیں مانتی تھی کہ مسز ایڈی پیش گوئیاں پوری کررہی ہیں اور انہیں یقین نہیں تھا کہ وہ مسیح کے دوسرے آنے کی نمائندگی کرتی ہیں۔ ان کا خیال تھا کہ وہ اس کے خیالات میں غلطی سے گذر گئی ہے ، اور ایسے بھی تھے جن کو یہ لگا کہ وہ نہ تو مسیحی ہیں اور نہ ہی سائنسی۔ کچھ لوگ اس بات پر راضی ہوگئے کہ وہ ایک چارلیٹن ہے۔ یقیناًانہیں غلطی ہوئی ہوگی۔ نہ صرف اس کی حیرت انگیز شفا 2000 سال قبل یسوع کے ذریعہ عجیب و غریب علاج کے طریقوں کے بعد عمل میں آئی تھی ، بلکہ اس کا تسلسل کچھ حد تک تھا۔ یہ توقع کی جانی چاہئے کہ ان کے بہت سے پیروکاروں نے مسیح کے بارے میں ایک ایسی تفہیم حاصل کی ہوگی جس سے وہ ان کو شفا بخش پانے کے قابل ہوجاتے ، یہاں تک کہ شاگردوں اور بہت سے ابتدائی مسیحیوں نے مسیح کی شفا بخشتیوں کو کئی سالوں سے چلائے رکھا۔ ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ ان کے بہت سے پیروکار اس طرح کی شفا یابی کرتے ہیں ، حالانکہ دوسرے لوگ اس قدر اعتقاد اور افہام و تفہیم تک نہیں بڑھ پائے ہیں۔

اس تفہیم کو بے حد بڑھایا گیا تھا ، بے شک ، مسز ایڈی کی نصابی کتاب کے ذریعہ ، اس کی زیادہ کاپیاں بائبل کے علاوہ ، اب تک شائع ہونے والی کسی بھی دوسری کتاب کے مقابلے میں فروخت کی گئیں۔ 1931 میں ، صرف اس خاتون کی صفحات پر مشتمل ایک چھوٹی سی کتاب نجی خاتون کے ذریعہ نجی طور پر شائع ہوئی جس نے 1898 میں جرمنی میں کرسچن سائنس متعارف کروائی۔ اس کتاب کا عنوان جرمنی میں کرسچن سائنس ، فرانسس تھربر مہر نے لکھا ہے ، اور اس میں نہ صرف بہت سے حیران کن معالجے ہیں ، بلکہ ابتدائی مسیحیوں میں سے بھی کچھ ایسے ہی تجربات ہیں۔ یہ ایک جواہر ہے۔ کوئی بھی ، اس چھوٹے سے جواہر کو پڑھنے کے بعد ، ایک لمحہ کے لئے بھی شک کرسکتا ہے کہ دوسری آمد پہلے ہی واقع ہوچکی ہے! ان دنوں جو کچھ ہو رہا تھا اس کا زیادہ ادراک کیوں نہیں ہوا؟ اس کا جواب پرانی ، پرانی کہانی ہے: انسانی ذہن فطری طور پر خدائی دماغ یا مسیح کے مزاج کا ادراک نہیں کرتا ہے۔ یہ اس کی طرف مبذول نہیں ہوتا ہے اور اسے سمجھ نہیں آتا ہے۔ نیز ، زیادہ تر مذہب پرست کوئی بھی مسیحی تحریر یا مسیحی کامیابیوں سے متعلق سوال کرنے اور یہاں تک کہ غلط انکشاف کرتے ہیں جو ان کے اپنے چرچ یا اپنی مذہبی عقائد کی نہیں ہیں۔ اس طرح ، زمین پر کنفیوژن یا غلط بیانی کا بادل پھیل جاتا ہے ، اور زیادہ تر ہر ایک نہ کسی حد تک اس کی زد میں آتا ہے۔ اس سے تھوڑا فرق پڑتا ہے چاہے سال 30 عیسوی یا 1900 عیسوی یا 1970 عیسوی۔ جو روح کا ہے وہ عام طور پر کسی کا دھیان نہیں جاتا ہے ، یا غلط فہمی اور غلط بیانی کی جاتی ہے۔

ناگزیر نتائج اس کے نتیجے میں ، ہماری بگڑتی ہوئی اقدار اور ان اعلی معیارات سے سابقہ جن عہدوں پر عمل پیرا تھے ان کی وجہ سے پریشانی ، تناؤ ، الجھن اور ہمارے زمانے کی ناانصافی زیادہ نہیں ہے؟ کیا ہماری قوم دوسری آمد سے رجوع کرنے اور روحانی اونچی لہر کو تسلیم نہ کرنے کی قیمت ادا نہیں کر رہی ہے جس کی وجہ سے قوم کی اس قدر مادی ترقی ممکن ہوئی ہے؟ کیا ہمارے لوگوں نے سونے کو بہت زیادہ اور ہنس کو بہت کم پسند نہیں کیا ہے؟ کیا دیگر قوموں کو بھی ’’دوسرے خداؤں کے پیچھے جانے‘‘ کے سبب سے انصاف کے کٹہرے میں نہیں لایا جائے گا؟ کیا اب وقت نہیں آیا ہے کہ اس عظیم قوم کو ، جس نے انسان کی مکمل آزادی کے احساس کو جنم دیا ، جس نے انسان کو اب تک کی جانے والی حکومت کی سب سے اعلی شکل کو جنم دیا ، اور جس نے مریم بیکر ایڈی اور دوسری آمد کو جنم دیا ، کو پھر سے اس کا رخ کرنا چاہئے۔ پروردگار ، کہ اسے اپنے آجیئن اصطبلوں کو صاف کرنا چاہئے ، اور یہ کہ ’’ NOVUS ORDO SECLORUM‘‘ کے زمانے کا ایک نیا حکم دوبارہ قائم کرنا چاہئے؟ - جو ہمارے ایک ڈالر کے بلوں پر ظاہر ہوتا ہے۔

کلیسیا ، - یہ کیا ہے؟

گرجا گھروں کے بگاڑ پر قوم کے بگاڑ کا اظہار یقینی طور پر ہوتا ہے۔ یسوع نے کبھی بھی کسی تنظیم یا چرچ کی تعمیر کے معنی میں ، کوئی چرچ قائم نہیں کیا۔ مسز ایڈی چرچ قائم نہیں کرنا چاہتیں ، لیکن انہوں نے اپنی تحریروں اور اپنے لیکچرز کے ذریعہ اپنی حیرت انگیز دریافت کو پوری طرح سے مہیا کرنے کی امید کی ، اور یہ خیال کیا کہ مسیحی چرچ ان تحریروں کی حقیقت کو محسوس کریں گے ، اور انھیں گلے لگائیں گے۔ جب گرجا گھروں نے ان کو قبول نہیں کیا تو ، بالآخر اس نے اپنی دریافت کو محفوظ رکھنے اور اسے آنے والی نسلوں تک زندہ رکھنے کے لئے اپنا چرچ قائم کرنے پر مجبور کیا۔ بعد میں ، اس نے اپنی درسی کتاب میں چرچ کی تعریف شامل کی۔ تاہم ، یہ تعریف اس کے مادی تصور کی بجائے مکمل طور پر روحانی خطوط کے ساتھ ہے۔ اس میں لکھا ہے: ’’کلیسیا۔ سچائی اور محبت کا ڈھانچہ؛ جو کچھ بھی الہی اصول پر قائم ہے اور آگے بڑھتا ہے۔‘‘

’’کلیسیا وہ ادارہ ہے ، جو اپنی افادیت کا ثبوت دیتا ہے اور اسے دوڑ میں اضافہ کرتا ہے ، جو مادی عقائد سے روحانی نظریات کی گرفت اور الہی سائنس کے مظاہرے تک پھیل جاتا ہے ، اس طرح سے شیطانوں کو خارج کرتا ہے ، یا غلطی اور شفا بخش ہے۔ بیمار۔‘‘

حقیقی کلیسیا

1894 میں جب اپنے اصلی مدر چرچ کو سرشار کرتے ہوئے ، مسز ایڈی نے کہا ، ’’چرچ ، کسی بھی دوسرے ادارے سے زیادہ ، اس وقت معاشرے کا سیمنٹ ہے ، اور یہ شہری اور مذہبی آزادی کا بنیادی دامن ہونا چاہئے۔ لیکن وہ وقت آگیا جب مذہبی عنصر ، یا چرچ آف مسیح ، پیار میں تنہا موجود ہوں گے ، اور اس کے اظہار کے لئے کسی تنظیم کی ضرورت نہیں ہوگی۔‘‘ اس سے دو سال قبل ، مسز ایڈی اپنا چرچ بلڈنگ فنڈ قائم کررہی تھیں ، اور اس نے 1892 کے مارچ میں ، اس وقت اپنے کرسچن سائنس جرنل میں لکھا تھا ، ’’مادی طور پر مسیح کے چرچ کو منظم کرنا ناگزیر نہیں ہے۔ پادریوں کو مقرر کرنا اور گرجا گھروں کو وقف کرنا بالکل ضروری نہیں ہے۔ لیکن اگر یہ کیا جاتا ہے تو ، اس کو مدت تک مراعات دیئے جائیں ، اور نہ کہ کلیسیا کی مستقل یا ناگزیر تقریب کی حیثیت سے۔ اگر ہمارا چرچ منظم ہے تو ، اس مطالبے کو پورا کرنا ہے ، ’اب ایسا ہی ہونا ہے۔‘ اصل مسیحی معاہدہ ایک دوسرے سے محبت ہے۔ یہ رشتہ مکمل طور پر روحانی اور ملحوظ ہے۔‘‘‘

جب یسوع صحیح چرچ میں اشارہ نہیں کر رہا تھا جب یعقوب کی سامری عورت نے اسے اچھا کہا ، ’’جناب ، میں نے محسوس کیا کہ آپ نبی ہیں۔ ہمارے باپ دادا اس پہاڑ میں پوجا کرتے تھے۔ اور تم کہتے ہو کہ یروشلم میں وہ جگہ ہے جہاں لوگوں کو عبادت کرنا چاہئے۔ ‘‘یسوع نے اس سے کہا ، ’’ اے عورت ، مجھ پر یقین کرو ، وہ وقت آگیا ہے جب آپ نہ تو اس پہاڑ میں ، نہ یروشلم میں باپ کی عبادت کریں گے۔ تم عبادت کرتے ہو کس چیز کو نہیں جانتے: ہم جانتے ہیں کہ ہم کس کی عبادت کرتے ہیں: کیونکہ نجات یہودیوں کی ہے۔ لیکن وقت آگیا ہے ، اور اب وقت آگیا ہے جب حقیقی عبادت گزار باپ کی روح اور سچائی کے ساتھ عبادت کریں گے۔ کیوں کہ باپ اس کی عبادت کا خواہاں ہے۔ خدا ایک روح ہے۔ اور جو لوگ اس کی عبادت کرتے ہیں ان کو روح اور سچائی سے اس کی عبادت کرنی چاہئے۔(یوحنا 4)

ایک بار پھر ، جب یسوع نے سچ چرچ کی طرف اشارہ نہیں کیا تھا جب اس نے پطرس کی طرف رجوع کیا اور کہا ،’’مبارک ہے تْو شمعون بر یوناہ[شمعون، یونا ہکے بیٹے]: کیونکہ یہ بات گوشت اور خون نے نہیں بلکہ میرے باپ نے جو آسمان پر ہے تجھ پر ظاہر کی ہے۔ [ارایمک میں ، لفظ آسمان کاترجمہ جنت یا کائنات میں ہوتا ہے۔]اور مَیں تجھ سے کہتا ہوں کہ تْو پطرس ہے [پیٹروس، مطلب پتھر]، اور اِس پتھر پر میں اپنی کلیسیا بنائوں گا۔‘‘ پطرس نے جان لیا تھا کہ واقعی یسوع کون ہے اور کہا ، ’’تْو زندہ خدا کا بیٹا مسیح ہے۔‘‘ اس طرح حقیقی چرچ مسیح کی اس پہچان پر ، اس روحانی طاقت اور اثر و رسوخ پر تعمیر کیا جانا تھا ، جو ہمیشہ ایک ہی خدا کی طرف سے پیدا ہوتا ہے۔ ایک ہی خدا یہودیوں کا خدا تھا ، اور ان دنوں میں کوئی اور لوگوں کا خدا نہیں تھا۔ مسیح ، یقینا، ، خدا کے لئےاسی طرح ہے جیسے سورج کی روشنی سورج کی طرف ہے۔

مسیح کی روح ایک دریافت

مسیحت کا معنی خیز حصہ صرف دو یا تین سو سال تک جاری رہا۔ مسز ایڈی کو اسے دوبارہ دریافت کرنا پڑا۔ پھر کرسچن سائنس کا معنی خیز حصہ صرف پچھتر سال یا اس سے زیادہ عرصہ تک جاری رہا۔ لہذا ، اب ایک حیات نو اور تجدید نو کی بہت بڑی ضرورت ہے جو خدا کی حیرت انگیز حیرت انگیز چیزوں کو ایک بار پھر دھیان میں لے آئے گی جو ختم ہوچکی ہیں اور بار بار فراموش کردی گئیں ، ان تمام انبیاء اور یہاں تک کہ آدم کو بھی اور حوا.

مسیح کے دور کے بعد ہمیشہ مخالفِ مسیح کا دور آتا ہے

مسز ایڈی نے بہت سے لوگوں کو فوری طور پر شفا بخشی ، یہاں تک کہ یسوع نے بھی۔ وہ زندہ سچائی کو اتنی واضح اور روحانی روح کے ساتھ بولی کہ لوگ نہ صرف شفا پائے گئے بلکہ دوبارہ پیدا ہوئے ، یہاں تک کہ یسوع کے ساتھ ہی۔ پھر بھی اس کے الفاظ اور ان کی روح کو مسیحیوں کی اکثریت نے قبول نہیں کیا ، یہاں تک کہ یسوع کے الفاظ اور ان میں سے روح یہودیوں کے ذریعہ قبول نہیں ہوئی تھی۔ یسوع مسیح کی منتقلی کے 300 برسوں کے بعد ، روشنی تقریباً ختم ہو چکی تھی ، روحانی تندرستی بڑی حد تک ختم ہوگئی تھی ، اور مادیت پسندی کے تاریک دور نے عظیم مسیحا کے الفاظ اور کارناموں کو آگے بڑھانا اور اسے بدنام کرنا شروع کردیا تھا۔

مسز ایڈی کی منتقلی کے تیس سالوں کے اندر ، روشنی تقریبا ختم ہو چکی تھی ، روحانی تندرستی بڑی حد تک ختم ہو چکی تھی اور دجال کے دوسرے دور کی تاریک عمر مسیح روح کے دوسرے آنے کے الفاظ اور کارناموں کو بدنام کرنے لگی۔ دوسرے آنے کی پیش گوئی دونوں مقدس یوحنا اور یسوع نے کی تھی ، اور یہ پیش گوئی کرتے ہی سامنے آیا تھا۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ چار مراحل یا مراحل میں نمودار ہوا ، ان میں سے 1844 ، 1866 ، 1875 ، اور ایک ، ممکنہ طور پر 1977 میں۔ پچھلی صدی کے آخری تیسرے حصے میں ، یہ واضح ہوتا جارہا ہے اور واضح ہوتا جارہا ہے ، اور اس کی تاثیر کو مزید وسیع پیمانے پر تسلیم کیا گیا۔ مسز ایڈی کے انتقال کے فورا بعد ہی ، 1910 میں ، مخالفِ مسیح کا دور بہت آہستہ آہستہ اور باریک بینی سے اپنی دراندازی اور دماغ دھونے لگا۔ اس کی واضح پیش گوئی یوحنا اور یسوع دونوں ہی نے کی تھی ، اور مسز ایڈی نے بھی۔ مخالفِ مسیح کا دور ایک نفرت انگیز دور کے طور پر بھی نامزد کیا جاسکتا ہے۔

واضح سمجھنے کی بہت ضرورت ہے

ایک خدا اور اس کے مسیح کی دریافت چرچ اور تمام مسیحت کا اصل مرکز ہے۔ یہ ایک ذہنی ، اخلاقی اور روحانی دریافت ہے۔ پھر بھی ، اس دریافت کی پیروی کا مطالبہ کیا گیا ہے، تاکہ خدا کی بارگاہ میں شعوری طور پر زیادہ سے زیادہ زندہ رہ سکے ، اور مسیح کی روح سے زیادہ مجسم ہوں۔ اس سے کسی کی زندگی کی پوری روش بدل جاتی ہے۔ دنیا کو ایک مختلف روشنی میں دیکھا جاتا ہے ، زندگی میں ایک کا مقصد بلند تر ہوتا ہے ، اور زندگی میں ایک کے نقطہ نظر کو ایک بہتر اور یقینی لہجہ اختیار کیا جاتا ہے۔ مسز ایڈی نے لکھا ، ’’یسوع ناصری فطری اور الہی سائنسدان تھا۔ مادی دنیا کے اسے دیکھنے سے پہلے وہ ایسا ہی تھا۔ وہ جس نے ابراہیم کی حاضری دی ، اور مسیحی عہد میں دنیا کو ایک نئی تاریخ دی ، وہ ایک کرسچن سائنس دان تھا ، جس کو ثبوت کی سرزنش کرنے کے لئے سائنس کی موجودگی کی کوئی دریافت نہیں تھی۔ تاہم جسم سے پیدا ہونے والے افراد کے لئے، الہی سائنس کو ایک دریافت ہونا چاہئے۔ ‘‘ایک بار پھر ، اس نے لکھا ، ’’کون یہ جرات کرنے کی جر أت کرتا ہے کہ مادے یا انسان سائنس سے ارتقا کرسکتے ہیں؟ پھر ، یہ ، کہاں سے ، اگر الہی ذریعہ سے نہیں ہے ، اور کیا ہے ، لیکن مسیحت کے ہم عصر ، انسانی علم سے بہت پہلے ہی کہ انسانوں کو بھی اس کے ایک حصے کی کھوج کے لئےکام کرنا چاہئے؟ ‘‘

اگر مادا اتنا ہی حقیقی ، یا ٹھوس ، یا جتنا مستقل ظاہر ہوتا ہے ، تو پھر یسوع اچانک نمودار اور غائب نہیں ہوسکتا تھا ، یا طوفان کو دبا دیتا تھا ، یا مردوں کو زندہ کرسکتا تھا ، یا پانچ ہزار کو کھانا کھلا سکتا تھا۔ بنیادی طور پر ، معجزہ یا کوئی مافوق الفطرت واقع ہونے والی کوئی چیز نہیں ہے۔ مادی کائنات کے قوانین یا خدا کی شریعت کے مطابق ہر چیز کو شریعت کا جواب دینا ہوگا۔ اگر خدا کا قانون ہی سب سے بڑا قانون ہے تو پھر جو شخص ذہانت سے اس کے تحت کام کرتا ہے وہ اس کے لئے معجزے کرتا دکھائی دیتا ہے جو اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتا ہے۔

اس طرح ، خدا اور انسان کی اصل فطرت کی واضح تفہیم سب سے زیادہ قیمتی ہے! یہ مسیح کے حقیقی چرچ کی بہتر تفہیم میں مدد کرتا ہے ، ایک ایسا چرچ جس کو ضروری نہیں کہ اس کے اظہار کے لئے کسی عمارت کی ضرورت ہو اور نہ ہی کسی مسلک کی۔ سچا چرچ ، یا مسیحی چرچ ، یقیناًجسمانی چرچ ، اس کی جسمانی تنظیم اور اس کی رسم و رواج سے بالاتر ہے۔

مذہبی تنظیمیں

تقریباًہر مذہب کی ناگزیر اصل نہ مذہب تھی اور نہ ہی کوئی تنظیم۔ یہ زندگی کا ایک طریقہ تھا ، خدا سے رابطہ کرنے اور اس کے ساتھ انسان کے رشتے کو سمجھنے کا ایک طریقہ۔ لطوریائی حصہ ، چرچ کی خدمت ، مکرم ، مسلک اور تنظیم ہمیشہ بعد میں ہوتی تھی۔ جب چرچ اور تنظیم اچھی طرح سے قائم ہوچکے تھے ، اور بانی گزر چکے تھے ، تو عموماًبانی روح کم ہوجاتی تھی۔

اس طرح چرچ ، جو فرد کے لئے بہت بڑی مددگار ثابت ہوسکتا ہے ، بھی رکاوٹ بن سکتا ہے۔ یہ ایک ہے یا دوسرا فرد کے رویہ اور چرچ پر بھی انحصار کرے گا ، چاہے وہ فرد کو اپنے اندرونی وجود یعنی ’’خدا کی بادشاہی ،‘‘ کی تجدید کے ساتھ کھانا کھلانا جاری رکھے۔ محض چرچ کی رسمی رسمیں پیش کرنے کے بجائے ، یا روح کے بغیر کلام کا محض خط جو روشن اور شفا بخش ہے۔

خدا کے مطالبات بہتر سمجھے گئے

صدیوں کے دوران ، ہر دور کے عظیم روحانی پیشواؤں نے خدا کی تلاش ، اس کی اطاعت اور اپنے لوگوں کو برائی اور ظلم سے نجات دلانے اور خدا کی تقرری کے راستہ پر جانے میں سب سے بہتر کام کیا۔ وہ عام طور پر ایک نقطہ تک کامیاب رہے ، لیکن اعلی نقطہ نظر سے لوگوں کے ذریعہ ہمیشہ "گرتے" رہتے تھے جو ان کے سامنے رکھے گئے تھے۔ تاہم ، ہر نئے رہنما نے خدا کے تقاضوں کو کچھ مختلف انداز میں تشریح کیا۔ پہلی بار آمد کے وقت تک ، یسوع خدا کو عشق کے خدا اور اصول کائنات کے طور پر سمجھتے تھے۔ تاہم ، یسوع کی طرف سے اس اصول کو اپنے دشمنوں کو ختم کرنے کے لئے استعمال کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی ، جیسا کہ عہد عہد قدیم کے زمانے میں تھا ، اور نہ ہی مسز ایڈی کے اپنے دشمنوں کو ختم کرنے کے لئے۔ پھر بھی ، وہی خدا تھا۔ خدائی تقاضوں کی ترجمانی خدا ، انسان اور کائنات کی اصل فطرت کی واضح تفہیم تک پہنچی تھی۔

بہت سارے مسیحیوں نے ، کئی سالوں سے ، یہ نظریہ قبول کیا ہے کہ انسان ’’خدا کی صورت اورشبیہ‘‘ میں تخلیق کیا گیا ہے ، اور اسی وجہ سے ، انہوں نے یہ تصور کرنے کی کوشش کی کہ خدا ایک عظیم اور قابل احترام فرد ہے ، جو آسمانوں میں واقع ہے۔ تاہم ، یسوع نے کہا ، ’’خدا ایک روح ہے۔‘‘ لہذا انسان ، یسوع کے نقطہ نظر سے ، روحانی ہے ، اور وہ روح سے ظاہر ہوتا ہے یا ظاہر کرتا ہے۔ پرانے عہد نامہ کے ریکارڈ ، نئے عہد نامہ اور دوسری پیش کش کے ریکارڈوں کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ یہ روح یا اصول انسان کو معلوم ہوسکتا ہے اور اسی کے ذریعے کام کرسکتا ہے۔ یسوع یقینا ً خود تنہا نہیں بول رہا تھا جب اس نے کہا ، ’’میں اور میرا باپ ایک ہیں۔‘‘ وہ جانتا تھا کہ مسیحی خود غرضی جو اس کا آبائی تھا وہ اب سب کے سب سے آبائی ہے ، لیکن اسے ڈھونڈنا اور ترقی کرنا پڑی۔ اس مسیحی خیال اور اس کے اصول کا ایک اعلی احساس یسوع اور میری بیکر ایڈی کے پاس تھا ، پھر بھی ان کے ذریعہ یہ صرف صحت مند ، صاف کرنے ، دوبارہ پیدا کرنے اور اس طرح کے آدم خواب کی زندگی کے مسمار کو توڑنے کے لئے استعمال کیا جاتا تھا۔ جس گوشت کو مسیحی پیروکار اونچا اٹھایا جائے گا ، جیسا کہ یسوع نے اپنے شاگردوں سے کہا ، ’’وہ چیزیں جو تم دیکھتے ہو دیکھو ، اور سنو گے جو تم سنتے ہو۔‘‘ (لوقا 10: 23 ، 24)

پینڈولم کا ہلنا

یسوع کی منتقلی کے تین سو سال کے اندر ، روشنی تقریبا نکل گئی ، تاریکی دور کی تاریکی میں داخل ہوگئی ، اور دجال نے اعلی حکمرانی کی۔ مسز ایڈی کی منتقلی کے تیس سالوں کے اندر ، روشنی تقریبا ختم ہو گئی ، اور اب دجال زمین میں بیرون ملک ہے۔ لیکن اس امید کی کوئی وجہ ہے کہ روحانی نشاۃ ثانیہ کے دن چنگاری دوبارہ پیدا ہو رہی ہے۔ حقیقت غلطی سے کہیں زیادہ متعدی ہے۔ نیکی برائی سے کہیں زیادہ متعدی ہے۔ جب دوسری کامیابی کے کارنامے اور تحریریں اپنے چاروں طرف پھیلی ہوئی مسماریت ، غلط فہمیوں اور غلط بیانیوں کے بادل کو توڑ دیں گی تو خدا ، انسان اور کائنات کے بارے میں واضح حقیقت اور واضح ہوجائے گی ، اور اس کی بازی اور قبولیت میں تیزی آئے گی . ہزاروں مہینے کی دوری شاید وقت کی تاریکی کے باوجود زیادہ دور نہ ہو۔ یقیناًاس صدی کے اختتام کو ابھرتا ہوا دور دیکھنا چاہئے۔

یسعیاہ کی پیش گوئی کی تکمیل کے ساتھ ، پوری دنیا کو تجدید کیا جاسکتا ہے۔ اور خدا کی طرف لوٹنا وسیع پیمانے پر ہوسکتا ہے۔ تب بہت سے لوگ ’’خدا کے بادشاہ اور کاہنوں‘‘ کی حیثیت سے بن جائیں گے ، اور مسیح ہمارے درمیان اور ہم میں بادشاہی کرے گا ، ’’ملکی صادق کے حکم کے بعد۔‘‘ (زبور 110؛ عبرانیوں 7)

روح یا خط

جب روحانی سچائی کی تلاش میں ، کسی کو یسوع کے وعدے کو نظرانداز نہیں کرنا چاہئے ’’اور مَیں باپ سے درخواست کروں گا تو وہ تُمہیں دوسرا مددگار بخشے گا کہ ابد تک تمہارے ساتھ رہے۔ یعنی روح حق جسے دنیا حاصل نہیں کرسکتی کیونکہ نہ اسے دیکھتی اور نہ جانتی ہے۔ تم اسے جانتے ہو کیونکہ وہ تمہارے ساتھ رہتا ہے اور تمہارے اندر ہوگا۔‘‘ یہ ممکن ہے کہ آج مسز ایڈی کی تعلیمات یا چرچ آف مسز ایڈی کی پیروی کرنے والے بہت سارے افراد مسز ایڈی کے دن کی نسبت اس کو ایک منظم مذہب کے طور پر زیادہ قبول کرتے ہیں ، جنہوں نے اسے ایک زندہ سچائی کے طور پر دیکھا ، شفا یابی سے دوچار ،۔ اصول ، فرد کو زندہ کرنا ، نہ صرف گناہ اور بیماری سے ، بلکہ فکری مادیت کی بنجر سے بھی۔

مذہبی مباحثے اور دلائل ، تاہم ، کثرت سے اچھے سے زیادہ نقصان ہوتا ہے۔ کوئی بھی اپنے مذہب کی روایتی اصطلاحات پر بات کرسکتا ہے ، لیکن یہ ایک ایسا نادر فرد ہے جو روحانی لہجے ، روشن خیالی اور شفا بخش ہونے کا انکشاف کرسکتا ہے جو بنیادی طور پر کسی بھی اور تمام سچے مذاہب کو بیان کرتا ہے۔ جنوری 1904 میں ، مسز ایڈی نے اپنے گھر کے متعدد طلباء سے کہا ، ’’میں ایک لفظ سے شفا بخشا کرتا تھا۔ میں نے بیماری کی وجہ سے ایک شخص کو پیلے رنگ دیکھا ہے ، اور اگلے ہی لمحے میں نے اس کی طرف دیکھا اور اس کا رنگ ٹھیک تھا۔ شفا بخش تھی۔ مجھے یہ نہیں معلوم تھا کہ یہ بچے کے مقابلے میں کیسے ہوتا ہے۔ صرف یہ ہر بار کیا گیا تھا۔ میں کبھی ناکام نہیں ہوا؛ تقریباً ہمیشہ ایک ہی علاج میں؛ کبھی بھی تین سے زیادہ نہیں۔ اب خدا مجھے دکھا رہا ہے کہ کیسے ، اور میں آپ کو دکھا رہا ہوں۔ ‘‘

راستہ کون جانتا ہے؟

یہ سوال فطری طور پر خود کو پیش کرتا ہے ، کہ آج کل کتنے لوگ اس اصول اور طرز زندگی ، خدا ، انسان اور کائنات کے بارے میں گرجہ گھروں میں ، یا صرف تحریری لفظ کے ذریعے دریافت کر رہے ہیں؟ جاننا یقیناًناممکن ہے۔ لیکن امید ہے کہ یہاں پیش کیے گئے زبردست شواہد دوسروں کو کسی حد تک تلاش کرنے کے لئے حوصلہ افزائی کریں گے ، جس کو میری بیکر ایڈی نے اتنے بڑے پیمانے پر پایا ، اور جو مالک کو بدیہی طور پر جانتا تھا۔

ریکارڈ شدہ شفایابیاں از میری بیکر ایڈی

اس کے بعد جو شفا یابی ہوئی ہے وہ مسز ایڈی کی صحت مند ہونے کی صلاحیت کے زبردست ثبوت کا ایک حصہ ہیں ، یہاں تک کہ اس کی دو کتابیں ، سائنس اور صحت اور متفرق تحریروں میں جو شفا یابی کی گئی ہے ، ان لوگوں کے لئے ان کی تحریروں کی شفا بخش قوت کے زبردست ثبوت پیش کرتی ہے انسان کی روحانی نوعیت اور خدا سے اس کے رشتے کے بارے میں کچھ جاننے کے قابل ہیں۔

(1) مسز ایڈی کسی بھی شکل میں غلطی کو برداشت نہیں کریں گی ، غلطی اس کی اصطلاح کسی بھی چیز کے لئے ہم آہنگی اور کمال کے حقیقی احساس کے برعکس نہیں ہے جو خدا ہمیشہ انسان کو دے رہا ہے۔ ایک وقت میں ، جب مسز ایڈی اپنے کمرے میں کھانا لے کر آرہی تھیں ، اس کارکن کو جو کھانا لانے والے تھے ، شدید سردی تھی۔ مسز ایڈی کے کمرے کے دروازے کے قریب پہنچتے ہی اس نے اسے چھپانے کی پوری کوشش کی ، جہاں مسز ایڈی نے دیکھا ، کارکن کی پوری ذہنی فضا کو ایک نظر دیکھ لیا ، اور ایک کمانڈنگ لہجے میں کہا۔ ’’گرا دو!‘‘ کارکن نے فورا. ٹرے ، ڈشز ، ڈنر اور سب کو چھوڑ دیا۔ گندگی صاف کرنے کے بعد ، اس نے محسوس کیا کہ وہ سردی سے بالکل آزاد ہے۔

(2) ’’مسز ایڈی ایک بار ایک ایسے مکان میں گئی جہاں اس نے دالان میں ایک عورت کو روتے ہوئے دیکھا۔ اس عورت نے کہا ، ’میری بیٹی کھپت سے مر رہی ہے۔ ڈاکٹر ابھی چلا گیا ہے اور اس نے مجھے بتایا کہ وہ اس کے لئے مزید کچھ نہیں کرسکتا ہے۔ ‘مسز ایڈی نے پوچھا کہ کیا وہ اوپر جاکر بیٹی کو شفا بخش سکتی ہے۔ والدہ نے اتفاق کیا ، اور مسز ایڈی بیڈ روم پر اوپر چلی گئیں۔ والد ، جو مسز ایڈی کا بہت مخالف تھا ، بستر کے ساتھ کھڑا تھا۔ لیکن مسز ایڈی نے محسوس کیا کہ ، ماں کی طرف سے لڑکی کی مدد کرنے کی اجازت ملنے کے بعد ، اس کے لئے آگے بڑھنا درست تھا ، لہذا اس نے بیمار بچی سے کہا ، ’اٹھو اور سیر کے لئے آو۔‘ وہ بچی اٹھی اور مسز ایڈی نے اس کے لباس کی مدد کی اور وہ ساتھ سیر کیلئے چلے گئے۔ باپ ان کے پیچھے چپکے چپکے درختوں کے پیچھے چکر لگا کر کونے کونے میں دیکھتا رہا ، ہر لمحہ اس کی بیٹی کی موت دیکھتا نظر آتا ہے۔ مسز ایڈی جانتی تھیں کہ وہ پیروی کررہے ہیں ، لیکن اس سے ان کے علاج معالجے میں مداخلت نہیں ہوئی ، کیونکہ جب وہ واک سے واپس آئیں تو بیٹی بالکل ٹھیک ہوگئی تھی۔‘‘

(3) ’’مسز ویلر مسز ایڈی کے ساتھ فرنیچر کی ایک دکان پر گئی تاکہ اسے کچھ کرسیاں منتخب کرنے میں مدد ملے۔ ان کے منتظر کلرک نے ایک آنکھ پر پٹی باندھی۔ مسز ایڈی سوچ میں مبتلا نظر آئیں جب انہیں کرسیاں دکھایا جارہا تھا ، ان پر بہت کم توجہ دی جارہی تھی ، اور جب اس پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ کس کو زیادہ پسند کرتی ہیں تو ، انہوں نے کہا،’کوئی بھی جس پر ہم بیٹھ سکتے ہیں۔‘ مسز ویلر مسز ایڈی کی بے حسی پر برہم ہوگئیں ، اور کلرک کو بتایا کہ وہ اگلے دن واپس آئیں گے اور کرسیوں کے بارے میں فیصلہ دیں گے۔ وہ دوکانیں کھولی ہوئی دوکانوں کے ساتھ دکان کی دوسری منزل پر تھے ، ایک سیڑھی میں ، دوسرا فٹ پاتھ تک خانوں کو سلائڈنگ کرنے کے لئے ایک جھونکا۔ مسز ایڈی نے ایک دروازہ کھولا اور سیڑھیاں سے نیچے چلی گئیں۔ مسز ویلر ، اس کی گھبراہٹ میں دوسرا دروازہ کھولا اور گلے پر قدم رکھ دیا ، اور فٹ پاتھ پر جا کھڑا ہوا جہاں مسز ایڈی بروقت پہنچ گئیں اسے دیکھتے ہی دیکھتے وہ خود اٹھا رہی تھی۔ مسز ویلر نے بزنس کی طرف توجہ نہ دینے پر مسز ایڈی کو ملامت کیا ، اور مسز ایڈی نے جواب دیا ، ’کیا میں کرسیوں کے بارے میں سوچ سکتا تھا جب وہ شخص پریشانی کا شکار تھا؟‘ جب اگلے دن مسز ویلر کرسیوں کے بارے میں دیکھنے گئیں تو کلرک نے کہا ، ’کل وہ عورت آپ کے ساتھ کون تھی؟ میری آنکھ میں پھوڑا تھا ، اور جب وہ باہر نکلی تو میں نے پٹی اتار لی ، اور اس کا کوئی نشان باقی نہیں تھا۔‘‘‘

(4) ’’ایک ایسی پناہ میں ، جہاں مسز ایڈی گاڑی چلایا کرتی تھی ، ایک ذہنی طور پر پاگل آدمی تھا جس کی ٹانگ میں زخم تھا۔ ہر روز جب وہ مسز ایڈی کی گاڑی آتے دیکھتے ، تو وہ گیٹ کے پاس بھاگتے اور اپنی جراب نیچے کی طرف کھینچتے تاکہ مسز ایڈی کو زخم نظر آئے۔ مسز سارجنٹ نے ہمیں بتایا کہ ایک دن جب وہ پلیزنٹ ویو میں تھیں تو انہوں نے مسز ایڈی کو سابقہ بہن کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ یہ شخص زخم اور پاگل پن سے صحت یاب ہوگیا ہے۔‘‘

((5 ’’جس وقت کونکورڈ میں چرچ تعمیر ہورہا تھا ، اس وقت مسز سویٹ عمارت میں چلی گئیں اور بورڈ پر پھسل گئیں اور خود کو چوٹ پہنچا۔ پلیزنٹ ویو کے کچھ کارکنوں نے اس کی مدد کرنے کی کوشش کی ، لیکن زیادہ کامیابی کے بغیر۔ مسز ایڈی نے ان سے پوچھا کہ مسز سویٹ کا کیا معاملہ ہے۔ انہوں نے جواب دیا کہ وہ بالکل ٹھیک ہیں۔ مسز ایڈی نے کہا ، ’وہ ٹھیک نہیں ہیں۔‘ اس کے بعد اس نے مسز سویٹ سے پوچھا کہ پریشانی کیا ہے ، اور بعد میں نے جواب دیا کہ یہ پورا کیا جارہا ہے۔ مسز ایڈی نے کہا ، ’اس سے ملاقات نہیں ہو رہی ہے۔‘ پھر مسز ایڈی نے اس سے پوچھا کہ وہ کس طرح کام کررہی ہے۔ مسز سویٹ نے جواب دیا کہ وہ جانتی ہیں کہ عقل میں کوئی حادثہ نہیں ہوا ہے۔ مسز ایڈی نے جواب دیا ، ’یہ آپ کو ٹھیک نہیں کرے گا۔ آپ میرے بہترین کارکنوں میں سے ایک ہیں۔ ‘اس کے بعد اس نے نشاندہی کی کہ بنیادی پریشانی ایک ایسی دلیل تھی جو مسز ایڈی کو اس کی افادیت میں مداخلت کرنے کے لئے ڈیزائن کی گئی تھی۔ جب سے مسز ایڈی نے ان سے بات چیت ختم کی ، مسز سویٹ ٹھیک ہو گئیں۔ مسز ایڈی نے اس سے کہا ، ‘میں آپ کے راحت کے لئے یہ کہوں گی کہ اگر آپ کو اپنے پورے جسم میں ٹوٹی ہر ہڈی کے ساتھ یہاں لایا جاتا تو آپ میرے علاج کا جواب دیں گے۔‘‘‘

(6) ’جب مسز ایڈی بوسٹن کے کولمبس ایونیو میں رہ رہی تھیں ، وہ ایک چھوٹے سے بچے کو دیکھ کر خوشی محسوس کرتے تھے جو سڑک کے پار رہتا تھا۔ ایک وقت کے بعد وہ چھوٹی کی مسکراہٹیں چھوٹ گئیں اور حیرت میں پڑ گئیں کہ کیا ہوا ہے۔ ایک صبح اس نے دیکھا کہ ڈاکٹر کی گاڑی گھر سے نکل رہی ہے۔ مسز ایڈی گھر چلی گئیں ، ماں سے بات کی اور بچے کو دیکھنے کے لئے کہا۔ ماں نے بتایا کہ اس کے بچے کی موت ہوگئی تھی جب ڈاکٹر موجود تھا۔ مسز ایڈی بچے کے پاس جاکر بیٹھ گئیں اور ساری زندگی کے ابدی اصول کے بارے میں اتنی ہوش میں آگئیں کہ بچہ شفا پایا گیا اور صحت مند رہا۔‘‘

(7) مس جولیا بارٹلیٹ نے مندرجہ ذیل مشاہدہ کیا: ’’میں نے ایک شخص کو دیکھا جو مسٹر ایڈی کو بولتے ہوئے سننے کے لئے ہتھورنہ ہال آیا تھا ، بڑی مشکل سے اپنی بیساکھیوں پر قدم اٹھائے ، ہر طرف کا ایک شخص اس کی مدد کرتا تھا ، لیکن جب خدمت ختم ہو گئی تو وہ خود ہی اپنے ساتھ چلا گیا ، اس کے بازو کے نیچے بیساکھے۔ ‘‘مس بارٹلیٹ کو مسز ایڈی نے سات سال کی غلط فہمی کے بعد صحتیاب کیا تھا۔ وہ ایک بہت ہی کامیاب شفا یابی ہوگئی۔ اپنے علاج سے متعلق ، انہوں نے لکھا ، ’’میں کبھی بھی آزادی کے احساس کو بیان نہیں کرسکا جو اس شاندار سچائی کی جھلک کے ساتھ آیا تھا۔ ۔۔۔ سبھی چیزیں ایک دوسرے کے نقطہ نظر سے دیکھی گئیں ، اور ہر ایک پر خوبصورتی کا ہال تھا۔‘‘

(8) ’’کسی وقت ، کونکورڈ میں مسز ایڈی کے خوش نما نظریہ گھر میں کچھ طلباء کھڑکی کے سامنے بیٹھے طوفان کے خلاف کام کر رہے تھے جو قریب آرہا تھا۔ اچانک مسز ایڈی ان کے پیچھے آئی اور کہا ، ’آپ اس سے ملاقات نہیں کر رہے ہیں کیونکہ آپ ظاہری شکل سے مسمار ہوگئے ہیں۔‘ تب اس نے انہیں ایک طرف پھیر لیا ، خود ہی معاملہ اٹھایا اور تھوڑی ہی دیر میں انہوں نے طوفان کے بادل کے بیچ نیلے آسمان کو دیکھا۔‘‘

(9) ’’سائنس اور صحت کے پہلے ایڈیشن کے اجراء کے بعد مسز ایڈی کو جو پہلی ترغیب ملی وہ اے برونسن الکوٹ کی تھی ، جس نے ان سے ملنے کے لئے فون کیا اور کہا ، ’مجھے آپ پہ بھروسہ ہے۔‘ اس کے بعد انہوں نے اسے گٹھڑی کی شدید شکل سے شفا بخش دی جس نے اسے اپنی کرسی تک محدود کردیا۔

(10) ’’ایک مشہور اداکار جسمانی طور پر صحتیاب ہوگیا ، اور اس کی گواہی دی کرسچن سائنس جرنل میں شائع ہوئی۔ اس کے بعد ، وہ ایک دن کنکورڈ میں ایک گلی کے ساتھ چل رہا تھا ، جس کے منہ میں سگار تھا۔ مسز ایڈی اپنی گاڑی میں سے گزری اور اس کی طرف دیکھا۔ اس نے سگار کو اپنے منہ سے نکالا اور پھینک دیا ، اور تمباکو نوشی کی خواہش سے بالکل ٹھیک ہو گیا تھا۔‘‘

(11) ’’ایک دن مسز ایڈی اپنی دوپہر کی گاڑی کے لئے باہر جارہی تھیں کہ ایک لمبا ، بگڑا آدمی ، جو کھپت میں بہت دور دکھائی دیتا تھا ، اس کے دروازے کے پاس آیا ، اس نے اپنے ہاتھ اس کے پاس رکھے اور چیخا ،’ میری مدد کرو! ‘مسز ایڈی نے اسے گاڑی سے کھڑکی سے نکالتے ہوئے کچھ الفاظ کہا۔ اس سے تقریبا دو منٹ بات کی اور پھر گیٹ سے باہر چلا گیا۔ واپسی پر اس نے چیخ کر کہا ، ’اس آدمی کو کیا ضرورت تھی۔‘ اگلے دن اس کو اس شخص کا ایک خط موصول ہوا جس نے مسز ایڈی کو بتایا کہ وہ ہوش میں تھا کہ گاڑی چلتے ہی وہ صحت یاب ہو گیا ہے۔‘‘

(12) ’’مسز ایڈی ایک دن کنکورڈ چلا گیا اور کرسچن ہال میں رک گیا ، اور اس کے سکریٹری ، مسٹر کالون فرائی ، ایک خط لے کر اندر چلے گئے ، جس سے گاڑی کا دروازہ کھلا رہ گیا۔ ایک شریف آدمی جو ہال کے سامنے کھڑا تھا نے مسز ایڈی کو دیکھنے کے لئے پہلے دن میں ہی پلیزنٹ ویو پر فون کیا تھا لیکن بتایا گیا تھا کہ وہ اسے نہیں دیکھ سکتی ، اور اس کے بعد کسی ملاقات یا موقع کا اہتمام کیا جاسکتا ہے۔ جب وہ گھر سے چلا گیا تو وہ بہت حوصلہ شکنی کا شکار تھا اور اس نے کہا ، تاکہ ایک کارکن نے اسے سنا ، ’شاید اس کے بعد کہیں نہ ہو۔‘ اس شخص نے گاڑی پر قدم رکھا ، اپنی ٹوپی اتار دی اور کہا ، ’مسز۔ ایڈی؟‘ مسز ایڈی نے کہا ،’ ہاں۔‘ ’کیا میں آپ سے ایک سوال پوچھ سکتا ہوں؟‘ ’یقینا!‘ اْس نے کہا۔ پھر اس نے کہا ، ’کیا آپ مجھے خدا کے بارے میں بتا سکتی ہیں ، وہ کون ہے ، وہ کہاں ہے اور وہ کیا ہے؟‘ مسز ایڈی نے اسے بتایا کہ خدا اس کی عقل، اس کی زندگی ہے ، اور صرف تین منٹ باتیں کرتا رہتا ہے۔ تب اس شخص نے گھڑی کی طرف دیکھا ، جسے وہ دونوں دیکھ سکتے ہیں ، اور کہا ،’میں نے خدا کے بارے میں اپنی ساری زندگی میں سے،ان تین منٹ میں زیادہ زندگی سیکھ لی ہے ۔‘ اس نے اپنی ٹوپی اٹھائی اور الوداع کہا ، اور گاڑی روانہ ہوگئی۔ مسز ایڈی نے اس کے بعد اپنے طالب علموں کو بتایا کہ اس نے دیکھا کہ وہ یرقان کی بیماری میں مبتلا ہے اور جب وہ اس سے بات کرتے ہوئے اس کے چہرے سے غیر صحتمند رنگ کا دھندلا ہوا دیکھا جیسے بادل کا سایہ ختم ہو رہا تھا اور اس کا چہرہ بالکل نارمل ہوگیا تھا۔ اس نے مزید کہا ، ’وہ صحتیاب ہو گیا تھا ، لیکن ہم بات کرتے وقت اس نے اسے شناخت نہیں کیا۔‘ اگلے دن اس شخص نے لکھا کہ وہ بالکل ٹھیک ہو گیا ہے ، اور اسی رات وہ ٹرین کو گھر لے گیا۔‘‘

(13) ’’کرسچن سائنس کی ایک طالبہ تھی ، ایک ایسی خاتون جو کنکورڈ میں دوستوں کے ساتھ رہ رہی تھی۔ ایک دن مسز ایڈی نے ان دوستوں کو دیکھنے کے لئے فون کیا ، جنہوں نے انہیں بتایا کہ وہ خاتون ان کے گھر میں ڈپھیریا کے ساتھ بیمار ہے۔ مسز ایڈی نے کہا ،’اس سے کہو کہ کسی سے بھی خوفزدہ نہ ہوں ، کیوں کہ خدا اس کی دیکھ بھال کر رہا ہے ، اور والدہ [ایک ایسی اصطلاح جو مسز ایڈی کے لئے استعمال ہوئی تھیں جو ان کے قریب تھے] اس کے لئے دعا مانگ رہی ہیں۔‘ گھر سے نکلنے کے بعد ، خاتون کو ایک ہی وقت میں پیغام دیا گیا۔ کچھ ہی منٹوں میں خراب حالات کو دور کردیا گیا۔ طالب علم نے آسانی سے سانس لیا ، اور اگلی صبح کامل صحت میں اضافہ ہوا۔‘‘

(14) ’’ابتدائی دنوں میں ، مسز ایڈی کے لئے مریضوں کی صحت یابی کے لئے تلاش کرنا مشکل تھا ، اور ایک دن وہ سڑک پر نکلی کہ آیا اسے کوئی مل جائے۔ اس نے قریب ہی ایک مکان کے سامنے ڈاکٹر کی ٹمٹم دیکھا۔ جب ڈاکٹر وہاں سے ہٹ گیا ، مسز ایڈی دروازے پر گئیں اور آنسوؤں سے لگی عورت سے پوچھا کہ گھر میں کوئی بیمار ہے تو۔ خاتون نے بتایا کہ ابھی ان کی بیٹی فوت ہوگئی ہے۔ مسز ایڈی نے پوچھا کہ کیا وہ اندر جاکر بیٹی کو دیکھ سکتی ہے؟ اس عورت نے ہنگامہ کیا ، لیکن آخر کار اسے وہاں جانے دیا جہاں جسم بچھا ہوا تھا۔ تھوڑی ہی دیر میں ماں نے آوازیں سنیں ، اور کمرے میں دیکھا تو دیکھا کہ اس کی بیٹی بستر پر بیٹھی مسز ایڈی سے باتیں کر رہی ہے۔ مسز ایڈی نے کہا کہ’زندگی کے ایک بے سود سیلاب نے اس کے شعور کو بھر دیا ، اور لڑکی کو مردوں میں سے زندہ کیا گیا۔‘ مسز ایڈی نے ماں سے بیٹی کے کپڑے لانے کو کہا ، اور حیرت زدہ ماں نے پوچھا کہ کیوں؟ اس نے جواب دیا کہ وہ لڑکی کو سیر کے لئے باہر لے جانا چاہتی ہے۔ ماں نے کہا ،’آپ نہیں جانتے کہ آپ کیا پوچھ رہے ہیں۔ میری بچی کھانوں سے کئی مہینوں سے علیل ہے اور اگر وہ چاہتی تو باہر نہیں جاسکتی۔ ‘مسز ایڈی نے ماں کو یقین دلایا ، اور بتایا کہ اس کی بیٹی کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ آخرکار ماں اس لڑکی کے کپڑے لے آئی ، اور مسز ایڈی بچی کو باہر لے گئیں اور قریب آدھے گھنٹہ اس کے اوپر اور نیچے کی طرف چل پڑی ، ماں اور باپ پیچھے پیچھے پیچھے یہ دیکھنے کے لئے کہ کیا ہو رہا ہے۔ لڑکی کا رنگ واپس آگیا ، اور وہ نہ صرف زندہ تھا ، بلکہ اس بیماری سے شفا بخشی تھی۔ جب وہ گھر واپس پہنچے تو والدہ نے اپنے ہیرے کی انگوٹھی اتار کر مسز ایڈی کو دے دی ، اور یہ انگوٹھی وہ ہمیشہ پہنتی تھیں۔‘‘

(15) ’’مسز موشر دفتر میں گیا جہاں مسز ایڈی اور ایک طالب علم کام پر تھیں ، اور وہاں ایک ایسی لڑکی دیکھی جس کو گونگے کی حالت میں مبتلا کیا گیا تھا ، جس کا کوئی طالب علم ٹھیک نہیں ہو پایا تھا۔ آخر کار طالب علم نے مسز ایڈی سے مدد کرنے کو کہا۔ مسز موشر اس وقت موجود تھیں جب مسز ایڈی گونگی بچی کے پاس گئیں اور کہا ،’خدا نے یہ آپ پر نہیں بھیجا۔ آپ بول سکتی ہیں۔ یسوع مسیح ناصری کے نام پر ، میں آپ کو بات کرنے کا حکم دیتی ہوں۔‘ وہ لڑکی پیچھے ہٹ گئی ، اور چیخ چیخ کر کہنے لگی ،’میں نہیں کر سکتی ہوں اور میں نہیں کروں گی اور کمرے سے باہر بھاگ گئی۔ لیکن وہ کبھی بھی بولنے کے قابل تھیں۔ ‘‘

(16) ’’مسز ایڈی کا ایک پرانا اسکول دوست جو باہر تھا اور ایک دن اس سے ملاقات کی ، اور اس نے اس سے بات کی۔ اس کے جانے سے پہلے ، اس نے اسے ایک دعا دی جو اس نے طالب علموں کو دی تھی ، اور اس سے کہا کہ وہ ہر روز یہ دعا کرے۔ دو ہفتوں کے بعد ، وہ مکمل طور پر شفا بخش واپس آیا۔ پھر مسز ایڈی نے اسے کاروبار میں لگانے کے لئے ڈالر 500 دیئے۔ دعا یہ تھی ، ’’اے خدائی محبت ، مجھے اونچی ، پاکیزہ ، خالص خواہشات ، زیادہ نفس تنطیم ، زیادہ پیار اور روحانی خواہشات عطا کریں۔‘‘

(17) “ایک رپورٹر نے ایک بار مسز ایڈی سے کرسچن سائنس کے علاج کی مختصر تعریف طلب کی۔ اس نے ایک لمحہ سوچا اور کہا ،’موجودہ کمال کی قطعی شناخت۔‘ رپورٹر کرسچن سائنسدان نہیں تھا اور وہ ایک بھی نہیں ہوا تھا۔ پھر بھی کئی سالوں کے بعد اس نے اپنے آپ کو اس کی موت کا بستر بتایا ، جس کے بارے میں بتایا گیا تھا اس پر وہ خود کو مل گیا ، اور یہ الفاظ اس کے پاس واپس آئے اور اسے صحت یاب کردیا۔‘‘

(18) ’’ایک طالبہ نے مسز ایڈی کو برونک پریشانی کے معاملے کے بارے میں بتایا کہ وہ کامیابی کے بغیر شفا بخش ہونے کی کوشش کر رہی ہے۔ مسز ایڈی نے ڈیسک کی طرف ٹیک لگا لیا اور اپنی طرف اس کی انگلی ہلاتے ہوئے کہا ،’برونکئل ٹیوبیں کیا ہیں؟‘ تب اس نے اپنے سوال کا جواب دیا ، ’انھیں رب کی حمد گائیکی کے لئے استعمال کیا جائے ، اور کچھ بھی نہیں۔‘ اس گھڑی میں طالب علم کا مریض ٹھیک ہوگیا تھا۔ ‘‘

(19) ’’کرسچن سائنس لیکچرر اور استاد ایڈورڈ کم بال کو کئی سالوں سے ایسی حالت میں مبتلا کرنا پڑا تھا جس کی وجہ سے وہ کراس اور خارش کا شکار ہو گیا تھا ، اور اسی وجہ سے انہیں کرسچن سائنس کے ذریعہ صرف عارضی طور پر راحت ملی۔ آخر کار اس قدر پریشان ہو گیا کہ اس نے مسز ایڈی کو وائرڈ کیا کہ وہ اسے دیکھنا چاہتا ہے ، اور وہ اسے آنے کا کہہ کر پیچھے ہٹ گئی۔ جب وہ پارلر میں بیٹھا اس کا انتظار کر رہا تھا تو اسے بدگمانیاں ہونے لگیں ، کیونکہ اسے احساس ہوا کہ اس دعوے کے تحت وہ اس قدر دل آزاری ہے کہ وہ کسی سے بھی ، یہاں تک کہ اپنے گھر والوں سے بھی بات کرنے کے قابل نہیں تھا۔ اسے حیرت ہونے لگی کہ وہ کیسے اس کے سامنے بھی سول ظاہر ہونے والا ہے۔ جب اس نے سیڑھی پر اس کا قدم سنا تو وہ گھر سے بھاگ جانا چاہتا تھا۔ وہ کمرے میں داخل ہوئی ، دہلیز پر رک کر ، اور اپنے دونوں ہاتھ تھامے ، وہ اس کے پاس بڑھا اور کہنے لگی ، ’ کیا اس نے ایک کراس کو بیمار نہیں بنایا؟‘ پھر اس کے بغیر ایک الفاظ کے ، اس نے موضوع کو تبدیل کیا اور دوسری چیزوں کے بارے میں بات کرنے لگی۔ اس نے کبھی بھی بوسٹن آنے کی اپنی وجہ کا ذکر نہیں کیا جب وہ وہاں تھا۔ اس انٹرویو کا خلاصہ یہ تھا کہ ، ’مجھے ساری زندگی میں اتنا پیار کبھی نہیں ہوا تھا۔‘‘‘

(20) مسز ایڈی نے 1885 کے جون کے شمارے میں ، مائنڈ اِن نیچر میں لکھا (جب ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہ وہ میسرمسٹ تھیں) ،’’ 15 مارچ کو ، میرے خطبہ کے دوران ، ایک بیمار شخص ٹھیک ہوگیا تھا۔ اس شخص کو چرچ میں دو افراد ، ایک بیساکھی اور ایک چھڑی نے مدد فراہم کی تھی ، لیکن وہ اس سے باہر کھڑا اور مضبوط ہوا ، اس کے بازو کے نیچے چھڑی اور بیسرا تھا۔ میں اس شریف آدمی سے واقف نہیں تھا ، اس کی موجودگی سے واقف نہیں تھا ، میرے اندر جانے سے پہلے ہی اسے ایک نشست میں مدد دی گئی تھی۔ بیماری کے دیگر دائمی معاملات ، جن میں میں لاعلم تھا ، تبلیغ کے دوران ہی شفایاب ہو گئی۔‘‘

(21) “مسز ایملی ہولن ، جو بالآخر نیو یارک شہر میں کرسچن سائنس کی استاد بن گئیں ، نے 1888 میں شکاگو کے سنٹرل میوزک ہال میں مسز ایڈی کے شاندار خطاب کے بعد مسز ایڈی کو ایک خط لکھا ، ’ آپ کے خطاب کے اختتام پر ، میں نے ایک غریب عورت کو دیکھا جو بیساکھیوں پر آڈیٹوریم میں داخل ہوئی تھی اور جو بری طرح معزور تھی ، التجا کے انداز میں اس کی طرف اپنی بازو پھیلا رہی ہے۔ آپ نے شفقت اور پیار سے بھری نظروں سے اس کی طرف دیکھا ، جیسے یہ مجھے لگتا ہے ، اور فورا! ہی اس نے اپنی بیساکھی لیٹی اور باہر چلا گیا جیسے کوئی عام حالت میں کوئی کرے۔

’’’ میں آپ کو اس خوف کے بارے میں نہیں بتا سکتا جو مجھ پر پڑا تھا یا مجھے جو تاثر ملا تھا ، اور پھر میں نے فاؤنٹین ہیڈ میں اس حیرت انگیز حقیقت کے بارے میں مزید جاننے کا عزم کیا۔‘‘‘

(22) مسز ایڈی نے اپنی تین سالہ پوتی ، میری بیکر گلوور کو ، آنکھوں سے پار کیا۔ پوتی نے بعد میں بتایا کہ کس طرح اس کی والدہ اور والد دونوں بوسٹن میں اپنی دادی کے ساتھ ملنے کے بعد ساؤتھ ڈکوٹا کے گھر واپس آئے اس کے فورا بعد ہی اس کی آنکھوں کی کامل حالت دیکھ کر حیرت ہوئی۔ اس کی والدہ نے پہلے اس کی ایک تصویر کھینچی تھی جس میں آنکھوں کی لمبائی کا پتہ چلتا تھا۔ چونتیس سال بعد دونوں ماں اور بیٹی اب بھی زندہ تھیں اور اب بھی اس شفا یابی کی یادداشت کے طور پر تصویر کے پاس ہیں۔

مندرجہ ذیل آٹھ افادیت مسز ایڈی کے چرچ کے قیام سے پہلے ، مسز ایڈی کے علاج معالجے کے ابتدائی دنوں میں ہوئی تھی ، اور ان اکاؤنٹس کو ان ابتدائی دنوں میں شائع کیا گیا تھا:

(23) ’’میں پھیپھڑوں کی مشکلات ، سینے میں درد ، سخت اور لاحق کھانسی ، تیز بخار میں مبتلا تھا؛ اور ان تمام خوفناک علامات نے میرے کیس کو تشویشناک بنا دیا۔ جب میں نے مسز ایڈی کو پہلی بار دیکھا تو میں اتنا کم ہو گیا تھا کہ کسی فاصلے پر چلنے سے قاصر ہوں ، اور بیٹھ سکتا تھا لیکن دن کا ایک حصہ۔ سیڑھیوں پر چلنے سے مجھے سانس لینے میں بہت تکلیف ہوئی۔ مجھے بھوک نہیں تھی ، اور وہ قبر میں جا رہا تھا ، جو کھپت کا شکار تھا۔ میں نے اس کی توجہ حاصل کی تھی لیکن تھوڑی ہی دیر میں جب میری خراب علامتیں غائب ہوگئیں ، اور میں نے صحت بحال کردی۔ اس دوران میں طوفانوں سے اس کی عیادت کے لئے نکلا ، اور پایا کہ نم موسم نے مجھ پر کوئی ناگوار اثر نہیں ڈالا۔ اپنے ذاتی تجربے سے مجھے یہ یقین کرنے کا باعث بنا ہے کہ وہ سائنس جس کے ذریعہ وہ نہ صرف بیماری کو شفا بخشتی ہے ، بلکہ اس کی تندرستی برقرار رکھنے کے طریقے کی بھی وضاحت کرتی ہے ، وہ برادری کی بھرپور توجہ کا مستحق ہے۔ اس کے علاج طب ، روحانیت یا مسمارزم کا نتیجہ نہیں ، بلکہ ایک ایسے اصول کا اطلاق ہے جس کو وہ سمجھتی ہے۔

ایسٹ اسٹفٹن ، ماس ، 1867 - جیمز انگم ۔‘‘

(24) ’’مسز ایڈی کی استعاری طبی علاج میں مہارت ، بہت سے لوگوں میں سے ، ایک مثال عوام کو دینے میں مجھے بڑی خوشی ہے۔ میرے سب سے چھوٹے بچے کی پیدائش پر ، جو اب آٹھ سال کی ہے ، میں نے سوچا تھا کہ میری قید قید کئی ہفتوں سے قبل از وقت ہوجائے گی ، اور اس کو اس کا پیغام بھیجا۔ مجھے دیکھے بغیر ، اس نے جواب دیا کہ مناسب وقت آگیا ہے ، اور وہ فورا. ہی میرے ساتھ ہوگی۔ اس کے آنے سے پہلے ہی ہلکی سی مزدوری کا درد شروع ہو گیا تھا۔ اس نے انہیں فوراًہی روک لیا ، اور مجھ سے درخواست کی کہ وہ ایک اکائوچیئر بلائیں ، لیکن پیدائش کے بعد تک اسے سیڑھیوں سے نیچے رکھیں۔ جب ڈاکٹر پہنچے ، اور جب وہ نچلے کمرے میں رہے ، مسز ایڈی میرے پلنگ کے پاس آئیں۔ میں نے اس سے پوچھا کہ مجھے جھوٹ کیسے بولنا چاہئے۔ اس نے جواب دیا ،’اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ جھوٹ کس طرح بولتے ہیں ،‘ اور مزید کہا ، ’اب بچے کو پیدا ہونے دو۔‘ فوری طور پر پیدائش ہوئی ، اور بغیر درد کے۔ تب ڈاکٹر کو کمرے میں بلایا گیا تاکہ وہ بچے کو وصول کرے ، اور اس نے دیکھا کہ مجھے کچھ بھی تکلیف نہیں ہے۔ لن کی میری بہن ، ڈارکاس بی راسن ، میرے بیب کے پیدا ہونے پر موجود تھی ، اور میں ان کے بیان کردہ حقائق کی گواہی دوں گا۔ میں اپنی حیرت کا اعتراف کرتا ہوں۔ میں نے مسز ایڈی سے بھی اتنی توقع نہیں کی تھی ، خاص طور پر جیسے کہ میں نے ولادت سے پہلے ہی سختی کا سامنا کیا تھا۔ معالج نے مجھے اضافی بیڈ کپڑوں سے ڈھانپ لیا ، مجھ پر الزام لگایا کہ وہ ٹھنڈا ہونے اور خاموش رہنے کے بارے میں بہت محتاط رہیں ، اور پھر وہاں سے چلے گئے۔ مجھے لگتا ہے کہ وہ مجھے سخت درد نہ ہونے پر گھبرا گیا تھا ، لیکن اس کے جانے سے پہلے ہی میں نے ایک معاہدہ کیا تھا۔ جب دروازہ اس کے پیچھے بند ہوا۔ مسز ایڈی نے اضافی چادریں پھینک دیں اور کہا ، ’یہ ڈاکٹر کے ذریعہ پیدا ہونے والے خوف کے علاوہ کچھ نہیں ہے جو ان سردیوں کا سبب بنتا ہے۔‘ انہوں نے مجھے ایک ساتھ چھوڑ دیا۔ اس نے مجھ سے کہا کہ جب میں نے انتخاب کیا تو بیٹھ جاؤ ، اور میں جو چاہوں کھا لو۔ میرا بچہ صبح تقریباًدو بجے پیدا ہوا تھا ، اور اگلی شام میں کئی گھنٹے بیٹھ گیا۔ گھر والوں نے جو کچھ کیا میں نے کھایا۔ دوسرے دن میں نے گوشت اور سبزیوں کا ابلا ہوا کھانا کھایا۔ میں نے اپنی خوراک میں کچھ فرق نہیں کیا ، سوائے کھانے کے مابین سخت شراب پینے کے ، اور اس کورس میں کبھی بھی کم سے کم تکلیف کا سامنا نہیں کیا۔ میں نے دوسرے دن اپنے آپ کو ملبوس کیا ، اور تیسرے دن لیٹنے کو تیار نہیں تھا۔ ایک ہفتہ میں میں گھر کے بارے میں تھا اور ٹھیک تھا ، سیڑھیاں چلا رہا تھا اور گھریلو فرائض میں حاضر تھا۔ کئی سالوں سے میں پرولاپسس یوٹری سے پریشان تھا ، جو مسز ایڈی کے میرے بیب کی پیدائش کے موقع پر کرسچن سائنس کے حیرت انگیز مظاہرے کے بعد مکمل طور پر غائب ہوگئی۔

لین ، ماس ، 1874 - مرانڈا آر رائس۔ ‘‘

(25) ’’میرا چھوٹا بیٹا ، جس میں ڈیڑھ سال کا تھا ، کو آنتوں کے زخم تھے اور وہ بہت بڑا مریض تھا۔ وہ کم سے کم کنکال کی طرح کم ہو گیا تھا ، اور روز بروز بدتر بڑھتا جارہا تھا۔ وہ غمزدہ ، یا کچھ بہت ہی آسان پرورش کے سوا کچھ نہیں لے سکتا تھا۔ اس وقت معالجین نے اسے یہ کہہ کر ترک کردیا تھا کہ وہ اس کے لئے مزید کچھ نہیں کرسکتے ہیں ، اور وہ اس کی تعریف کر رہا ہے۔ مسز ایڈی اندر آگئیں ، اسے پالنے سے اٹھا کر ، کچھ منٹ تھامے ، اس کا بوسہ لیا ، اسے دوبارہ لیٹ دیا ، اور باہر چلی گئیں۔ ایک گھنٹہ سے بھی کم عرصے میں اس کو اٹھا لیا گیا ، اس کے کھیلوں کا کھیل رہا ، اور وہ خیریت سے تھا۔ اس کے سارے علامات ایک ساتھ ہی بدل گئے۔ مہینوں سے پہلے خون اور بلغم اس کے آنتوں سے گزر چکا تھا ، لیکن اس دن انخلاء فطری تھا ، اور اس کے بعد سے وہ اسے اپنی شکایت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ اب وہ خیریت سے ہے۔ اس نے اسے دیکھا کے بعد اس نے سونے سے پہلے گوبھی کھا لی۔

لین ، ماس ، 1873 - ایل سی۔ ایجکومب۔‘‘

(26) ’’براہ کرم اپنی خدمات کے بدلے پانچ سو ڈالر میں منسلک چیک ڈھونڈیں ، جو کبھی ادا نہیں کیا جاسکتا ہے۔ جس دن آپ نے میرے شوہر کا خط موصول کیا میں اڑتالیس گھنٹوں میں پہلی بار ہوش میں آگیا۔ میرا نوکر میرا لپیٹ لایا ، اور میں بستر سے اٹھ کر بیٹھ گیا۔ دل کی بیماری کا حملہ دو دن جاری رہا ، اور ہم سب کے خیال میں میں زندہ نہیں رہ سکتا تھا ، لیکن آپ کی طرف سے موصولہ حیرت انگیز مدد کے لئے۔ میرے بائیں طرف کی توسیع سب ختم ہوگئی ہے ، اور ڈاکٹروں نے مجھے دل کی بیماری سے نجات دلانے کا اعلان کیا ہے۔ مجھے بچپن ہی سے اس کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ یہ دل کی نامیاتی توسیع اور سینے کے جراثیم بن گیا۔ میں صرف انتظار کر رہا تھا ، اور مرنے کی خواہش کر رہا تھا ، لیکن آپ نے مجھے شفا بخشا ہے۔ اس کے بارے میں سوچنا کتنا حیرت انگیز ہے ، جب آپ اور میں نے کبھی ایک دوسرے کو نہیں دیکھا۔ ہم اگلے ہفتے یورپ واپس آجائیں۔ میں بالکل ٹھیک محسوس کررہا ہوں۔

نیو یارک (1876 سے پہلے) - لوئس ایم آرمسٹرونگ۔ ‘‘

(27) ’’’ میرا خط ملنے پر ایک بار میرا تکلیف دہ اور سوجن پاؤں بحال ہو گیا تھا ، اور اسی دن میں نے اپنا بوٹ لگایا اور کئی میل کی پیدل سفر کیا۔ ‘اس سے پہلے اس نے مجھے لکھا تھا ، ’عمارت سے لکڑی کی ایک لٹھ میرے پاؤں پر گر گئی ، ہڈیوں کو کچل رہی تھی۔‘

سنسناٹی ، اوہائیو - آر او بیجلے۔ ‘‘

(28) ’’آپ کی حیرت انگیز سائنس مجھ پر ثابت ہے۔ میں چھ بیس سال تک ایک بے بسی کا شکار تھا ، اپنے بستر تک محدود تھا ، چوبیس میں ایک گھنٹہ بھی نہیں بیٹھ سکتا تھا۔ میں اپنے علاج کے بارے میں صرف اتنا جانتا ہوں: جس دن جب آپ کو میرا خط موصول ہوا میں نے اپنے اوپر سے گزرتے ہوئے محسوس کیا ، میں پوری دوپہر اٹھ کر بیٹھ گیا ، رات کے کھانے میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ ٹیبل پر گیا ، اور اس کے بعد سے روزانہ بہتر ہوتا جارہا ہے۔ میں خود کو اچھی طرح سے فون کرتا ہوں۔

نیو اورلینز ، لا - جینی آر کوفن۔ ‘‘

(29) “مس ایلن سی پِلسبری ، ٹِلٹن ، این ایچ کی ، ٹائفائڈ بخار کے بعد ، اس کے معالجین اِسے انتڑیوں کی سوزش کہتے ہیں ، جو شدید ترین نوعیت کا تھا۔ اس کا معاملہ اس کے باقاعدہ معالج کے ذریعہ چھوڑ دیا گیا تھا ، اور جب وہ مسز ایڈی اس سے ملنے گئیں تو وہ موت کے منہ میں پڑا تھا۔ مسز ایڈی کے کمرے میں داخل ہونے اور اپنے پلنگ کے ساتھ کھڑے ہونے کے چند ہی لمحوں میں ، مس پِلسبری نے اپنی خالہ کو پہچان لیا اور کہا ،’مجھے آنٹی کو دیکھ کر خوشی ہوئی۔‘ مزید دس منٹ میں مسز ایڈی نے اسے اپنے بستر سے اٹھ کر چلنے کو کہا۔ مس پِلسبری اٹھ کھڑی ہوئی اور سات بار اپنے کمرے میں چلی پھر کرسی پر بیٹھ گئی۔ اس سے پہلے دو ہفتوں تک ہم ہلکے قدم اٹھانے کا پابند محسوس کیے بغیر اس کے کمرے میں داخل نہیں ہوئے تھے۔ اس کی آنتیں اتنی نرم تھیں کہ اسے جار محسوس ہوا ، اور اس سے اس کی تکلیف میں اضافہ ہوا۔ وہ صرف ایک چادر پر بستر سے بستر تک جاسکتی ہے۔ مسز ایڈی کی بولی پر جب وہ کمرے کے اس پار چلی گئیں ، مسز ایڈی نے مس پِلسبری کو فرش پر مضبوطی سے اپنے پیر لگنے کے لئے کہا ، اور اس نے اس کی تکلیف کے بغیر ایسا کیا۔ اگلے دن وہ ملبوس تھی ، اور نیچے ٹیبل پر گئی۔ اور چوتھے دن گاڑیوں میں سو سو میل کا سفر طے کیا۔

اگست ، 1867 - مارتھا رینڈ بیکر۔ ‘‘

(30) ’’مسز مائین کے البین کی سارہ کروسبی نے میری مدد کے لئے بھیجا [مسزایڈی کی امداد] اس کی آنکھ کو چوٹ لگنے کی وجہ سے۔ وہ سیکڑوں میل کی دوری پر تھی ، لیکن جب اس کا پہلا خط موصول ہوا ، جیسے ہی یہ میل لاسکے ، مجھے اس کی طرف سے ایک اور خط موصول ہوا ، جس میں سے مندرجہ ذیل ایک اقتباس ہے: — ’میری آنکھ کو ہونے والے اس حادثے کے بعد سے ، یہ روشنی کے لئے بہت حد تک حساس ہے ، میں نے اس کا سایہ لیا ہے ، کسی بھی تحریر کو لکھنے اور سلائی کرنے سے قاصر ہوں۔‘ اتوار کو میں نے آپ کو ایک خط بھیجا جس کے ساتھ میں نے بہت نقصان اٹھایا۔ پیر کی رات تک تکلیف دہ تھی ، جب بہتر محسوس ہوا۔ منگل کا دن ٹھیک تھا ، اور میں نے ایک ہفتہ قبل پیر سے اس پر اپنا سایہ نہیں پہنا تھا ، اور میں نے پڑھا ، سلائی کی ہے اور لکھا ہے ، اور اب بھی سب ٹھیک ہے۔ اب آپ اپنے نتائج اخذ کرسکتے ہیں۔ دوسرے دن میں نے ایک دوست سے کہا کہ آپ نے میری آنکھ ٹھیک کردی ہے ، یا شاید میری آنکھ سے میرا خوف ہے ، اور ایسا ہی ہے۔ اگرچہ مجھے یقین ہے کہ ، میری زندگی کے لئے ، میں اس بات کا ایک لفظ بھی نہیں سمجھ سکتا ہوں کہ آپ مجھے جس طرح کے روح کے امکان کے بارے میں لکھتے ہیں اس کو ایک سو ستر پونڈ زندہ گوشت اور خون کی طاقت ہے تاکہ اسے کامل ٹرم میں رکھ سکے۔ ‘‘‘

31)) ’’مجھے لین میں مسٹر کلارک سے ملنے کے لئے بلایا گیا ، وہ چھ مہینے تک اپنے بستر تک ہپ کی بیماری کے ساتھ بندھے ہوئے تھے ، جس کی وجہ لڑکے کی لکڑی کے پائوں پر گر پڑا تھا۔ گھر میں داخل ہوتے ہی میں اس کے معالج سے ملا ، جس نے کہا کہ وہ مر رہا ہے۔ اس نے ابھی ابھی کولہے پر السر کی تحقیقات کی تھی ، اور کہا تھا کہ ہڈی کئی انچوں تک کارآمد ہے۔ یہاں تک کہ اس نے مجھے تحقیقات بھی دکھائیں ، جس میں اس پر ہڈی کی اس حالت کا ثبوت موجود تھا۔ ڈاکٹر باہر گیا۔ مسٹر کلارک اپنی آنکھوں سے مستحکم اور بینائی سے لیٹ گئے۔ موت کا اوس اس کی زد میں تھا۔ میں اس کے پلنگ کے پاس گیا۔ کچھ ہی لمحوں میں اس کا چہرہ بدل گیا۔ اس کی موت نے ایک قدرتی رنگ برنگے کو جگہ دی۔ پلکیں آہستہ سے بند ہوگئیں اور سانس لینا فطری ہوگیا۔ وہ سو رہا تھا۔ قریب دس منٹ میں اس نے آنکھیں کھولیں اور کہا۔ ’مجھے ایک نیا آدمی لگتا ہے۔ میری تکلیف سب ختم ہوگئی ہے۔‘ جب یہ ہوا اس وقت سہ پہر تین سے چار بجے کے درمیان تھا۔

’’میں نے اس سے کہا کہ وہ اٹھ کھڑے ہو ، خود کپڑے پہنے اور اپنے کنبے کے ساتھ عشائیہ لے۔ اس نے ایسا ہی کیا۔ دوسرے دن میں نے اسے صحن میں دیکھا۔ تب سے میں نے اسے نہیں دیکھا ، لیکن مجھے مطلع کیا گیا ہے کہ وہ دو ہفتوں میں کام پر گیا تھا ، اور لکڑی کے ٹکڑوں کو زخم سے خارج کر دیا گیا تھا۔ بچپن میں چوٹ آنے کے بعد سے یہ ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے تھے۔

’’ان کی بازیابی کے بعد ہی مجھے یہ اطلاع ملی ہے کہ ان کے معالج نے ان کا علاج کروانے کا دعوی کیا ہے ، اور یہ کہنے پر ان کی والدہ کو ایک پاگل پناہ میں قید رکھنے کی دھمکی دی گئی ہے۔ ’یہ خدا اور وہ عورت کے علاوہ کوئی نہیں تھا جس نے اسے شفا بخشی تھی۔‘ میں اس رپورٹ کی سچائی کی تصدیق نہیں کرسکتا ، لیکن میں نے اس آدمی کے لئے کیا دیکھا اور کیا کیا ، اور اس کے معالج نے اس کیس کے بارے میں جو کچھ کہا ، اسی طرح ہوا۔ (سائنس اور صحت ، 124 واں ایڈیشن ، 1897)

(32) ’’مسز ایڈی نے کہا کہ ایک ایسی خاتون جس کے ساتھ وہ مہربان تھی اسے ایک بیماری کا سامنا کرنا پڑا تھا ، لیکن یہ اس کو معلوم نہیں تھا جب تک کہ ایک دن ایک شخص نے اسے بتایا کہ وہ مر چکی ہے۔ ’’مردہ ،‘‘ اس نے کہا ، ’’مردہ؟‘‘ انہوں نے کہا ، ’ٹھیک ہے جب میں وہاں تھا تو وہ دم توڑ رہی تھی اور مجھے لگتا ہے کہ اس وقت تک اس کی موت ہوگئی ہے۔‘ اگلے دن وہ اپنے کام پر گھر کے آس پاس تھی ، ٹھیک ہے ، اور اسی طرح قائم رہی۔ انہوں نے کہا کہ گھر والے کبھی نہیں جانتے ہیں کہ اس خاتون نے کس چیز کو شفا بخشا ہے۔

(33) ’’مسز ایڈی کی ایک کلاس میں ایک ایسی عورت تھی جو اپنے شوہر کے خلاف سخت ناراضگی اور مذمت کا احساس رکھتی تھی ، جو بہت ہی غیر اخلاقی تھی۔ مسز ایڈی نے اس سے کہا کہ یسوع نے اس گناہ کی مذمت کرتے ہوئے مگدالین کو ٹھیک کیا ، لیکن عورت کو نہیں۔ خاتون نے جواب دیا ،’ ہاں ، لیکن مجھے ہوش نہیں ہے جو یسوع کو تھا۔‘ ہمارے قائد نے فوری طور پر یہ کہتے ہوئے سرزنش کی کہ وہ مسیح کے ہوش کا دعویٰ کرسکتی ہیں ، بصورت دیگر وہ گناہ یا بیماری کا ایک معاملہ بھی ٹھیک نہیں کرسکتی ہیں۔ طالب علم کا ہوش اس قدر روشن تھا کہ اس کے ذہن کی حالت مکمل طور پر اپنے شوہر کی طرف تبدیل ہوگئی ، اور جب وہ گھر واپس آئی تو اسے صحت یاب ہونے کا پتہ چلا۔ ‘‘

(34) ’’مسز ایڈی کو بخار کے معاملے میں بلایا گیا جہاں دو ڈاکٹر موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ شخص زندہ نہیں رہ سکتا۔ اس نے ایک ہفتہ تک کچھ بھی کھانے سے انکار کردیا تھا۔ جب وہ اس کے دروازے پر گئی تو وہ کہہ رہا تھا ، ’اس کا ذائقہ اچھا ہے اور اس کا ذائقہ اچھا ہے ،‘ کمرے میں کھانا نہیں تھا۔ مسز ایڈی نے کہا ، ’اس شعور سے وہ کھائے بغیر بھی زندہ رہ سکتا ہے۔‘ معالجین اس پر ہنس پڑے۔ ’ٹھیک ہے وہ کھا سکتا ہے ،‘ انہوں نے کہا ، اور فورا. ہی وہ اس کے صحیح دماغ میں تھا ، کمرے میں موجود کسی کو پہچان لیا اور کھانے کے لئے کچھ طلب کیا۔ وہ اس کے لئے ایک بہت ساری فراہمی لے کر آئے ، اور اس نے یہ سب کھایا ، خود کپڑے پہنے ، اور اچھی طرح صحن میں باہر چلا گیا۔ ‘‘

(35) ’’لین کی ایک خاتون مجھ پر اس قدر ناراض تھی کہ وہ اپنی بیٹی کی صحت مند ہونے کے بعد مجھ سے بات نہیں کرے گی ، کیونکہ اس نے کہا تھا کہ میں نے اپنی مرتی ہوئی بیٹی کے ساتھ بے عزتی کی ہے۔ ڈاکٹروں نے کہا تھا کہ اس کے پھیپھڑوں کا صرف ایک چھوٹا سا ٹکڑا بچا ہے اور وہ دم توڑ رہی ہے۔ مجھے بلایا گیا ، اور ارد گرد روحانیت پسند تھے۔ میں نے اس کی فکر تک پہنچنے کی کوشش کی ، لیکن نہیں ، اس پر قابو نہیں پایا۔ تو میں نے کہا ، ’اس بستر سے اٹھو!‘ تب میں نے دوسرے کمرے میں رہنے والوں کو فون کیا ، ’اس کے کپڑے لے آئیں۔‘ بچی اٹھ گئی اور خیریت سے تھی۔ پھر کبھی نہیں سوجھا۔ میں جانتا ہوں سب کے لئے ابھی تک زندہ ہے۔ میں نے دوسری صورت میں کبھی نہیں سنا ہے ، لیکن اس کے بعد سے اس کی والدہ نے مجھ سے کبھی بات نہیں کی۔‘‘

(36) ’’میں نے ایک دفعہ لیکچر دیا جہاں روحانیت پسندوں نے اجلاس کو توڑنے کی کوشش کی۔ سامعین میں شامل ایک خاتون کو اس کے پتھراؤ کے ایک حملے کے ساتھ لے جایا گیا۔ شدید درد میں فرش پر گر پڑے۔ میں نے حاضر روحانیوں سے کہا ، ‘اب آپ کا وقت ثابت کرنے کا ہے کہ آپ کا خدا آپ کے لئے کیا کرے گا۔ اس عورت کو شفا بخش دو۔ ’انہوں نے جو کچھ کر سکے وہ کیا ، لیکن وہ بد سے بدتر ہوتی گئی۔ میں نے پلیٹ فارم سے قدم اٹھائے ، ایک لمحے اس کے پاس کھڑا ہوا اور درد چھوڑا؛ وہ اٹھ کر اپنی کرسی پر بیٹھ گئ ، اور صحتیاب ہوگئی۔ اس کی نشریات ہوئیں ، اور شفا یابی کے کام کے ذریعے ہی اس سائنس کو دھیان میں لایا گیا۔ اس عنصر کی نظر ضائع ہو رہی ہے اور اسے دوبارہ حاصل کرنا چاہئے۔‘‘

(37) ’’میں صرف یہ سوچ رہا تھا کہ میرے ساتھ کس طرح زیادتی کی جارہی ہے (گلوور کیس سوٹ اور اخباری مضامین) اور میں اچھی آنسوؤں کو محسوس کر سکتا ہوں ، جب اچانک میں نے اپنے دو معالجے کے بارے میں سوچا ، اور پھر خوشی غم کی جگہ لے گئی۔ ان میں سے ایک بدترین لانگوں میں سے ایک تھا جو میں نے کبھی دیکھا تھا۔ میں لین میں سڑک پر چل رہا تھا — میں چلتا تھا کیونکہ میرے پاس سواری کے لئے فیصد نہیں تھا — اس نے اس گھونگھٹ کو دیکھا جس نے ایک گھٹن اپنی ٹھوڑی تک کھینچ لیا تھا۔ اس کی ٹھوڑی گھٹنوں پر آرام کر رہی ہے۔ دوسرا اعضاء اس کی پیٹھ کو دوسری طرف کھینچا گیا تھا۔ میں اس کے پاس آیا اور اس کے کندھے پر چھپا ہوا کاغذ کا ایک ٹکڑا پڑھا: ’اس خراب معزور کو مدد دو۔‘ میرے پاس اس کو دینے کے لئے رقم نہیں تھی لہذا میں نے اس کے کان میں سرگوشی کی ، ’خدا آپ سے محبت کرتا ہے۔‘ اور وہ بالکل سیدھا اور ٹھیک ہو گیا۔ وہ مسز لوسی ایلن کے گھر چلا گیا ، جس نے اپنی کھڑکی سے شفا یاب ہوتے ہوئے دیکھا ، اور پوچھا ، ’وہ عورت کون ہے؟‘ مسز گلوور کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ، [بعد میں مسز ایڈی]۔ مسز ایلن نے جواب دیا ، ’یہ مسز گلوور ہیں۔‘ انہوں نے کہا ، ’نہیں ، یہ نہیں ، یہ ایک فرشتہ ہے۔‘ پھر اس نے بتایا کہ اس کے لئے کیا کیا گیا ہے۔‘‘‘

(38) ’’دوسرا معاملہ یہ تھا: میں [چیلسی میں] ایک گھر میں تھا ، اور وہ عورت راکھ کی طرح سفید کمرے میں دوڑتی ہوئی آئی ، اور اس نے کہا کہ دروازے پر ایک لنگڑا تھا ، اور اس نے اسے خوفناک دیکھا، اس کے چہرے میں دروازہ۔ میں کھڑکی پر گیا ، اور وہاں تھا - ٹھیک ہے ، یہ بیان کرنا بہت ہی خوفناک تھا۔ اس کے پاؤں زمین کو کبھی نہیں چھوتے تھے۔ وہ بیساکھیوں کے ساتھ چلتا تھا۔ میں نے اسے ونڈو کے ذریعے اپنی جیب میں موجود سب کچھ دیا - ایک ڈالر کا بل - اور اس نے اسے اپنے دانتوں میں لے لیا۔ وہ اگلے گھر گیا اور وہاں عورت کو ڈرایا ، لیکن اس نے اس کے چہرے پر دروازہ نہیں مارا۔ اس نے اس سے کہا کہ وہ اسے چند منٹ لیٹ رہنے دو۔ وہ اسے سونے کے کمرے میں جاکر لیٹ گئی۔ وہ سو گیا تھا ، اور جب وہ بیدار ہوا تو بالکل ٹھیک تھا۔ کچھ دیر بعد ، وہ عورت جو اس کے ساتھ مہربان تھی وہ ایک اسٹور میں تھی (میرے خیال میں) اور یہ شخص اس کے پاس تیزی سے اس کے پاس آیا اور کہا ،’ہاں ، آپ تو وہ ہیں ، لیکن دوسری عورت کہاں ہے؟‘ تب اس نے اس سے کہا کہ وہی وہ شخص ہے جو میرے ذریعہ شفا پایا تھا۔‘‘

مندرجہ ذیل شفا یابی (39-50) مس کلارا شینن نے ریکارڈ کیں ، جو کینیڈا کی ایک ماہر گلوکارہ تھیں ، جو کافی فیسوں کے لئے پیشہ ورانہ طور پر گاتی تھیں ، لیکن جنہوں نے روحانی علاج کی مشق کے لئے اپنا کیریئر ترک کردیا ، اور مسز کی خدمت میں بھی رہیں۔ ایڈی؛ اس نے کئی سال وقفے وقفے سے مسز ایڈی کی خدمت کی ، اور وہ کرسچن سائنس تحریک کے بہترین کارکنوں اور شفا بخشوں میں سے ایک سمجھی جاتی تھیں:

(39) ’’جب مسز ایڈی ایک چھوٹی سی لڑکی تھی ، اس کا بھائی جارج کچھ سیب کے لئے درخت پر چڑھ گیا۔ وہ اپنا توازن کھو بیٹھا اور ٹوٹی ہوئی بوتل پر زمین پر گر گیا۔ شیشے نے اس کی ران میں بہت گہرا گیش کھڑا کیا۔ اس کے والد نے اسے اٹھایا ، اسے گھر میں لے گیا ، اور ایک سرجن کو کچھ ٹانکے لگانے کے لئے بھیجا۔ یہ ایک لمبا ، گہرا گیش تھا اور لڑکا اذیت میں چیخ رہا تھا۔ مسٹر بیکر نے ایک دم ہی چھوٹی میری کو اٹھایا اور اسے پیچھے کی طرف کمرے میں لے گیا تاکہ وہ اپنے بھائی کو نہ دیکھ سکے۔ باپ نے زخم پر ہاتھ رکھا اور درد ختم ہوگیا۔ اس نے اسے وہیں تھام لیا جب ڈاکٹر نے ٹانکے لگائے۔ (اس وقت بے ہوشی کی چیزیں نہیں سنی گئیں)۔ ڈاکٹر نے سوچا کہ اس کے بارے میں کوئی نہایت ہی حیرت انگیز اور حیرت انگیز بات ہونی چاہئے۔‘‘

(40) ’’مسز ایڈی کی 1866 کی دریافت سے پہلے سال کے دوران ، جب وہ ڈاکٹر کوئمی کی عیادت کر رہی تھیں ، تو انہوں نے اپنے متعدد مریضوں کا علاج کیا۔ ایک شخص جو مر رہا تھا ، اسے اس ہوٹل میں لایا گیا تھا جس میں وہ رہ رہا تھا۔ ان کی اہلیہ انہیں کینیڈا میں اپنے پرانے گھر لے جارہی تھی۔ ٹرین میں موجود ایک ڈاکٹر نے مشورہ دیا کہ جیسے ہی ٹرین اگلے اسٹیشن پر پہنچی ، اسے مشورہ دیا کہ اسے قریب ہی واقع ہوٹل میں لے جایا جائے۔ اس کے پہنچنے کے فورا بعد ہی وہ چل بسا۔

’’مسز ایڈی ، جو ہوٹل میں تھی اور اس کے بارے میں سنا ، سوگوار بیوی کے دروازے پر گیا اور دستک دی۔ خاتون نے دروازہ کھولا ، اور مسز ایڈی نے اسے تسلی دینے کی کوشش کی۔ اس نے کہا ، ’چلیں ہم اسے جاگیں۔‘ وہ چلے گئے ، اور وہ کچھ منٹ اس کے ساتھ کھڑی رہی اور اپنی اہلیہ کو بتایا کہ وہ جاگ رہا ہے ، اور اسے قریب آنا چاہئے تاکہ جب اس نے آنکھیں کھولیں تو اس نے اسے دیکھ لیا جو اس نے جلد ہی کیا۔ اس نے اپنی بیوی سے کہا ، ’اوہ! مارتھا ، گھر میں رہنا اتنا عجیب تھا اور آپ وہاں نہیں تھے ، ‘اور اس نے اپنے والدین اور کنبہ کے دوسرے افراد سے ملنے کے بارے میں بات کی جو اس سے قبل فوت ہوگئے تھے۔ مسز ایڈی تین دن وہاں مقیم رہیں ، اور اسی دوران وہ زندہ رہے۔‘‘

(41) ’’مسز ایڈی کے علاج کے ابتدائی دنوں میں ، سن 1866 کی ان کی دریافت کے بعد ، وہٹئیر ، شاعر ، بیمار اور سمجھے جانے لائق ، موروثی مرض کے سبب انتقال کر رہی تھیں۔ روحانیت پسندوں نے اس کا علاج کرنے کی کوشش کی تھی اور ناکام ہوگئے تھے۔ مسز ایڈی کو ان کی مدد کے لئے بلایا گیا تھا ، اور وہ ایک دم ٹھیک ہو گئے تھے۔‘‘

(42) ’’جب ایک صبح ناشتے کے لئے نیچے جا رہے تھے ، تو میں نے ہاؤس کیپر ، مس مورگن سے ملاقات کی ، اور اس نے مجھے بتایا کہ جس کسان نے مسز ایڈی کا دودھ پلایا تھا ، وہ اس دن صبح آکر بہت پُر وقار تھا۔ اس نے کہا کہ اس کا کنواں خشک تھا۔ اتنا سخت سردی تھی کہ سب کچھ جم گیا تھا ، اور اسے کچھ دور ہی ایک ندی یا دریا میں جانے کا پابند تھا۔ اس نے اپنی ویگن میں بیرل رکھے تھے ، جو اس نے دریا سے برف اور برف سے بھرا تھا ، اور گھر پگھل گیا ، تاکہ اس کی گائوں کے لئے پانی ہو۔ یہ بہت مشکل کام تھا۔ اس میں ایک لمبا عرصہ لگا اور وہ بہت تکلیف میں تھا۔ اس دن کے دوران ، میں نے ماں سے ان کی مشکلات کا ذکر کیا ، اسے صرف یہ بتایا کہ کیا ہوا تھا۔ وہ مسکرا کر بولی ، ’ اوہ ، اگر وہ صرف جانتا ہوتا ‘؛پھر ایک لمحے کی خاموشی کے بعد ، ’محبت اس میں بھر دیتی ہے۔‘ اگلی صبح جب کسان دودھ لے کر آیا تو وہ بہت خوش ہوا ، اور مس مورگن کو بتایا کہ کیا حیرت انگیز بات ہوئی ہے۔ اس صبح سویرے جب وہ چوپایوں میں شریک ہونے گیا تھا تو اس نے اچھی طرح سے پانی سے بھرا ہوا پایا تھا ، اس کے باوجود سردی کے دن کے باوجود ہر طرف برف اور برف پڑ رہی تھی ، اس نے کہا کہ یہ مسز ایڈی کی دعائیں ضرور ہوں گی جس نے یہ سب کیا تھا۔ اسے اس کے ساتھ کچھ کرنا پڑے گا کیونکہ یہ ایک معجزہ تھا۔ مسز ایڈی کے لئے ان کی بہت بڑی عزت تھی حالانکہ وہ کرسچن سائنس دان نہیں تھے۔ اس دن ، جب ہم عشائیہ کر رہے تھے ، میں نے ماں کو بتایا کہ کیا ہوا ہے اور اس شخص نے کیا کہا۔ اوہ! اس کے چہرے کی خوشی اور مٹھاس ، روشن اور محبت کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ اس کا خدا کے لئے تعریف اور اظہار تشکر شاندار تھا ، اور اس نے کہا ، ‘اوہ! مجھے نہیں معلوم تھا۔ ‘‘

(43) ’’اس نے مجھے چند سال کے ایک بچے کے بارے میں بتایا ، جس کی ماں اسے یقین کر کے اس کے پاس لے آئی تھی۔ اسے اپنے بازوؤں میں کڑا بڑھایا گیا تھا ، اور اس نے اسے مسز ایڈی کی گود میں رکھ دیا تھا۔ مسز ایڈی نے دیکھا کہ والدہ بہت مشتعل ہیں ، اور اس نے چھوٹے بچے کو کچھ وقت کے لئے اپنے ساتھ چھوڑنے اور بعد میں واپس آنے کو کہا۔ جب والدہ نے انھیں چھوڑا تو ، مسز ایڈی حقیقت ، روحانی حقیقت کو بھانپ کر بیٹھیں جب یہ خدا کے تمام بچوں پر لاگو ہوتا ہے۔ اور تھوڑی دیر بعد اس نے دیکھا کہ بچہ اس کی گود میں بیٹھا ہوا اس کے چہرے کو دیکھ رہا ہے۔ پہلی بات جو انہوں نے کہی تھی ، وہ تھا ، ’میں ٹک ہوں۔‘ اور مسز ایڈی نے کہا ،’نہیں ، آپ بیمار نہیں ہیں ، آپ ٹھیک ہیں۔‘ لیکن اس نے متعدد بار دہراتے ہوئے کہا ، ’میں ٹک ہوں‘ ، اور اسے بہت ناراض معلوم ہوتا تھا اور اس نے اس پر حملہ کرنے کی کوشش کی یہاں تک کہ وہ اٹھ کھڑی ہوئی اور اسے کھڑا کرنے کے لئے نیچے رکھ دیا ، جبکہ اس نے سچ ، زندگی اور اس سے محبت کی بات کی۔ ایک وقت کے بعد ، جب وہ مطیع تھا ، تو وہ رونے اور رونے لگے۔ جب اس نے دیکھا کہ وہ سچ کی طرف آرہا ہے تو اس نے اسے دوبارہ اپنی گود میں لے لیا ، اور اس سے پیار اور شفقت سے بات کی اور اسے تسلی دی۔ جلد ہی دروازے پر دستک کی آواز سنائی دی اور اس نے کہا ، ’یہ ما ما ہے۔ جاؤ اور اس سے ملو۔‘ وہ بھاگ کر دروازے کی طرف گیا ، اور جیسے ہی اس کی والدہ اندر آئیں ، وہ گر گئیں اور انہیں مدد کی ضرورت تھی۔ جو چیز اسے حیرت زدہ کرتی تھی ، اس سے بھی بڑھ کر کہ وہ زندہ تھا ، وہ چل رہا تھا ، کیوں کہ اس نے پہلے کبھی ایسا نہیں کیا تھا۔ وہ پیدائش سے ہی مفلوج ہو چکا تھا۔‘‘

(44) ’’ایک دن ایک خاتون اپنی بیٹی کو مسز ایڈی کے پاس لے گئیں اور بولی نہ ہونے کی وجہ سے اسے اپنے ساتھ چھوڑنے کو کہا۔ بچی کی ہر ممکن مدد کرنے کے بعد ، بظاہر تھوڑا سا اثر پڑنے کے بعد ، اس کے ساتھ کسی اور طرح سے اس کا تجربہ کرنے کا واقع ہوا ، اور اس نے اس سے کہا ، ’ٹھیک ہے ، مجھے لگتا ہے کہ آپ بات نہیں کرتے کیوں کہ آپ بات نہیں کرسکتے ہیں۔‘ فوراً ہی لڑکی نے اس کا جواب دیا ، ’میں بات کرسکتا ہوں اور میں بات کرسکتا ہوں ، اور میں اتنا ہی بات کروں گا ، جتنا مجھے پسند ہے اور آپ مجھے روک نہیں سکتے ہیں۔‘ لہذا مسز ایڈی گونگی کے شیطان سے علاج ہو کر اپنے والدین کے پاس گھر بھیجنے میں کامیاب ہوگئیں۔‘‘

(45) ’’ایک آدمی تھا جو بہرا اور گونگا تھا ، جسے مسز ایڈی نے ان تکلیفوں سے شفا بخشا۔ اس شخص نے مجھ سے متعدد بار بات کی ہے اور اس کی تقریر اور سماعت بالکل درست ہے۔‘‘

(46) ’’ماں نے مجھے بتایا کہ جب وہ پہلی بار چکرنگ ہال میں تبلیغ کررہی تھیں ، نگراں اپنی بیٹی کو لے آئیں ، جو کھانسی میں مبتلا تھا اور اسے کھانسی کی تکلیف تھی۔ جماعت کے عمارت چھوڑنے کے بعد وہ اختتامی نشستوں میں سے ایک پر اپنے والد کا انتظار کر رہی تھی۔ جب مسز ایڈی گلیارے سے نیچے گئیں تو ، اس نے روشن لڑکی کو دیکھا اور دیکھا کہ وہ کتنی بیمار نظر آرہی ہے۔ وہ رک گئی اور بچے سے بات کی اور اس سے کہا ، ’کیا آپ جانتے نہیں ، پیارے ، آپ کو کھانسی کے لئے کوئی پھیپھڑا نہیں ہے ، کھا نہیں ہے؟ تم خدا کے بچے ہو‘؛ اور اس نے اس سے سچائی کی اور اسے بتایا کہ وہ خدا کے خیال کی طرح کیا ہے ، اور یہ جاننے کے لئے کہ وہ خیریت سے ہیں۔ اور بچہ نے کھانسی بند کردی اور فوری طور پر صحت یاب ہو گیا۔ جب اس کے والد اسے گھر لینے آئے تو وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ وہ خیریت سے ہیں۔‘‘

(47) ’’ایک دن ، ایک آدمی ، جس نے اسے بہت اونچائی سے کود دیکھا تھا ، اسے دیکھنے کے لئے بلایا۔ اسے تاریک چشمیں پڑ رہی تھیں۔ اس نے اس سے پوچھا کہ جب اس نے چھلانگ لگائی تو وہ ڈر نہیں رہا تھا۔ اس نے اسے سمجھایا کہ اگر اس سے خوف طاری ہوگیا کہ چھلانگ بہت زیادہ ہے تو وہ مارا جائے گا۔ کچھ وقت اس کے ساتھ انتہائی آسمانی انداز میں گفتگو کرنے کے بعد ، کسی کو اپنے چہرے کے تاثرات سے معلوم ہوسکتا تھا کہ وہ ذہنی طور پر کتنا روشن ہے۔ پھر اس نے پھر سے شروعات کی ، اور اس سے اپنے خوف کی کمی کے بارے میں اس سے بات کی ، وہ اب بھی اس بات پر زور دے رہا ہے کہ کودتے وقت اسے کوئی خوف نہیں تھا - اسے معلوم تھا کہ وہ یہ کرسکتا ہے۔ اس نے اس سے کہا ، ‘کیوں وہی اصول اپنی آنکھوں پر نہیں لگاتے ہیں؟‘ ایک جس نے اسے بتایا کہ وہ ایک حادثے کے سبب تباہ ہوگیا تھا۔ دوسرا ٹھیک تھا ، لیکن اس نے بری نظر کو چھپانے کے لئے سیاہ چشمیں پہنی تھیں۔ وہ لائبریری میں بیٹھے تھے ، اور جب اس نے اس سے بات کی تھی تو میں دیکھ سکتا تھا اور محسوس کرتا تھا کہ اس کا خوف دور ہو گیا ہے ، اور اس کی فکر امید اور خوشی سے بھرپور ہے ، حالانکہ اسے اس نعمت کا احساس نہیں ہوا تھا جسے اس نے حاصل کیا تھا۔ ایک یا دو دن بعد ، اس کیماکی نے جس نے اسے اسٹیشن پہنچایا ، وہاں اطلاع دی کہ جب وہ اسٹیشن پہنچا تو اس کی دو کامل نگاہیں تھیں۔‘‘

(48) ’’ایک دن ، جب میں مسز ایڈی کے ڈکٹیشن پر لکھ رہا تھا ، اس نے مجھے مسٹر فرائے کو ایک پیغام کے ساتھ بھیجا ، جو اپنے کمرے میں موجود تھے۔ جب میں دروازہ پہنچا ، جو کھلا ہوا تھا ، میں نے اسے قالین پر پشت پر پڑے ہوئے دیکھا ، جو ظاہر تھا بے جان تھا۔ میں مسز ایڈی کے پاس لوٹ گئیں اور انھیں یہ کہتے ہوئے بتایا ، ’ایسا لگتا ہے جیسے وہ بے ہوش ہو گیا ہے۔‘ وہ فورا. اٹھی اور ہم دونوں اس کے کمرے میں چلے گئے۔ اس نے اس کے پاس گھٹنے ٹیکے ، بازو اٹھایا ، جو گر گیا تھا۔ اس کے بعد وہ اس سے باتیں کرنے لگی۔ میں اس کے لئے دعا کرتا رہا تھا ، لیکن اس نے جو کہا اسے وحی تھی جس پر میں نے حیرت سے سنا۔ اس طرح کے آسمانی الفاظ اور کوملتا ، محبت کا ایسا اظہار جو میں نے کبھی نہیں سنا تھا ، اسے خدا کے ساتھ انسان کے رشتے کی حقیقت بتاتے ہوئے۔ تھوڑی دیر کے بعد اس نے اپنی آنکھیں کھولیں ، اور جیسے ہی ماں نے دیکھا کہ وہ ہوش میں آرہا ہے ، اس کی آواز بدلی ، اور انتہائی سختی سے اس نے اس غلطی کو ڈانٹا جس سے لگتا ہے کہ اس پر حملہ آور ہو رہا ہے۔ ضرورت کے مطابق اس کی آواز اور انداز اتنا مختلف تھا کہ میں بہت متاثر ہوا۔

’’فی الحال اس نے اسے اپنے پیروں تک اٹھنے کو کہا ، اور اس کو اٹھنے میں مدد کے لئے اس کا ہاتھ دیا۔ پھر وہ مڑ کر کمرے سے باہر ، نیچے سے گزر گئی جہاں سے وہ بیٹھا ہوا تھا۔ جب اس نے پکارا ، ’کیلون ، یہاں آجاؤ!‘ وہ اس کے پیچھے چلا گیا۔ اس نے اسے بیدار کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کئی منٹ اس سے بات کی۔ تب اس نے کہا ، ’اب آپ اپنے کمرے میں واپس جاسکتے ہیں‘ ، لیکن اس کے داخل ہونے سے پہلے اس نے اسے دوبارہ بلایا اور اس سے بات کی ، اور یہ بات کئی بار دہرائی گئی۔

’’میں نے کہا ، ’اوہ ، ماں ، کیا آپ اسے چند منٹ کے لئے بیٹھنے نہیں دے سکتے؟’اس نے کہا ، ‘نہیں ، اگر وہ بیٹھ جاتا ہے تو وہ دوبارہ جاگ نہیں سکتا - اسے ضرور بیدار کیا جانا چاہئے - ہمیں اسے مرنے نہیں دینا چاہئے - وہ ابھی تک بیدار نہیں ہیں۔ ‘وہ اس سے دوبارہ باتیں کرنے لگی اور اسے اس وقت کی یاد دلانے لگی جب مارتھا اور مسز فری نے ساتھ نکالا اور وہ دن وہاں گزارا ، اور وہ اسے اس دن کے تجربات یاد دلانے لگی۔ یہ اس کے پاس پہنچا ، اور اس نے کہا ،’تم کیلنوی نہیں بھولے؟‘ اور اس نے کہا ،’نہیں ، ماں!‘ ، اور دل سے ہنس دی۔ تب اس نے اس سے سچائی کے بارے میں مزید باتیں کیں اور اسے بتایا کہ وہ واپس اپنے کمرے میں جاسکتا ہے اور اس بار ،’دیکھو‘۔

’مسٹرفرائے اس تجربے کے بعد ایک بدلا ہوا آدمی تھا ، جس کا انہوں نے کبھی حوالہ نہیں کیا۔‘‘

(49) ’’مسز ایڈی کے گھر پر ، موسم ، طوفان ، وغیرہ پر غلبہ حاصل کرنا دوسرے مادی حالات کی طرح ہی تھا۔ ایک بار ، ایک طویل عرصے سے خشک سالی کے بعد ، مسز ایڈی کی نگاہ سے اور دعا مانگتے ہوئے یہ حالت قبول ہوگئی ، اس کا اثر بارش ہو رہا تھا ، جب کبھی آسمان میں بادل نظر نہیں آتا تھا۔

’’سال کے کچھ حصے کے دوران ، کبھی کبھی کونکورڈ میں طوفانوں کا تجربہ کیا جاتا تھا۔ اور ایک دن مس مورگن میرے پاس آئی اور کہا کہ بادل جمع ہو رہے ہیں ، اور خوفناک طوفان آنے والا ہے۔ اور اس نے مجھے اپنے کمرے کی کھڑکیوں سے دیکھنے کے لئے بلایا ، جو گھر کے آخر میں تھا ، اصطبل کی طرف دیکھ رہا تھا۔ اوپر ، میں نے سیاہ بادلوں کو دیکھا جو لگتا ہے کہ بہت تیزی سے ہماری طرف آرہا ہے ، اور جیسا کہ والدہ نے مجھے بتایا تھا کہ جب بھی میں نے کسی طوفان یا طوفان کو آتے دیکھا تو مجھے اسے ضرور بتانا ہوگا ، میں فوراً اس کے کمرے میں گیا اور اسے بتایا۔ وہ اٹھی اور گھر کے پچھلے حصے میں برانڈ میں گئی۔ اس وقت تک ، بادل سر کے اوپر پہنچ چکے تھے۔ اس کے بعد وہ سامنے والے بستی میں گئی اور گھر کے اس طرف دیکھا۔ پھر وہ برآمدہ میں لوٹ گئ۔ میں نیچے کی طرف بھاگ کر سامنے کے دروازے تک گیا ، اسے کھولا اور باہر چلا گیا۔ میں نے نظر اٹھا کر دیکھا کہ گھر پر بادل لٹکے ہوئے ہیں ، بہت بھاری ، سیاہ بادل ، اور گھر کے بیچ وسط میں ، ایک درار تھا۔ وہ تقسیم ہورہے تھے - حصہ ایک راستہ اور دوسرا حصہ مخالف سمت جارہا تھا۔ ایسا لگتا تھا کہ یہ کوئی عجیب و غریب واقعہ ہے۔ میں اندر گیا ، دروازہ بند کیا اور والدہ کے اوپر ماں کے پاس گیا ، اور میں نے اسے کیا بتایا۔ میں نے کہا ، ’بادل صرف سر کے اوپر تقسیم ہورہے ہیں۔‘ اس نے مجھ سے کہا ،’بادل! آپ کا کیا مطلب ہے؟ کیا کوئی بادل ہیں؟ ‘میں نے کہا ،’ نہیں ماں۔‘ وہ نگاہ اٹھا رہی تھی ، اور میں اس کے چہرے پر اظہار خیال کرکے دیکھ سکتا تھا کہ وہ بادلوں کو نہیں دیکھ رہی تھی بلکہ سچائی کا ادراک کر رہی ہے۔ میں نے دیکھا کہ کالے بادلوں نے انڈگو کو تبدیل کیا ، انڈگو کو ہلکے بھوری رنگ ، ہلکی مٹی سے سفید فیلی رنگ بادل جو تحلیل ہوگئے ، اور وہ اب باقی نہیں رہے۔ اور اس نے مجھ سے کہا ’خدا کے چہرے کو چھپانے کے لئے کوئی بادل نہیں ہیں ، اور ہمارے اندر روشنی کی کوئی چیز نہیں آسکتی ہے۔ یہ الہی محبت کا موسم ہے۔ ‘

’’وہ شام کا وقت تھا۔ ہوا بہت خوفناک طور پر چل رہی تھی ، اور مسٹر فرائی اور ایک اور شریف آدمی اٹاری میں تھے کہ ایک بڑے امریکی پرچم کو کھینچنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ یہ تہوار کا دن تھا ، اور ایک شریف آدمی نے جھنڈا مسز ایڈی کو بھیج دیا تھا۔ یہ بہت بڑا تھا ، اور مسٹر فرائی اور اس دوست نے اسے نیچے کھینچنے کی کوشش کی تھی ، اور ان دونوں افراد کی طاقت کافی نہیں تھی۔ لیکن اچانک ہوا ختم ہوگئی ، اور جھنڈا نکل گیا۔ اگلی صبح ، صبح ، جب میل پہنچا تو ، ڈاکیا یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ باغ میں کچھ بھی پریشان نہیں ہوا ہے ، کیونکہ سڑک کے نیچے اور شہر میں تھوڑا سا فاصلہ بہت بڑا نقصان تھا۔‘‘

(50) ’’ایک دن ، جب مسز ایڈی نے اس کلاس کو سبق دینا ختم کیا جس میں میں ایک ممبر تھا ، اس نے مجھ سے دوسرے ممبروں کے جانے کے بعد رہنے کو کہا۔ جب وہ کلاس روم میں ہی کھڑی تھی ، ایک شریف آدمی نے اسے دیکھنے کے لئے بلایا ، اور وہ اپنی بہن کو اپنے ساتھ لائے ، جسے شفا یابی کی بہت ضرورت تھی۔

’’مسز ایڈی نے کمرے کے دروازے پر ان سے ملاقات کی ، اور اسے نیچے بیٹھنے کا کہا ، جبکہ اس نے اپنی بہن سے بات کی۔ یہ عقیدہ پاگل پن تھا اور وہ گھبرا گیا تھا۔ مسز ایڈی نے مجھے بتایا کہ اس کا وہم یہ تھا کہ ایک سانپ اس کے جسم کے گرد گھیرا ہوا تھا اور اسے کچل رہا تھا۔ میں حیرت سے کھڑا ہوا ، مسز ایڈی کا چہرہ دیکھتے ہی دیکھتے فرش پر گر پڑی اس عورت کی طرف چیخ چیخ کر کہا ، ’یہ مجھے کچل رہی ہے ، اس نے مجھے مار ڈالا ہے۔‘ مسز ایڈی نے اوپر کی طرف دیکھا ، گویا اس نے خدا کے ساتھ اپنی گفتگو میں کسی فرشتہ کا چہرہ دیکھا ہو۔ ایک لمحے میں اس نے عورت سے کہا ، ’کیا یہ چل گیا ہے؟‘ لیکن اس کا کوئی جواب نہیں ملا۔ مسز ایڈی نے اپنا سوال دہرایا لیکن پھر بھی خاتون ایسا نہیں سنی۔ پھر وہ اتھارٹی کے ساتھ بولی اور پوچھا ، ’کیا ہوچکا ہے؟‘ اور بیچاری عورت نے اوپر دیکھا اور اس کا جواب ملتے ہی اس کا سارا جسم لرز اٹھا اور کانپ رہا تھا ، ’’ہاں!‘‘ میں نے امن کی خوشی اور خوشی تک اس کے چہرے پر آنے والی اظہار کی تبدیلیاں دیکھی۔ اور اوہ! مسز ایڈی کے چہرے پر اس محبت کا اظہار کیا گیا جیسے ہی اس نے اسے نیچے دیکھا ، دونوں بازو پھیلا اور اسے یہ کہتے ہوئے اٹھایا ،’اٹھو ، پیارے۔‘ تب ہمارے پیارے استاد نے اس محتاج کا سر اس کے کندھے پر لے لیا اور اس کے چہرے پر تھپتھپایا ، جب اس نے پیار سے اس سے سچائی کی بات کی۔ اس کے بعد مسز ایڈی کمرے سے باہر چلی گئیں اور بھائی سے بات کی - جو اپنی بہن کو گھر لے گیا تھا - اور پھر مجھ سے اس کے ساتھ کھانے کا مطالبہ کرنے ، اور اس کے ساتھ گانے کے لئے کہا۔ شام کے وقت وہ میری طرف متوجہ ہوئی اور کہا ، ’تم نے دیکھا آج اس عورت کے ساتھ کیا ہوا؟ ٹھیک ہے ، وہ پھر کبھی اس دنیا میں پاگل نہیں ہوگی۔‘ اور وہ نہیں رہی۔‘‘

ضمیمہ

یہاں درج شدہ شفایابیاں تھوڑی تھوڑی تبدیلی کے ساتھ درج ذیل وسیلوں سے لی گئی ہیں:

گولڈن میموریز ، کلارا شینن کیطرف سے۔ یہ یادیں انیسویں بیسویں میں سب سے پہلے گردش میں تھیں ، جب مس شینن ابھی انگلینڈ کے لندن میں تعلیم اور شفا بخش تھیں۔ (شفا یابیاں 39-50)

کورس برائے الوہیت پر نوٹس ، متعدد طلباء کے ذریعہ ریکارڈ کیے گئے جنہوں نے مسز ایڈی کو اپنے خوشگوار ویو گھر میں پیش کیا۔ گلبرٹ سی کارپینٹر ، جونیئر ، سی ایس بی ، نے 1933 میں نجی طور پر طباعت کی۔ (شفا یابیاں 32-38)

کلیکٹنیا ، نوٹوں اور واقعات کا مجموعہ ، اور مسز ایڈی کے ذریعہ بولے ہوئے الفاظ اور اس کے ساتھ قریب سے وابستہ طلباء نے ریکارڈ کیا۔ 1938 میں ، نجی طور پر گلبرٹ سی کارپینٹر ، جونیئر ، نے طباعت کی۔ (شفا یابیاں 2-6 ، 8-19)

صحت مند 23-30 سائنس اور صحت کے ابتدائی ایڈیشن ، 1875 ، 1878 اور 1888 کے ایڈیشن سے ہیں۔

شفایابیاں 1، 7 اور 20-22 پانچ متفرق ذرائع سے ہیں۔

کتابیات

مندرجہ ذیل ، اگرچہ ایک مکمل کتابیات نہیں ہے ، مسز ایڈی کے بارے میں ان کی مناسب کتابوں کی ایک پوری طرح سے جامع فہرست سازی ہے تاکہ قاری کو ان کی زندگی ، اس کے کارناموں اور دنیا کے لئے اس کے پیغام کے بارے میں کچھ معلومات حاصل ہوسکے۔

سائنس اور صحت آیات کی کنجی کے ساتھ،, مسز ایڈی کی کرسچن سائنس پر نصابی کتاب۔ پہلا 1875 میں شائع ایڈیشن؛ آخری ترمیم ، 1910۔ (700 صفحات)

متفرق تحریریں، بذریعہ مسز ایڈی۔ پہلی بار 1896 میں شائع ہوا۔ (470 صفحات)

مایوسی اور خود کشی ، منجانب مسز ایڈی۔ جزوی طور پر خود نوشتیاتی اور جزوی طور پر اس کا روحانی موقف معیاری حامل کی حیثیت سے۔ پہلی بار 1891 میں شائع ہوا۔ (95 صفحات)

میری بیکر ایڈی کی زندگی ، ایک اخبار کی رپورٹر اور رومن کیتھولک سبیل ولبر کی سوانح عمری جب اس نے پہلی بار مسز ایڈی سے ملاقات کی۔ پہلی بار 1907 میں شائع ہوا۔ (400 صفحات)

مسز ایڈی نے آرتھر برسبین سے کیا کہا ، مسز ایڈی کے ساتھ نامور یہودی صحافی کا ایک انٹرویو ، جس میں پہلی بار کاسمپولیٹن میگزین ، اگست ، 1907 میں شائع ہونے والے مضمون کے طور پر سامنے آیا تھا۔ کتاب پہلی بار 1930 میں شائع ہوئی تھی۔ (60 صفحات)

میری بیکر ایڈی ، ایک لائف سائز پورٹریٹ ، پاپائی وزیرپال ، لیمان پی پاول کی تحریر۔ پہلی بار مصنف کی پچیس سال کی تحقیق کے بعد میک میکلن کمپنی نے 1930 میں شائع کیا۔ (300 صفحات)

بارہ سال میری بیکر ایڈی کے ساتھ ، ارونگ سی ٹاملنسن نے ، بارہ برسوں کے دوران مصنف کی یادوں اور تجربات کو پیش کیا جس میں انہوں نے کرسچن سائنس قائد کی کئی صلاحیتوں میں خدمت کی۔ پہلی بار 1945 میں شائع ہوا۔ (220 صفحات)

ہم نے میری بیکر ایڈی کو جانا ۔ چار جلدوں کا یہ سلسلہ مسز ایڈی کے طلباء کے مجموعی طور پر اٹھارہ مضامین پر مشتمل ہے جو اس کی تعلیم کے تحت بیٹھے تھے اور روح کی موجودگی اور طاقت کو محسوس کرتے تھے ، جیسا کہ ان کے شعور میں محترمہ ایڈی کی واضح بصیرت سے باتوں پر روشنی پڑتی ہے۔ خدا کی - مسیح روح کے اس کی شاندار نمائندگی میں. یہ چندلوگ ، دوسروں کے درمیان ،اْس کے لئےویسے ہی تھے جیسے شاگرد یسوع کے لئے تھے۔ کرسچن سائنس پبلشنگ سوسائٹی نے 1943 ، 1950 ، 1953 اور 1972 میں شائع کیا۔

مذکورہ کتابیں عوامی لائبریریوں سے قرض لی جاسکتی ہیں یا کرسچن سائنس پبلشنگ سوسائٹی ، ون ناروے اسٹریٹ ، بوسٹن ، میساچوسٹس 02115 سے خریدی جاسکتی ہیں۔

مندرجہ ذیل عام طور پر لائبریریوں میں یا پبلشنگ سوسائٹی سے دستیاب نہیں ہیں۔

مسز ایڈی ، اس کی زندگی ، اس کا کام ، تاریخ میں اس کا مقام ، انگریزی میں پیدا ہوا ، انگریزی میں پیدا ہوا ، کرسچن سائنس مانیٹر کے غیر ملکی ایڈیٹر ، دس برسوں سے ہیوگ اسٹوڈرٹ کینیڈی کے ذریعہ۔ کرسچن سائنس اور منظم مذہب کے مصنف بھی۔ پہلی بار 1947 میں شائع ہوا۔ (500 صفحات) پلین فیلڈ کرسچن سائنس چرچ ، آزاد ، [www.PLininfieldcs.com] ((http://www.plainfieldcs.com پی او باکس 5619 ، پلین فیلڈ ، این جے 07061-5619۔

صلیب اور تاج ، بذریعہ نارمن بیسلی ، ایک آزاد لینس مصنف اور کرسچن سائنس دان نہیں۔ مسز ایڈی کے انتقال کے وقت تک یہ کرسچن سائنس کی تاریخ ہے۔ اس میں ابتدائی مسیحی تحریروں کا ایک مختصر ضمیمہ بھی شامل ہے ، اس سے پہلے 300 اے ڈی۔ ڈویل ، سلوین اور پیئرس کے ذریعہ 1952 میں شائع ہوا۔ (600 صفحات) کتاب اسٹورز اور کچھ عوامی لائبریریوں سے حاصل شدہ۔

ہاؤتھورن ہال سے ، بذریعہ ولیم لیمن جانسن۔ 1922 میں شائع ہوا۔ یہ ایک تاریخی ناول ہے جو اس وقت کی ایک دلچسپ کہانی پیش کرتا ہے جب مسز ایڈی کا اثر اپنے عروج کے قریب تھا۔ مصنف کے والد محترمہ ایڈی کے ساتھ کئی سالوں سے قریب سے منسلک تھے ، وہ اپنے چرچ میں اہم عہدوں پر فائز ہیں۔ (400 صفحات)

جرمنی میں کرسچن سائنس ، منجانب فرانسس تھربر سیل۔ اس سے 1898 میں جرمنی میں کرسچن سائنس کے تعارف کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ جرمنی میں شفا یابی کا یہ کام ابتدائی کارکنوں کے تمام مسیح کی شفایابیاں اور الہی تجربات میں سب سے حیرت انگیز تھا۔ پہلی بار 1931 میں شائع ہوئی۔ (85 صفحات) پلاین فیلڈ کرسچن سائنس چرچ ، آزاد ، www.plainfieldcs.com ، پی او سے دستیاب ہے۔ باکس 5619 ، پلین فیلڈ، این جے 07061-5619۔

مریم بیکر ایڈی ، اس کے روحانی نقش قدم ، گلبرٹ سی کارپینٹر اور گلبرٹ سی کارپینٹر جونیئر۔ یہ کتاب ان لوگوں کے لئے دلچسپی کا باعث ہوگی جو کرسچن سائنس کے بارے میں پہلے ہی کچھ قابل فہم تفہیم حاصل کرچکے ہیں ، اور مسز ایڈی کے بارے میں مزید حقیقت سیکھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں جو انہوں نے سکھایا تھا۔ مسٹر کارپینٹر ، سینئر ، نے سن 1905 میں مسز ایڈی کی سکریٹری کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ نجی طور پر 1934 میں طباعت شدہ۔ (400 صفحات) پلین فیلڈ کرسچن سائنس چرچ ، آزاد ، [www.plainfieldcs.com] سے دستیاب ہے (https://www.plainfieldcs.com) پی او باکس 5619 ، پلین فیلڈ ، این جے 07061-5619۔

شفا کے لئے خدا کی طرف رجوع کریں

اگر آپ نہیں جانتے کہ خدا کی طرف رجوع کرنا ہے تو ، اس پرچے سے آغاز کریں۔ یہ حوصلہ افزا حقائق پیش کرتا ہے اور مزید معلومات کے لئے کافی حوالہ دیتا ہے۔

کوئی بھی اس موضوع پر اتھارٹی نہیں ہے۔ یہاں تک کہ میڈیکل ڈاکٹر صرف وہ بہتر کام کرسکتے ہیں جو انھیں معلوم ہے۔ لیکن اب بہت سارے ہزاروں ذہین لوگ روحانی تندرستی کے بارے میں زیادہ سے زیادہ سیکھ رہے ہیں ، اور اس کے نتیجے میں دوائی کے بجائے خدا کی طرف رجوع کر رہے ہیں ، یہاں تک کہ ابتدائی مسیحی بھی۔

سائنس اور دریافت کے ہمارے جدید دور میں ، میری بیکر ایڈی نے روحانی تندرستی کے لئے ایک سائنسی نقطہ نظر تیار کیا اور عموما ًخدا کی چیزوں کے لئے ایک زیادہ منطقی نقطہ نظر بھی بنایا۔

کچھ اسے مذہب کہتے ہیں۔ دوسرے لوگ اسے سوچنے اور رہنے کا ایک نیا طریقہ کہتے ہیں۔ اس سے قطع نظر جو بھی ہم اسے کہتے ہیں ، یہ یقینی طور پر زندگی ، اس کی بنیادی نوعیت اور اس کے لامحدود امکانات کو سمجھنے کا ایک بہتر ذریعہ پیش کرتا ہے۔

دریافت خود کریں۔ پھر اس کی پیروی کریں۔ یہ نظر انداز کرنا بہت قیمتی ہے!